فیض، عمران اور بشریٰ کے ٹرائکا نے پاکستان کو کیسے کھڑکایا؟

 

 

 

معروف برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی نے کالے جادو اور ریاستی طاقت کو ملا جلا کر ایک ایسا حکومتی ماڈل تشکیل دیا تھا جس میں اہم ملکی اور عالمی معاملات پر فیصلہ سازی میں ان کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔ اس دور کی فیصلہ سازی میں روحانی اشاروں اور خوابوں کو حکومتی فیصلہ سازی میں حد سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی۔

 

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی اور ذاتی معاملات میں بشریٰ بی بی عرف پنکی ہیرنی کا اثر و رسوخ حد سے ذیادہ تھا۔ وزیر اعظم کی ملاقاتوں، سرکاری فیصلوں اور حتیٰ کہ ان کا سفری شیڈول بھی بشری بی بی کی منظوری سے طے ہوتا تھا۔

 

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران کی وزارت عظمی کے دوران بنی گالا میں ہونے والی پیری فقیری، روحانی رسومات، اور کالے جادو سے پارٹی حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔ اسی بنیاد پر عمران کے کچھ قریبی ساتھی ان سے دور بھی ہو گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 میں عمران خان کی انتخابی جیت اور ان کا وزارت عظمی تک پہنچنا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس دوران آئی ایس آئی کے چند لوگوں کو خفیہ طور پر بشریٰ بی بی کے روحانی نیٹ ورک سے جوڑا گیا۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے بشری بی بی کو جو انفارمیشن ملتی تھی وہ اسے روحانیت کے کھاتے میں ڈال کر عمران خان تک پہنچا دیتی تھیں۔ یوں وزیراعظم سے فیصلے آسانی سے کروا لیے جاتے تھے چونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ روحانی حساب کتاب میں انہیں ایسا ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔

 

برطانوی جریدہ کہتا ہے کہ دوسری جانب روحانیت کے اس کھیل میں عمران خان بطور وزیراعظم مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔ انکے دورِ حکومت میں کیے گے بڑے انتخابی وعدے پورے نہ ہو سکے، ملک میں معاشی بحران سنگین ترین ہو گیا۔ دوسری جانب عمران خان کی روحانی فیصلہ سازی کے نتیجے میں ان کا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ بڑھنے لگا، اور بالآخر انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ بعد میں توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ جیسے کرپشن کیسز میں عمران اور بشریٰ گرفتار ہوئے، اور پھر انہیں لمبی قید کی سزائیں ہو گئیں جن کی وجہ سے وہ اب اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔

 

اگرچہ توشہ خانہ کرپشن کیسز میں سزا ملنے کے باوجود عمران عوامی سطح پر اخلاقی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا اور جیل میں بھی بشری بی بی عرف پنکی پیرنی کے روحانی مشوروں پر چل رہے ہیں۔ اور شاید اسی وجہ سے وہ جس اسٹیبلشمنٹ کے طفیل سے وزیر اعظم بنے تھے آج اسی کے خلاف کھڑے ہیں۔

 

دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے پی ٹی آئی کو بدعنوانی کے خلاف ایک عوامی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتے ہوئے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی دونوں کے رخ بدل دیے اور وہ بھی ایک موقع پر سیاستدان بن گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کالے جادو پر یقین رکھنے والی بشری بی بی نے عمران خان کے روزمرہ کے فیصلوں سے لے کر سرکاری تعیناتیوں تک اپنی مرضی ان پر تھوپی۔ رپورٹ کے مطابق عمران کی ذاتی زندگی اور حکومتی فیصلوں میں خوابوں، فیس ریڈنگ اور روحانیت کو حد سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی۔

 

اسکے علاوہ عمران خان کے سابق ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بنی گالا میں گوشت، جانوروں کے سروں اور کلیجی کے ذریعے بدروحوں سے نجات دلانے کے لیے عملیات کیے جاتے تھے، جس سے ہر جانب توہم پرستی پھیل گئی۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں عمران کابینہ کے ایک سابق رکن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکومتی معاملات میں بشریٰ بی بی کا مکمل کنٹرول تھا۔ عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں، سرکاری امور اور یہاں تک کہ پروازوں کے اوقات بھی بشریٰ بی بی کی منظوری سے طے پاتے تھے۔ سابق کابینہ رکن نے بتایا کہ عمران خان بشری بی بی کے سحر میں مبتلا تھے اور ان کے کسی مشورے کو جھٹلاتے نہیں تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ بشری بی بی کے روحانی فیض کی وجہ سے ہی وزیراعظم بنے ہیں۔

فیض حمید کے دور میں بنایا گیا جادو ڈیسک کیا کام کرتا تھا؟

رپورٹ میں جہانگیر خان ترین سمیت عمران خان کے سابقہ ساتھیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے ’کالے جادو‘ کے استعمال پر تشویش ظاہر کی تو انہیں عمران کے حلقہ احباب سے باہر کر دیا گیا۔ چنانچہ پارٹی کے اندر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ فیصلے کسی ادارہ جاتی نظام کے تحت نہیں بلکہ بشری بی بی کی پسند اور ناپسند کے مطابق ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018 میں عمران خان کی کامیابی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے ممکن ہوئی، جو PTI کے ’احتسابی انقلابی‘ نعرے سے متصادم ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے تب ہٹایا گیا جب انہوں نے عمران خان کو بشریٰ بی بی کی کرپشن کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق عمران اپنے بڑے انتخابی وعدے، لاکھوں گھروں اور ملازمتوں، پر عمل درآمد نہ کر سکے اور بعد ازاں خود اعتراف کیا کہ پانچ سال کی مختصر مدت میں ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔

Back to top button