ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ گہری دلدل میں کیسے پھنس گئے؟

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کی غلطی کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کو اب یہ احساس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ وہ ایک دلدل میں پھنس گئے ہیں جس سے فوری طور پر نکلنا ضروری ہے، چنانچہ اب انہوں نے یہ بچگانہ کہانی سنانی شروع کر دی ہیں کہ انہیں تو ان کے تین مشیروں نے ایران پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی یلغار دوسرے ہفتے صدر ٹرمپ نے جنگ سے نکلنے کے اشارے دینا شروع کر دیے ہیں حالانکہ وہ ایران میں ریجیم تبدیل نہیں کر پائے۔ انکا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، کبھی وہ ایران پر حملے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، تو کبھی وہ اپنے مشیروں کے اکسانے پر میدان میں کودنے کی ضرورت بیان کرتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ مجھے تو میرے مشیروں نے ایران پر حملے کے لیے اکسایا تھا اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت جنگ ختم کر سکتے ہیں کیو کہ ایران پر حملے کے مقاصد حاصل ہو گئے ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ انہوں نے ایران پر حملے کا اصل مقصد ریجیم کی تبدیلی بتایا تھا جہاں خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبی سپریم لیڈر بن چکے ہیں۔
مجیب الرحمن شامی کے مطابق یہ امریکی دعوے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ختم ہو گیا یا بیلسٹک میزائل پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے، حقیقت سے کوسوں دور ہیں، ایران پر حملے کا اصل مقصد ایرانی سیاسی اور عسکری ڈھانچے میں مداخلت کرنا اور اسکے وسائل پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے متعدد ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی عوام میدان میں نکل آئے اور اپنی آزادی پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ شامی کے مطابق ایرانی قوم نے نہ صرف حملے کا بھرپور جواب دیا بلکہ امریکی اور اسرائیلی افواج کو کئی محاذوں پر پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
جنگ کو شروع ہوئے دو ہفتے ہو گئے لیکن صورتحال یہ ہے کہ آج بھی ایرانی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کے زیر اثر علاقوں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا کے بیس فیصد تیل کی تجارت متاثر کر دی ہے۔ پینٹاگون نے تسلیم کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں اب تک 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ چھ مارے گئے ہیں۔ مجیب شامی کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک اور تیل کی عالمی منڈی بھی اس صورت حال سے شدید متاثر ہو رہی ہے، اور پاکستان بھی عالمی اقتصادی اثرات کی زد میں ہے۔
صدر ٹرمپ مسلسل ایران سے غیرمشروط سرنڈر کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ایران کی لغت میں سرنڈر کا کوئی لفظ نہیں، اور ایرانی قیادت ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ شامی کے مطابق امریکی اور اسرائیلی دعوے ایران کے فضائی اور بحری وسائل کو ناکارہ بنانے کے بارے میں عملی طور پر ناکام رہے ہیں۔ ایرانی قوم کے حوصلے اور قیادت کی قیادت نے حملہ آوروں کو رسوا کیا اور وہ میدان میں موجود ہیں۔ ایسے میں اب امریکی صدر کے لیے موجودہ دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کر دیں۔
انہوں نے پاکستان کی پوزیشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کو نہ صرف جنگ بندی کے لیے سرگرم رہنا ہوگا بلکہ داخلی سیاست میں موجود اختلافات کو پس منظر میں رکھ کر اتحاد قائم کرنا ہوگا تاکہ ملک عالمی مذاکرات میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔ مجیب شامی کے مطابق پاکستان کی سفارتکاری نے سعودی عرب کو یقین دہانی کرائی کہ اس کی فضاؤں کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا، اور ایران نے بھی اس عہد کی پاسداری کی ہے، جس سے ممکنہ بحران کم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور امریکی ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے خلیجی ممالک پر خفیہ کارروائیاں کی ہیں تاکہ ایران اور عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جا سکے۔ ایران اپنی توجہ صرف امریکہ اور اسرائیل کی طرف مرکوز رکھے ہوئے ہے، جبکہ روس اور چین نے ایران کی معاونت کا اظہار کیا ہے، لیکن کوئی بھی براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایران کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکہ اور اسرائیل برے پھنس گئے
شامی نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اب اپنی پالیسی کے نتائج سے آگاہ ہیں اور ایران پر حملے میں پھنس گئے ہیں، اس لیے وہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کہانیاں سنانے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام اور قیادت نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی آزادی اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور پاکستان کی حکومت اور عوام کی دعائیں اور تعاون ایران کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ شامی نے زور دیا کہ پاکستان کو موجودہ بحران میں معتدل اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ جنگ بندی ممکن ہو اور داخلی و عالمی سطح پر نقصان سے بچا جا سکے۔
