پنجاب حکومت کی نالائقی نے بسنت کے تہوار کو کیسے ختم کیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے تہوار کو خونی قرار دے کر اس پر لگائی گئی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات فقط اتنی سی ہے کہ حکومت اور اس کے تمام ادارے مل کر بھی ایک دھاتی ڈور پر پابندی کا قانون نافذ نہیں کر سکے، لہٰذا پورے تہوار کو ہی ’’خونی‘‘ قرار دے دیا گیا ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ ہماری رفیع الشان انٹیلی جنس ایجنسیاں مطلوب افراد کو پاتال سے بھی نکال لاتی ہیں، مگر کیمیکل اور دھاتی ڈور بیچنے والوں کو نہیں ڈھونڈ سکتیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ بسنت دنیا بھر میں ہماری شناخت کا باعث تھی، لیکن اس ہر پابندی سے ہماری شناخت ہم سے چھین لی گئی ہے۔ پنجاب حکومت بہت جوش و خروش سے پتنگ بازی کی ممانعت کی مہم چلا رہی ہے، کروڑوں کے اشتہارات چھاپے جا رہے ہیں جس میں پتنگ بازی کو ’’خونی کھیل‘‘ بتایا جاتا ہے۔ پنجاب میں ایک نیا قانون بھی پاس کیا گیا ہے جسکے تحت گُڈیاں اڑانے والے بچوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا، پتنگ بازوں کو تین سے پانچ سال تک کی قید بھی کاٹنی پڑے گی۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ بسنت خونیں کھیل کب سے ہوا؟ حماد کہتے ہیں کہ لاہوریوں نے سال ہا سال تک ایک تہورا کے طور پر بسنت منائی ہے، ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ہم کوئی ’’خونی تیوہار‘‘ منا رہے ہیں۔ یعنی جوہری طور پر بسنت بہار کا ایک رنگین اظہار تھا جسے لاہوریوں نے ساری دنیا سے ہٹ کر ایک مسابقتی کھیل بنا دیا تھا۔ ہمارے لڑکپن میں بسنت پر ایک ہی اعتراض ہوا کرتا تھا کہ یہ ’’ہندوانہ‘‘ تہوار ہے۔ یہ اعتراض بھی ہمیں بودا لگا کرتا تھا۔ ہندو تہوار منانے ساری دنیا سے لوگ ہندوستان جاتے ہیں، پاکستان نہیں آتے۔ آپ نے کبھی سنا کوئی ہولی، دیوالی یا دسہرا منانے پاکستان آیا ہو؟ اور پھر یہ کیسا ’’ہندو‘‘ تہوار تھا جسے منانے ہندوستان سے لوگ لاہور آیا کرتے تھے۔ سچی بات یہی ہے کہ بسنت دنیا بھر میں لاہور کے تہوار کے طور پر جانا جاتا تھا، لاہوریوں نے پنجاب کے اس موسمی تہوار کو نئی روح، نیا جسم، نیا رنگ، نئی باس عطا کی تھی۔ ہر ’نارمل‘لاہوری کی طرح ہمیں بھی پتنگ بازی سے عشق تھا اور کم از کم ہم بچوں کے لیے بسنت سال کا سب سے بڑا تہوار ہوا کرتا تھا۔ اب بسنت کے ’’خونی کھیل‘‘ بننے کی کہانی بھی سُن لیں۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ کچھ سال پہلے دھاتی ڈور اور کیمیکل ڈور کا تذکرہ ہونے لگا، اس سے لوگ زخمی ہونے لگے، ہلاکتیں ہونے لگیں، اخبارات کٹے ہوئے گلوں کی تصویریں چھاپنے لگے،دھاتی ڈور پر پابندی لگا دی گئی لیکن حکومت یہ قانون نافذ کرنے میں ناکام ہو گئی، اور پھر ایک دن بسنت کے تہوار پر ہی پابندی لگا دی گئی، یوں راتوں رات ہزاروں ہنرمندوں کا معاشی گلا کاٹ دیا گیا۔ ہم جیسے لاہوری حیران تھے کہ ایک نالائق حکومت جو قانون پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی اس نے یہ کیا حل نکالا ہے، صدیوں پرانے تہوار پر پابندی کیوں کر لگ سکتی ہے؟ ہندوستان میں کمبھ میلے کے دوران اکثر حادثات ہو جاتے ہیں، ابھی پچھلے ہفتے بھی کمبھ میلے میں لگ بھگ پچاس لوگ ہجوم نے روند ڈالے، مگر کسی اخبار نے ان کچلی ہوئی لاشوں کی تصاویر چھاپ کر اس ’’خونی میلے‘‘ پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا۔

حماد کہتے ہیں کہ حکومتیں قانون بناتی ہیں، سختی سے نافذ کرتی ہیں، انسانی جان کے تحفظ کی بھرپور کوشش کرتی ہیں، تہواروں پر پابندیاں نہیں لگاتیں، اپنی زمین سے پھوٹی ہوئی سینکڑوں سالہ تہذیب پر پابندی لگانا بہ ذاتِ خود وحشیانہ عمل ہے۔ حتیٰ کہ سپین میں آج بھی پامپلونا کی گلیوں میں بیلوں کے آگے شہری دوڑتے ہیں، گو کہ اب بہتر قوانین کی وجہ سے کم جانیں ضائع ہوتی ہیں، کم لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ اگر پامپلونا پنجاب میں ہوتا تو اس تہوارکو ’’خونی‘‘ قرار دے کر کب کا بند کر دیا جاتا۔ ایک زمانے میں کرکٹ کے کھیل میں سر پہ بال لگنے سے کئی کھلاڑی جان کی بازی ہار جایا کرتے تھے، مگر کرکٹ پر پابندی لگانے کے بہ جائے ہیلمٹ ایجاد کیا گیا۔ شکر کیجیے کہ کرکٹ صرف پنجاب کا کھیل نہیں ہے۔ موٹر سائیکل حادثات میں جان کے زیاں کو روکنے کے لیے موٹر سائیکل کو ’’خونی سواری‘‘ قرار دے کر پابندی نہیں لگائی جاتی، ہیلمٹ کا قانون بنایا جاتا ہے۔

Back to top button