پاکستانی تجارتی روٹ بائی پاس کرنے کی انڈین سازش ناکام

امریکہ نے پاکستان کو مائنس کرنے کی بھارتی سازش ناکام بنا دی جبکہ مودی سرکار ایک بار پھر افغانستان سے ہاتھ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بھارت نے امریکی دباؤ سامنے آنے کے بعد ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے خاموشی سے پسپائی اختیار کر لی۔ اس فیصلے نے نہ صرف نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کے تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ افغانستان کو ایک بار کو ایک بار پھر منجدھار میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر چاہ بہار کمزور یا غیر فعال ہوئی تو اس کا سب سے گہرا اثر افغانستان کی معیشت، تجارت اور عام شہری کی زندگی پر پڑے گا، جو پہلے ہی علاقائی سیاست اور سرحدی کشیدگی کے نرغے میں ہے۔ بھارتی چال کے بعد افغانستان ایک بار پھر پاکستانی تجارتی انفراسٹرکچر پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

ناقدین کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے جہاں پاک بھارت تعلقات جمود کا شکار ہیں، وہیں دوسری طرف طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور افغانستان کے مابین تعلقات میں نہ صرف گرمجوشی دکھائی دے رہی ہے بلکہ دونوں ممالک  ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو محور بنا کر اپنے اپنے مفادات کے تحت ایک ’’ٹیکٹیکل ری سیٹ‘‘ کی کوششوں میں مصروف نظر آتے تھے، تاہم امریکی پابندیوں کے خوف اور عالمی دباؤ نے مودی سرکار کی پاکستان مخالف مکروہ سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے بھارت اور افغانستان کیلیئے پاکستان کو بائی پاس کر کے ایران کے راستے تجارت کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق چاہ بہار بندرگاہ افغانستان کے لیے محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ پاکستان پر انحصار کم کرنے کی امید اور عالمی منڈیوں تک رسائی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ تاہم اب یہ امید بھی غیر یقینی کے بادلوں میں گھرتی دکھائی دے رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ کچھ عرصے سے نئی دہلی اور کابل مائنس پاکستان اپنے معاشی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں دکھائی دئیے تاہم افغانستان اور بھارت کی اس قربت کو جغرافیہ جیسی ایک سخت جیو پولیٹیکل رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس وقت تک عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے افغانستان کا تمام تر انحصار پاکستان پر ہے اور افغانستان کیلئے پاکستان کو بائی پاس کر کے اپنی عالمی تجارت کو آگے بڑھانا نا ممکن ہے۔ ایسے میں کابل اور نئی دہلی نے مائنس پاکستان متبادل راستے تلاش کیے۔ ان متبادل راستوں میں سب سے پرجوش منصوبہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تھی۔ افغانستان اور بھارت چاہ بہار منصوبے بارے بہت پر امید تھے۔ تاہم اب وہ امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے خوف سے بھارت خاموشی سے چاہ بہار میں فعال شمولیت سے پیچھے ہٹ گیا ہے جبکہ پاکستان سے خراب تعلقات کی وجہ سے افغانستان درمیان میں پھنس گیا ہے۔

پاکستان ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہو گا یا نہیں؟

ناقدین مودی سرکار کی اس چال بازی کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے ایک گہرے تضاد کی علامت قرار دے رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق سیاسی طور پر تزویراتی خودمختاری  کے نام پر ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی چاہ بہار بندرگاہ آج  بھارت کی تزویراتی منافقت کا ایک اور مظہر بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق حقیقت میں بھارت اور افغانستان کا یہ تصور ہی شروع سے ناقص تھا کیونکہ افغانستان کی عالمی تجارت میں پاکستان کو بائی پاس کرنے کی یہ کوشش عملی سے زیادہ سیاسی تھی۔ چاہ بہار کبھی بھی گوادر کی لاجسٹک سہولیات کا حقیقی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مودی سرکار کو یہ سمجھ ہونی چاہیے کہ جغرافیہ کو خواہشات سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اس لئے اسے پاکستان کو مائنس کرنے کی مکروہ سوچ اپنے غلیظ دماغ سے نکال دینی چاہیے۔

معاشی ماہرین کے مطابق چاہ بہار کی تکمیل کے بعد بھارت کو اندازہ ہوا کہ یہ راستہ اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں کیونکہ کراچی بندرگاہ یا واہگہ کے زمینی راستوں کے مقابلے میں اس کی لاگت 40 سے 45 فیصد زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول چاہ بہار کی علامتی اہمیت کے باوجود بھارت اور طالبان کے روابط میں حتمی نتائج جغرافیہ، معاشیات اور بیرونی دباؤ کے زمینی حقائق سے ہی تشکیل پاتے ہیں، جو کسی بھی سیاسی خواہش یا تزویراتی منصوبے کو محدود کر دیتے ہیں۔ویسے بھی ایران پر نئی پابندیوں کے نفاذ نے چاہ بہار منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں نہ صرف ممالک اور کمپنیوں کو تہران کے ساتھ کاروبار سے روکتی ہیں بلکہ مالیاتی اداروں کے خوف کے باعث بندرگاہ کے لیے فنانسنگ میں بھی شدید کمی آ چکی ہے۔ دوسری جانب بھارت کی چاہ بہار بندرگاہ سے خاموش پسپائی کے بعد کابل کے محدود تجارتی اختیارات مزید سکڑ گئے ہیں، جس سے افغانستان دوبارہ پاکستان کی بندرگاہوں، سڑکوں اور ٹرانزٹ انفراسٹرکچر پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button