حسینہ اور خالدہ، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کیوں نہ بن سکیں

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد اور سابق صدر جنرل ضیا الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیا کے درمیان طویل سیاسی محاذ آرائی نے بنگلہ دیشی جمہوریت کو اسی طرح کمزور کیا جیسے پاکستان میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی برسوں پر محیط سیاسی جنگ نے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا۔ تاہم پاکستان میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2006 میں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر دیے، جبکہ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا ایسا نہ کر سکیں۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے والد اور شوہر کی دشمنیوں کو نبھاتے ہوئے عوام کو جمہوری استحکام دینے میں ناکامی دکھائی۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمن کو سترہ سال بعد جلاوطنی ختم کر کے ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترتے دیکھا تو انہیں ٹھیک سترہ سال پہلے حسینہ واجد کی واپسی یاد آ گئی، جو اسی طرح لندن سے واپس آئی تھیں جیسے اب طارق رحمن واپس آئے ہیں۔
روف کلاسرا کے مطابق وہ اس وقت ڈھاکہ میں موجود تھے جب حسینہ واجد نے 2008 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے بقول وہ ڈھاکہ کی فضاؤں میں خون کی بو سونگھ چکے تھے۔ اس وقت خالدہ ضیا کا یہی بیٹا طارق رحمن، جو آئندہ الیکشن کے بعد وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہا ہے، حسینہ واجد کی انتخابی فتح کے فوراً بعد بنگلہ دیش چھوڑ کر چلا گیا تھا کیونکہ اس کے خلاف کیسز درج ہونے کا خدشہ تھا۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ خالدہ ضیا خود ملک چھوڑ کر نہیں گئیں، لیکن اپنے بیٹے کو جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے بقول، والدین خود جیل کی سختیاں برداشت کر لیتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے مشکلات میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے۔ سینیئر صحافی کے مطابق پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ حسینہ واجد نے خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو گرفتار کروایا اور یکے بعد دیگرے سزائے موت کے فیصلے سامنے آنے لگے۔ روف کلاسرا کے مطابق حسینہ واجد اگر چاہتیں تو خالدہ ضیا کو بھی پھانسی دے سکتی تھیں، لیکن اس خطے میں کسی خاتون کو پھانسی دینے کے فیصلے کو عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں۔ یہی عوامی اور عالمی دباؤ تھا جس کے باعث خالدہ ضیا کو جیل میں ڈال کر سزا دی گئی۔ تاہم اب حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ حسینہ واجد کے خلاف عوامی بغاوت کو اگرچہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن وہ اب تک اس پورے عمل کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق تاریخ انسانی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب مقبول حکمرانوں کے خلاف بغاوتیں ہوئیں اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا یا جان سے ہاتھ دھونا پڑا، لیکن بنگلہ دیش میں گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا، وہ اگرچہ تاریخی طور پر غیر معمولی نہیں، تاہم ان کی آنکھوں دیکھا منظر یقیناً حیران کن ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جب انہوں نے حسینہ واجد کے خلاف اچانک عوامی انقلاب کو ابھرتے دیکھا تو انہیں 2008 کا ڈھاکہ یاد آ گیا، جب وہ کراچی سے بنگلہ دیش کے انتخابات کی کوریج کے لیے گئے تھے۔ یہ انتخابات دو سالہ ٹیکنوکریٹ حکومت کے بعد فوج کی نگرانی میں منعقد ہوئے تھے۔
روف کلاسرا کے مطابق بنگلہ دیش کو بھی پاکستان جیسی سیاسی قسمت کا سامنا کرنا پڑا، جہاں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور جنرل ضیا الرحمن کی بیوہ کی لڑائی نے جمہوریت کو کمزور کیا۔ پاکستان میں اگرچہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے بالآخر میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے سیاسی محاذ آرائی کا راستہ بدلا، لیکن بنگلہ دیش میں ایسا نہ ہو سکا، جس کا نتیجہ آج سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ کلاسرا کے بقول تیسری دنیا کے ممالک میں سیاستدان نفرت پر پلتا اور جوان ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک اقتدار کا راستہ ذاتی کردار یا کارکردگی کے بجائے مخالفین پر کیچڑ اچھالنے اور انتقام سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے سیاستدانوں میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنا۔
انہوں نے کہا کہ سترہ سال پہلے حسینہ واجد لندن سے بنگلہ دیش آ رہی تھیں، مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے اور پھانسیاں دینے کا عزم ظاہر کر رہی تھیں، جبکہ اسی وقت طارق رحمن ڈھاکہ چھوڑ کر لندن جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن آج وقت بدل چکا ہے، طارق رحمن واپس آ چکے ہیں اور حسینہ واجد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، جبکہ انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
روف کلاسرا کے مطابق حسینہ واجد انتقام کی آگ میں جل کر دوسروں کو پھانسیاں دیتی رہیں اور بالآخر خود بھی اسی انجام کو پہنچ گئیں۔ اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے اور اپنے والد کے دشمنوں سے انتقام لیا یا دراصل خود اپنے انجام کا راستہ ہموار کیا۔
