ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے فیس سیونگ کیسے حاصل کی ؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابقہ سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین نے ایران پر حملے کا غلط فیصلہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ فراہم کرتے ہوئے ایک گہری دلدل سے نکالنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے جس سے ایران کی بھی بچت ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ پاکستان کی ثالثی کے بغیر جنگ سے نکلنے کا فیصلہ کرتے تو اسے ایران کے ہاتھوں امریکہ کی شکست تصور کیا جاتا، دوسری طرف اگر وہ جنگ جاری رکھتے تو امریکہ ویتنام اور افغانستان جیسی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔
ڈان اخبار کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ تنازعہ طویل ہونے سے امریکہ ایک ایسی جنگ میں پھنستا جا رہا تھا جس میں اسکی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے، کیونکہ ایران نے غیر معمولی مزاحمت اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں موڑ لیا تھا۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جہاں یہ نہ صرف پورے خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن گئی تھی۔ انکے خیال میں یہ جنگ کسی ایک فریق کی کامیابی کے بغیر جاری رہتی تو اسکا نتیجہ بڑی تباہی کی صورت میں سامنے آنا تھا۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے پاکستان اور ترکی کے علاوہ چین نے اہم ترین کردار ادا کیا جس کا اعتراف خود صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں بھی کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کی جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود ایران نے غیر متوقع مزاحمت اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر اس کی گرفت نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث تیل کی قیمت میں شدید تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا اور عالمی معیشت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی تھی۔
سینیئر سفارت کار کا کہنا تھا کہ جنگ لمبی ہونے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرون و بیرون ملک شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ دوسری طرف حیران کن بات یہ رہی کہ اسرائیل کے علاوہ برطانیہ اور فرانس جیسے امریکہ کے روایتی اتحادی بھی اس جنگ میں کھل کر اس کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریزاں تھے۔ اس صورت حال نے امریکہ کو سفارتی سطح پر تنہائی سے دوچار کر دیا تھا، جبکہ اندرون ملک بڑھتے ہوئے جنگ مخالف مظاہروں میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ شروع ہو گیا تھا۔
اس دوران صدر ٹرمپ کے بیانات میں کھلا تضاد نمایاں رہا۔ ایک جانب وہ جنگ کے خاتمے کی بات کرتے تو دوسری طرف ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے کی بات کرتے۔ تاہم تب پوری دنیا سخت تشویش میں مبتلا ہو گئی جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں ایران کی پوری تہذیب مٹانے جا رہے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ٹرمپ کے لیے آگے کنواں تھا اور پیچھے کھائی تھی۔ اگر وہ اپنی دھمکی پر عمل کرتے تو دنیا ایک ناقابل یقین تباہی کا شکار ہو جاتی جس کے اثرات امریکہ پر بھی پڑنے تھے۔ دوسری جانب اگر وہ کسی معاہدے کے بغیر اپنی دھمکی سے پیچھے ہٹتے تو سیاسی طور پر فارغ ہو جاتے۔ ایسے میں پاکستان نے ایک ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ دونوں کو آمادہ کیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور باہمی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کیسے کرائی؟
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کا پنگا لے کر جو خفت اٹھائی اس کی بنیادی وجہ اسرائیلی یقین دہانیاں اور امریکہ کے اپنے غلط اندازے تھے۔ حملہ آور ہوتے ہوئے واشنگٹن کو توقع تھی کہ ایران چند دنوں میں ہتھیار ڈال دے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایرانی قوم نے بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی بھی ناکام رہی اور ایران داخلی طور پر مستحکم رہا۔ ڈاکٹر ملیحہ کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی اتحادیوں اور توانائی تنصیبات پر ایرانی حملے بھی غیر متوقع تھے۔ ان حملوں کو روکنے میں ناکامی نے خلیجی ممالک کو دی گئی سکیورٹی ضمانتوں کو اڑا کر رکھ دیا اور وہاں قائم فوجی اڈوں کو لایعنی ثابت کر دیا۔ یوں خلیجی ریاستوں کی نظر میں امریکی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔ ایسے میں یہ کہنا بے جانا ہوگا کہ واشنگٹن کے پاس اس جنگ میں کودنے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی موجود نہیں تھی۔ ادھر صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی ڈیڈ لائنز بھی غیر مؤثر ثابت رہیں۔ ہر ڈیڈ لائن دیتے وقت صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدے کا مطالبہ کیا، اور بصورت دیگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ تاہم ایران نے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا جس سے امریکی صدر کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر سمیت کئی یورپی رہنماؤں نے ایران مخالف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی اور جنگ میں عملی شرکت سے انکار کر دیا۔ اس اختلاف نے نیٹو اتحاد میں بھی دراڑ ڈال دی تھی۔ تاہم اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سپر پاور ہونے کے باوجود کوئی بھی ملک صرف فوجی طاقت کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔ مختصرا یہ کہ ایران اور امریکہ کی جنگ وقتی طور پر رک تو چکی ہے لیکن اس کا سب سے ذیادہ نقصان امریکی ساکھ کو پہنچا ہے جسے دنیا کی سب سے طاقتور سپر پاور قرار دیا جاتا تھا۔
