اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملہ کیسے ہوا؟حقائق سامنے آ گئے

 

 

 

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے میں بھارتی سپانسرڈ طالبان دہشتگردوں اور افغانستان کی ملی بھگت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع خدیجہ الکبریٰ امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے اس المناک واقعے نے ایک بار پھر اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہے۔ اس ضمن میں سامنے آنے والے متعدد شواہد اور انٹیلی جنس ذرائع کی رپورٹس اس گٹھ جوڑ کی واضح نشاندہی کرتی ہیں، جن سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرزمین سے کی گئی۔

 

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی اور پھر ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حملہ آور نے اس دہشتگردانہ واردات میں 4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جس میں بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے 31 افراد فوری جان کی بازی ہار گئے جبکہ زخمی 171 افراد میں سے بھی متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ مسجد کے اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں جن کے خول بھی جائے وقوعہ سے مل گئے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے بقول خود کش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی ہے جس کی اس کی پانچ ماہ کی افغانستان و پاکستان کے درمیان سفر کرنے کی تفصیلات بھی مل گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں مقیم تھا اور متعدد بار سرحد پار آمد و رفت کر چکا تھا۔ تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کچھ عرصہ قبل ہی ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستان داخل ہوا تھا تاکہ دارالحکومت میں حساس مقامات کو نشانہ بنا سکے۔حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان تخریبی کارروائیوں کے پیچھے افغان سر زمین اور بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ اور مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے پڑوسی ملک کی سرزمین کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے امن و امان کو سبوتاژ کیا جا سکے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے پہلے داخلی راستے پر تعینات امام بارگاہ کی نجی سکیورٹی پر فائرنگ کی اور پھر تیزی سے آگے بڑھا۔ ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کے نجی سیکیورٹی گارڈز پر ڈائریکٹ فائرنگ کی، جس کے بعد وہ مزید آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے دوسرا پوائنٹ بھی کراس کر کے تیسرے پوائنٹ پر پہنچ گیا، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، وہاں جا کر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘ مقامی افراد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امام بارگاہ کے باہر پولیس کا کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا اور تمام تر سکیورٹی انتظامات مقامی رضاکار ہی سنبھال رہے تھے۔

 

دوسری جانب امام بارگاہ دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق دھماکا ایک بج کر 38 منٹ پر عین اس وقت ہوا جب دوسری رکعت کا سجدہ جاری تھا، نماز جمعہ کے دوران پہلی رکعت کے بعد فائرنگ کی آواز آئی جب حملہ آور  کو مرکزی گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں امام بارگاہ کے روٹ اور دھماکے کے وقت بھگدڑ اور دھماکے کی آواز سنتے ہی شہریوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو بھاگ کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے بھی نظر آ رہا ہے

اسلام آباد امام بارگاہ دھماکا: خودکش حملہ کے دو بھائی اور ایک خاتون پشاور سے گرفتار

باخبر سیکیورٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ترلائی میں واقع خدیجہ الکبریٰ امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش حملہ اسی طرز کا تھا جیسا کہ اسلام آباد کچہری کے مین گیٹ پر خودکش حملہ کیا گیا اور ان دونوں حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ملوث ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب حکومتِ پاکستان کے لیے واحد راستہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنا ہے، کیونکہ مذاکرات اور یقین دہانیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔  اسلام آباد میں ہونے والے حملے اس بات کا عندیہ ہیں کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات واضح ہیں، اور اگر افغان طالبان نے اپنی پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق  اب پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے واضح کر دیا ہے کہ اس جارحیت کا سخت ردعمل دیا جائے گا، اور جو بھی گروہ یا ریاست پاکستان کے امن کو چیلنج کرے گا، اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تاہم وفاعی ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے میں 31 افراد کی اموات نے ملک بھر میں سکیورٹی خدشات کو شدید تر کر دیا ہے اور اب لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی ایسی دہشتگردانہ کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ حملہ تحریکِ طالبان پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ایما پر کیا، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند عناصر اب لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہری و معاشی مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

 

Back to top button