زیر زمین ایرانی میزائل سٹیز نے امریکہ کو کیسے دھول چٹائی؟

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران ایرانی فوجی مزاحمت میں اہم ترین کردار اس کی زیرزمین میزائل سٹیز نے ادا کیا ہے۔ زیر زمین شہروں میں موجود یہ خفیہ تنصیبات نہ صرف میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوئیں بلکہ ان میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی نصب تھے۔ ان سسٹمز نے ایران کو صلاحیت دی کہ وہ دشمن کے ابتدائی حملوں کے باوجود اپنے میزائل حملے جاری رکھ سکے۔ یہ زیرزمین نیٹ ورک دراصل ایران کی سیکنڈ اسٹرائیک حکمتِ عملی کی بنیاد بنا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دشمن کے فضائی حملوں سے محفوظ رہتے ہوئے ان تنصیبات نے ایران کو مسلسل جوابی کارروائی کرنے کے قابل رکھا، جس سے جنگ کا توازن یکسر تبدیل ہو گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہی وہ عنصر تھا جس نے ایران کو شکست سے بچایا ہے اور اس کے دشمنوں کو تھکایا ہے۔ ایران نے اپنی غیر روایتی عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف جنگ کو طول دیا بلکہ اس کا رخ بھی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تہران کی حکمتِ عملی شروع سے ہی فیصلہ کن فتح کے بجائے مخالفین کو تھکا دینے اور مسلسل دباؤ میں رکھنے پر مبنی رہی ہے، جس کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر شدید فضائی حملوں کے ذریعے جنگ کا آغاز کیا تو ابتدائی مرحلے میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور اہم شخصیات کی اموات نے بظاہر یہ تاثر دیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اعلیٰ ترین رہنما سید علی خامنہ ای کی شہادت اور دیگر شخصیات، جن میں ڈاکٹر علی لاریجانی بھی شامل تھے، اس ابتدائی جھٹکے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم جنگ کے آغاز کے بعد ایک ماہ گزرنے کے باوجود صورتحال نے غیر متوقع موڑ لیا۔ ایران نہ صرف جنگ میں برقرار رہا بلکہ اس نے اپنی حکمتِ عملی کے ذریعے میدانِ جنگ میں توازن بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس تبدیلی کا بڑا سبب ایران کی سیکنڈ سٹرائیک صلاحیت کو قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ابتدائی نقصانات کے باوجود اسے مؤثر جواب دینے کے قابل رکھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قوم سے خطاب نے بھی اس جنگ کی پیچیدگی کو مزید واضح کیا۔ ان کے خطاب سے یہ بات سامنے آئی کہ جنگ ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔ تاہم اس خطاب پر بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھائے گئے، خصوصاً یہ کہ اگر ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے تو پھر فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں۔
نیٹو میں امریکہ کے سابق سفیر ایوو ڈالڈر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکمتِ عملی میں واضح ابہام موجود ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے مقاصد اور نتائج کے درمیان واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس نے نہ صرف اتحادیوں بلکہ عالمی مبصرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو غیر مرکزی بنانے پر زور دیا۔ اس نے اپنے ہتھیاروں، کمانڈرز اور فوجی اہلکاروں کو مرکزیت ختم کرتے ہوئے ملک بھر میں پھیلا دیا، جس سے کسی ایک حملے کے ذریعے مکمل نظام کو مفلوج کرنا ممکن نہ رہا۔ اس کے علاوہ فیلڈ کمانڈرز کو فیصلے کرنے کی خود مختاری دی گئی جس نے جنگی کارروائیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے آغاز میں ایران کی صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ان کے خیال میں ابتدائی حکمتِ عملی اس مفروضے پر مبنی تھی کہ ایران جلد ہی دباؤ میں آ جائے گا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ ایک اور اہم پیش رفت آبنائے ہرمز کی بندش تھی، جسے ابتدا میں محض ایک دھمکی سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم ایران نے نہ صرف اس اہم بحری راستے کو بند کیا بلکہ اس کی مؤثر ناکہ بندی بھی برقرار رکھی۔ اس اقدام نے عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کیے اور جنگ کو عالمی سطح پر مزید اہم بنا دیا۔ ایران کی حکمتِ عملی کا ایک اور نمایاں پہلو اس کا طویل المدتی نقطہ نظر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا مقصد فوری فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ مخالفین کو اقتصادی، عسکری اور سیاسی طور پر تھکا دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کو طول دینے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ اس کے مخالفین کے وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھتا رہے۔
ایران کے عراق اور اردن میں امریکی بیسز پر حملے
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی شاید اس بات کا اندازہ نہیں لگایا تھا کہ ایران اتنے طویل عرصے تک اس شدت کی جنگ جاری رکھ سکے گا۔ امریکی قیادت کا خیال تھا کہ دیگر ممالک کی طرح ایران بھی جلد دباؤ میں آ جائے گا، لیکن ابتدائی قیادت کے نقصان کے باوجود ایرانی معاشرہ مزید متحد ہو گیا۔
یہ اتحاد ایران کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا، جس نے نہ صرف فوجی محاذ پر استقامت دکھائی بلکہ داخلی سطح پر بھی نظام کو مستحکم رکھا۔ اس صورتحال نے جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں فیصلہ کن فتح کے بجائے طویل المدتی استحکام اور برداشت اہم عوامل بن چکے ہیں۔
