طالبان اسلام آباد کو ایک بار پھر نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

 

 

 

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان نے دوبارہ ثابت کر دیا ہے کہ تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد جب چاہیں اور جہاں چاہیں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ اسلام آباد حملے نے پورے سیکیورٹی سسٹم اور انسداد دہشت گردی کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں لہٰذا دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اب پاکستانی سیکیورٹی اپریٹس کو جدید ترین خطوط پر ازسرِنو استوار کیا جائے تاکہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو وقوعہ سے پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 سے اب تک اسلام آباد میں 8 دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں 50 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سب سے مہلک حملہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی  میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر ہوا اس خودکش دھماکے کے نتیجے 31 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 169 افراد زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کچہری اور اور ترلائی امام بارگاہ میں دھماکے سے پہلے زیادہ تر دہشت گرد حملے مضافاتی علاقوں میں ہوئے ہیں جن میضں سے زیادہ تر کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔ ان حملوں کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان سے جوڑا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جگہ جگہ چیک پوسٹس، سیف سٹی کیمرے، پروٹوکول اور گھنٹوں طویل سڑکوں کی بندش نے شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، مگر اس کے باوجود دہشت گردوں کا شہر کے مرکزی دفاعی حصار کو توڑ لینا اور حملہ کر دینا ثابت کرتا ہے کہ موجودہ سکیورٹی سسٹم کام نہیں کر رہا اور انسداد دہشت گردی کی حکمتِ عملی مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہی۔

 

دوسری جانب کوئٹہ کی صورتِ حال زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے جہاں گزشتہ چند برسوں میں 152 حملوں میں 264 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں شہریوں، سرکاری افسران، سیکیورٹی فورسز، قبائلی عمائدین، مذہبی رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کرنے والی علیحدگی پسند تنظیموں میں بلوچ ریپبلکن گارڈز، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور براس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث دیگر تنظیموں میں تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان، اور لشکرِ جھنگوی بھی شامل ہیں۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی موجودہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کا انحصار زیادہ تر چیک پوسٹس، انٹرنیٹ جیمِنگ، سیف سٹی نگرانی اور سڑکوں کی بندش پر ہے، جو شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے کے باوجود مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ دہشت گرد ان سخت حفاظتی رویّوں کو بائی پاس کرنے کے طریقے تلاش کر لیتے ہیں، اسلام آباد کے حالیہ خودکش حملے نے ایک بار پھر یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو اپنی سوچ اور اپروچ بدلنی ہو گی کیونکہ اس کا پالا سیانے دشمنوں سے پڑا ہے جو وفاقی دارالحکومت تک گھس کر حملہ کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔

 

یاد رہے کہ پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان کی پشت پناہی بند کرے جو پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے حال ہی میں واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دے، اس وقت پاک افغان تجارت بند ہے لیکن بھارت نے انڈیا کے ساتھ متبادل تجارتی راستے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ لہذا افغانستان کے لیے تجارتی راستوں کی بندش کا دباؤ بھی مؤثر ثابت نہیں ہونے والا۔ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اب انسداد دہشت گردی کی سب سے موثر حکمت عملی یہ ہے کہ وقوعہ ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ پاکستان میں بھی اگر دہشت گردی کو موثر طریقے سے روکنا ہے تو ضروری ہے کہ انٹیلی جنس کے انسانی، مالیاتی، تکنیکی اور سائبر ذرائع مذید بہتر بنائے جائیں اور بین الصوبائی اور بین الاقوامی معلومات کے تبادلے کا نظام مؤثر بنایا جائے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، جس میں مصنوعی ذہانت سے لیس نگرانی کے نظام، ڈیجیٹل تھریٹ اینیلسز، ڈرون مانیٹرنگ اور مشکوک سرگرمیوں کی پیشگی نشاندہی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

 

اسکے علاوہ کمیونٹی انگیجمنٹ بھی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی لیڈرشپ، مساجد اورمدارس کے منتظمین اور شہریوں کیساتھ رابطے بڑھا کر ممکنہ خطرات کی بروقت اطلاع حاصل کی جا سکتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی تربیت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، شہری علاقوں میں فوری ردعمل کی صلاحیت بڑھانا اور بارڈر مینجمنٹ کو ٹیکنالوجی سے بہتر بنانا بھی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی جامع سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے علاقائی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔

 

اسلام آباد اور کوئٹہ کے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ مسلسل اپنی حکمتِ عملی بدل رہے ہیں اور ریاستی دفاعی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں، اس لیے پاکستان کے تمام سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دیں اور ایسی عملی پالیسی اختیار کریں جس کے ذریعے دہشت گردی کو اس کے رونما ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔

Back to top button