ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل نے دنیا کو تباہی سے کیسے بچایا؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پچھلے ایک برس میں قائم ہونے والے ذاتی تعلقات کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انہیں ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ کرنے اور دنیا کو ایک ممکنہ بڑی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے شہباز شریف کو “قابلِ احترام” اور عاصم منیر کو “میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دینا اسی باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جس نے نہ صرف سفارتی پیش رفت کو ممکن بنایا بلکہ دو حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی راہ بھی ہموار کی۔
جب 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی نے شدت اختیار کی تو صورتحال تیزی سے ایک بڑے علاقائی تصادم کی طرف بڑھنے لگی۔ ایران نے ردعمل میں خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بعد ازاں سعودی عرب میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے نہ صرف سکیورٹی خدشات بڑھے بلکہ عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے فوری اور متوازن سفارتی حکمت عملی اپنائی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 7 اپریل کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع اس بات کا عملی ثبوت بنی کہ اسلام آباد کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ فیصلہ براہِ راست شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا، جس نے پاکستان کے کردار کو محض مبصر سے بڑھا کر ایک مؤثر ثالث میں تبدیل کر دیا۔
پاکستانی حکومت کے مطابق 10 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات ہوں گے، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے۔ ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی یقین دہانی ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چند روز قبل اسی گزرگاہ کی بندش کے خدشات شدت اختیار کر گئے تھے۔
گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران پاکستان نے منظم اور مربوط سفارتی مہم چلائی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعدد عالمی رہنماؤں سے براہِ راست رابطے کیے، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اسی دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی قیادت کے درمیان براہِ راست رابطوں نے اعتماد سازی کے عمل کو مزید تقویت دی۔
پاکستان نے کثیرالجہتی سفارتکاری کو بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ اس کی قیادت میں ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان پر مشتمل اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جبکہ چین کے ساتھ مل کر ایک پانچ نکاتی امن فریم ورک بھی ترتیب دیا گیا، جس میں جنگ بندی، مذاکرات اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اہم پہلو یہ رہا کہ پاکستان نے پورے بحران میں توازن برقرار رکھا۔ ایک طرف ایران پر حملوں کی مذمت کی گئی اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، تو دوسری جانب سعودی عرب پر ایرانی حملوں پر بھی سخت ردعمل دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان نے واضح پیغام دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی ناقابلِ قبول ہے۔
سابق سفیر ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان نے ایک مشکل توازن کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کیا، جبکہ مشاہد حسین سید کے مطابق پاکستان کی یہی پالیسی اسے بیک وقت تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ میں قابلِ قبول بناتی ہے۔
تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملے ایک نیا محاذ کھول رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان حملوں کا ایک ممکنہ مقصد اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنا بھی ہو سکتا ہے جو پاکستان کی کوششوں سے شروع ہوا ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے سے ایران پر دباؤ برقرار رہے گا اور وہ کسی جامع معاہدے کی طرف پیش رفت سے گریز کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز نے امریکہ ایران جنگ کا پانسہ کیسے پلٹا؟
دفاعی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ لبنان کی صورتحال اس ممکنہ معاہدے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر عالمی طاقتوں کے مفادات ایک بار پھر تصادم کی طرف مائل ہو جائیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں نہ صرف ایک ممکنہ بڑی جنگ کو وقتی طور پر ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اپنی سفارتی حیثیت کو بھی عالمی سطح پر منوایا ہے۔ اسکے باوجود ایران اور امریکہ کے مابین آسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی ایک پائیدار امن میں تبدیل ہو پاتی ہے یا خطہ دوبارہ کشیدگی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
