دہشتگرد تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو اپنا ہتھیار کیسے بناتی ہیں؟

 

 

گزشتہ چند برسوں سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے مختلف عسکریت پسند دھڑوں کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کو اپنے نظریاتی اور عملی نیٹ ورک میں پھنسانے کی مکروہ کوششوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کارروائیوں، گرفتاریوں اور ملزمان سے برآمد ہونے والے پیغامات سے انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم یہ شدت پسند گروہ نوجوانوں کو نوکریوں، مالی امداد، تعلیم اور تحفظ کے پرکشش مگر جھوٹے وعدوں کے ذریعے بہکاتے ہیں۔ بعدازاں یہ گروپس ان مجبور نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جس کے بعد بہتر مستقبل کی متلاشی نوجوان ان دہشتگرد گروپوں کے آلہ کار بن کر تشدد اور بدامنی کے ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

 

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروپس سماجی رابطے کی ویب سائٹس، ذاتی روابط اور پروپیگنڈے کے ذریعے تعلیم یافتہ اور کمزور مالی پس منظر کے حامل نوجوانوں کو تلاش کرتے ہیں جس کے بعد انھیں مختلف مراعات کا لالچ دے کر اپنے نیٹ ورکس کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ تفتیش اور زیر حراست افراد کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں میں پہلے احساس محرومی کو جگایا جاتا ہے، پھر نوجوانوں کے حکومت مخالف جذبات سے بھڑکایا جاتا ہے، پھر انہیں روزگار، بیرونِ ملک یا داخلی اسکالرشپس، ماہانہ معاوضے اور خاندان کے تحفظ کے عوض گروپ میں شامل ہونے کی پیشکش کی جاتی۔ جب نوجوان راضی ہو جاتے ہیں تو انہیں پہاڑوں یا خفیہ ٹھکانوں میں لے جایا جاتا ہے۔ اکثر صورتوں میں وہاں انہیں مسلح کارروائیوں یا ہتھیار بردار رولز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کچھ کی تصویروں کو لاپتا دکھا کر رشتہ داروں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق یہ گروپس نوجوانوں کی مایوسی، بے روزگاری اور محرومی کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دوران تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ گروہ طلبہ، اسکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں کو 50 ہزار روپے تک دے کر بھرتی کرتے تھے ماضی میں شدت پسند گروہ چھوٹے بچوں کو ہتھیاروں کی ترسیل میں بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔

 

یہ گروپس خاص طور پر ان نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں جو معاشی دباؤ، تعلیمی مایوسی یا سیاسی ناانصافی کے باعث ذہنی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ انہیں ابتدائی طور پر روزگار یا مالی مدد کی پیشکش کی جاتی ہے، بعض اوقات ان کے خاندانوں کو بھی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ان کے بچوں کو “تحفظ” اور “عزت” ملے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس چابت ہوتی ہے۔ زیادہ تر نوجوان چند ماہ کے اندر عسکری سرگرمیوں میں جھونک دیے جاتے ہیں، اور جو واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں،انھیں شدید دباؤ یا تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ کسی حادثے میں پار کر دیا جاتا ہے۔

سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں دہشتگردوں کو پٹہ ڈالنے میں ناکام کیوں؟

مبصرین کے مطابق بلوچستان کے نوجوانوں کو ورغلانے میں ریاستی ناکامی، تعلیم و روزگار کی کمی، اور انصاف کی عدم فراہمی سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب تک بلوچستان میں احساس محرومی کو ختم کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو روزگار، عزت اور شناخت کا حقیقی موقع نہیں دیا جائے گا، شدت پسند عناصر بلوچ نوجوانوں کو ایسے ہی اپنے شرپسندانہ سرگرمیوں میں استعمال کرتے رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایسی بھرتیوں کے مؤثر ذرائع بن چکے ہیں، جہاں شدت پسند گروہ آن لائن پروپیگنڈا کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے مسائل کا واحد حل عسکری مزاحمت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی ہے جس میں روزگار کے مواقع، تعلیم، سماجی انصاف اور مقامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ریاست بلوچ نوجوانوں کو بہتر مستقبل، انصاف اور عزت کا یقین دلا دے تو بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیموں کے جھوٹے وعدے اپنی کشش کھو دیں گے، اور شدت پسند گروپوں کا نوجوانوں پر اثر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق جب ریاستی ادارے مظالم، جبری گمشدگیاں یا غیر شفافیت کے الزامات کو بروقت اور شفاف انداز میں حل کریں گے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو گابلکہ نوجوانوں کے ان دہشتگرد تنظیموں میں بھرتی کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

Back to top button