27ویں آئینی ترمیم پاس کرانے کے لیے نمبرز گیم کتنی آسان ہے ؟

پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک بار پھر آئینی ترامیم کا طوفان برپا ہے، جس کا بنیادی مقصد فوجی قیادت کے ہاتھ مضبوط کرنا اور عدلیہ کو مزید کمزور کرنا ہے۔ تاہم 26ویں آئینی ترمیم کے برعکس، 27ویں آئینی ترمیم کروانا حکومت کے لیے قدرے آسان دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اگر پیپلز پارٹی نون لیگ کے ساتھ کھڑی رہے تو پارلیمنٹ میں نمبرز گیم مکمل طور پر اس کے حق میں ہے۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق، مجوزہ آئینی ترمیم کو نومبر کے دوسرے ہفتے تک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کروانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم اس سے پہلے نون لیگ کی وفاقی حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت حاصل کرے کیونکہ اس کی قیادت صوبوں اور وفاق کے مابین وسائل کی تقسیم میں کوئی ترمیم قبول کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اس سے صوبائی خود مختاری پر زد پڑے گی جو اس کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
گزشتہ سال جب 26ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا گیا تو حکومت کو اپنی دو تہائی اکثریت مکمل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے باوجود چھوٹی جماعتوں جیسے جے یو آئی (ف)، ایم کیو ایم اور دیگر کو منانے میں کئی ہفتے لگے تھے۔ تاہم اس بار حالات مختلف ہیں، اور 27ویں ترمیم کے لیے موجودہ نمبرز گیم حکومت کے لیے کافی سازگار دکھائی دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت، یعنی 224 ووٹ درکار ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس پہلے ہی 237 اراکین کی حمایت موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت سے 13 ووٹ زیادہ ہیں، اور اسے جے یو آئی (ف) کو منانے کی ضرورت نہیں پڑے گی جیسا کہ 26ویں ترمیم کے دوران پیش آیا تھا۔
نمبرز گیم کے مطابق قومی اسمبلی میں حکومتی بینچز پر اس وقت مسلم لیگ (ن) کے 125 ارکان، پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم پاکستان کے 22، مسلم لیگ ق کے پانچ، استحکام پاکستان پارٹی کے چار، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ضیا کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ ان کے علاوہ چار آزاد ارکان بھی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر حکومت کے پاس 237 اراکین کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن بینچز پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 75 ارکان موجود ہیں، جن کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام کے 10 ارکان اور بلوچستان نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ اس طرح اپوزیشن بینچز پر مجموعی طور پر 89 اراکین ہیں۔
ان اعداد و شمار کے مطابق، اگر حکومت اپنے اتحادیوں کا ساتھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کی منظوری کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر ممکن دکھائی دیتی ہے۔
اعداد و شمار کی روشنی میں ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں صورتحال حکومت کے لیے نسبتاً پیچیدہ ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ سینیٹ میں حکومت کو دو تہائی اکثریت کے حصول کے لیے 64 ووٹ درکار ہیں، جبکہ حکومتی اتحاد کے پاس اس وقت 61 اراکین کی حمایت موجود ہے۔ ان میں پیپلز پارٹی کے 26، مسلم لیگ (ن) کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے چار، ایم کیو ایم کے تین، مسلم لیگ (ق) اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک، اور تین آزاد سینیٹرز یعنی عبد الکریم، عبد القادر اور محسن نقوی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ تین سینیٹرز فیصل واوڈا، انوار الحق کاکڑ اور اسد قاسم ایسے ہیں جو کسی جماعت سے وابستہ نہیں لیکن مختلف قانون سازیوں کے دوران عمومی طور پر حکومت کی حمایت کرتے نظر آئے ہیں۔
اگر یہی فارمولا برقرار رہتا ہے تو حکومت کو سینیٹ میں بھی ممکنہ طور پر 65 ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں، جو کہ دو تہائی اکثریت کے لیے درکار 64 ووٹوں سے ایک ووٹ زیادہ ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ چھ آزاد اراکین، جے یو آئی (ف) کے سات، مجلس وحدت المسلمین کا ایک اور سنی اتحاد کونسل کا ایک سینیٹر موجود ہے۔ یوں اپوزیشن بینچز کی کل تعداد 30 بنتی ہے، جو ممکنہ طور پر 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرے گی۔
پیپلز پارٹی 27 ویں ترمیم کی کس شق کی مخالفت کرے گی؟
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی کے تین اور آزاد سینیٹر نسیمہ احسان کی بھی حمایت ملی تھی۔ اگر یہ فارمولا برقرار رہتا ہے تو حکومت کےلیے سینیٹ میں اس مرتبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔
