پی ٹی آئی کی آفریدی سرکار نے گورنر کو مکمل بے اختیار کیسے کیا؟

 

 

 

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے درمیان اختلافات اور اختیارات کی جنگ میں مزید شدت آنے کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے نیا وار کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی سے پبلک سروس کمیشن کے اختیارات بھی واپس لینے کے لیے قانون سازی شروع کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 2018 میں ترامیم کے بعد گورنر کا کردار محض نمائندگی تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ ناقدین کے مطابق صوبائی حکومت کا یہ اقدام صرف قانونی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی تصادم کا عکاس ہے، جو صوبے میں حکومت اور وفاق کے نمائندے کے درمیان طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔

 

اس ضمن میں پیش رفت کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پبلک سروس کمیشن ترمیمی ایکٹ 2026 اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں اختیارات گورنر سے لے کر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسمبلی میں پیش کردہ مجوزہ بل کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے ارکان اور ملازمین کی تعداد اور مراعات کا تعین اب گورنر کے بجائے صوبائی حکومت کرے گی، چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی تقرری کا اختیار پہلے گورنر کے پاس تھا، جو کمیٹی کی سفارش پر تقرری کرتے تھے۔ مجوزہ ترمیم کے ذریعے صوبائی حکومت یہ اختیار واپس لے رہی ہے، اب چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی تقرری وزیراعلیٰ کے مشورے سے گورنر کریں گے، یعنی وزیراعلیٰ کی دی گئی نامزدگی کی ہی گورنر منظوری دیں گے۔

 

ترامیم کے ذریعے کمیشن کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پہلے گورنر کو پیش کی جاتی تھی، جبکہ نئی ترمیم کے بعد یہ رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی، اسی طرح پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ اب گورنر کے بجائے صوبائی حکومت اسمبلی میں پیش کرے گی۔ترامیم کی منظوری کے بعد کمیشن کے قواعد و ضوابط بنانے کے اختیارات بھی براہِ راست حکومت کے پاس ہوں گے اور گورنر کا عمل دخل ختم ہو جائے گا۔

 

خیال رہے کہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت گورنر سے اختیارات واپس لے رہی ہے، 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی، تب سے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان فاصلے بڑھتے نظر آ رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی اختلافات شدت اختیارکرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی رہنما رہنما فیصل کریم کنڈی کے گورنر بننے کے بعد سے صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، اور صوبائی حکومت نے گورنر کو مکمل بے اختیار کرنے کا عمل شروع کررکھا ہے۔

 

کچھ عرصہ پہلے صوبائی حکومت نے ترمیم کے ذریعے گورنر سے صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلر کا عہدہ بھی واپس لے لیا تھا اور اب وزیراعلیٰ صوبے کے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے اختلافات یہیں نہیں رکے، بلکہ صوبے میں قائم تاریخی ایڈورڈ کالج کے پرنسپل کی تعیناتی کے معاملے پر بھی دونوں آمنے سامنے آ چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے گورنر کو کالج کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے ہٹا کر یہ اختیار وزیراعلیٰ کو سونپ رکھا ہے جبکہ گورنر نے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

پی ٹی آئی میں اختیاراورقبضےکی جنگ تیزکیوں ہوگئی؟

تاہم تازہ پیشرفت کے بعد گورنر خیبر پختونخوا کے پاس اب کوئی نمایاں انتظامی اختیارات نہیں رہے اور وہ عملاً صرف وفاق کے نمائندے کے طور پر گورنر ہاؤس میں براجمان ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا اس وقت بے اختیار ہو گئے تھے جب فاٹا کا قبائلی علاقوں میں انضمام ہوا تھا کیونکہ گورنر کے اصل اختیارات فاٹا کے انضمام سے قبل نمایاں تھے، کیونکہ قبائلی علاقے گورنر کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔ ان کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کے پاس براہِ راست انتظامی اختیارات نہیں ہوتے، تاہم چانسلرشپ کے باعث وہ یونیورسٹیوں کے کانووکیشن میں شرکت کرتے تھے اور انہیں میڈیا کوریج ملتی تھی، جو اب ختم ہو گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق ’گورنر کو بے اختیار کرنے کے پیچھے اصل وجہ سیاسی اختلافات ہیں، مسئلہ گورنر کے اختیارات کا نہیں بلکہ سیاسی اختلافات کا ہے۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت انھیں بے اختیار کرنے پر بضد ہے، مبصرین کے مطابق انتظامی اختیارات ختم ہونے کے بعد اب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی زیادہ تر سیاسی کارکنوں سے ملاقاتیں کرتے نظر آتے ہیں ہیں، اور اگر کبھی وزیراعظم یا صدر پاکستان پشاور آئیں تو ان کا استقبال کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی خاص اختیارات نہیں رہے۔

Back to top button