بلوچستان کا دورہ: عوام نے سہیل آفریدی کو ٹھینگا کیسے دکھایا

 

 

 

پنجاب کے بعد بلوچستان کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کی احتجاجی اور جارحانہ طرز سیاست کو مسترد کر دیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا حالیہ دورۂ کوئٹہ سیاسی توقعات پر پورا اترنے میں یکسر ناکام دکھائی دیا، جہاں نہ تو عوامی جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور نہ ہی جلسہ عام کوئی بڑا سیاسی اثر چھوڑنے میں کامیاب رہا۔ سہیل آفریدی کی استقبالیہ تقریبات اور جلسہ عام میں یوتھیوں کی محدود شرکت، کارکنوں کی کمزور موجودگی اور بلوچستان میں تنظیمی چیلنجز نے اس دورے کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف تنظیمی لحاظ سے غیر مؤثر ثابت ہوا بلکہ اس سے پارٹی کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سہیل آفریدی کے بلوچستان کے ناکام تنظیمی دورے نے پارٹی کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے،بالخصوص عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ احتجاجی تحریک سے قبل اس دورے کی ناکامی کو پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اندرونی مایوسی اور سیاسی چیلنجز کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ 24 مارچ کےروز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تاہم کراچی کے برعکس کوئٹہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال محدود پیمانے پر ہوا، جہاں چند پارٹی رہنماؤں اور سرکاری حکام کے علاوہ اکا دکا کارکنان ہی نعرے لگاتے اور جھنڈے لہراتے دکھائی دئیے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی صوبائی اور مرکزی قیادت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم شرمندگی کا یہ سلسلہ جلسہ عام تک برقرار رہا کیونکہ سہیل آفریدی کے دورے کے دوران ضلع پشین میں منعقدہ جلسہ عام کو خاص اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم جلسے میں عوامی شرکت توقعات سے کم رہی زیادہ تر پی ٹی آئی کارکنان جلسے سے لاتعلق دکھائی دئیےعینی شاہدین کے مطابق جلسہ گاہ میں خالی کرسیاں نمایاں تھیں اور شرکاء کی تعداد محدود رہی، جس کی وجہ سے جلسہ عام کوئی بھی سیاسی تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سہیل آفریدی کا دورہ بلوچستان ناکام کیوں رہا؟ دورے کی ناکامی کے پی ٹی آئی کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

 

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پاکستان تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوری سہیل آفریدی کے دورے کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر پارٹی کا مضبوط ڈھانچہ موجود نہیں، جس کے باعث بڑے عوامی اجتماعات منعقد کرنا پارٹی کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں پہلے سے موجود مضبوط علاقائی و قوم پرست جماعتوں نے بھی پی ٹی آئی کے لیے سیاسی جگہ کو محدود کردیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے بقول سہیل آفریدی کا دورہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا تھا، جس کا مقصد سیاسی روابط کو بڑھانا تھا، تاہم عوامی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کو بلوچستان میں اپنی جگہ بنانی ہے تو اسے صرف وقتی دوروں پر انحصار کی بجائے مستقل اور منظم سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دینی پڑے گی۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے ناکام دورۂ کوئٹہ کے اثرات آنے والے دنوں میں بلوچستان کی سیاست اور پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

 

دوسری جانب کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ سہیل آفریدی کے دورے کے دوران مختلف سیاسی و تنظیمی ملاقاتیں پی ٹی آئی کو مستقبل کی حکمت عملی کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے دورے فوری نتائج نہ بھی دیں، تو بھی طویل المدتی سیاسی روابط میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ احتجاجی تحریک سے قبل سہیل آفریدی کے دورے کی محدود کامیابی پارٹی کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو نہ پایا تو آئندہ سیاسی مہمات میں بھی اسے اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

Back to top button