ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ پاکستان کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر میزائل حملوں نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا کر دئیے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف وہاں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی کشیدہ صورتحال اور امریکہ اور اسرائیل کےحملے پاکستانی قیادت کے لیے اقتصادی دباؤ اور سکیورٹی خدشات سمیت کئی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، مبصرین کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے لیے ایران مخالف امریکی عزائم اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ اس لئے پاکستان کا ایران میں امریکی و اسرائیلی فوجی مداخلت کے اثرات سے خود کو الگ رکھنا آسان نہیں ہو گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں جنگ بھڑکی تو اس کے پاکستان پر براہِ راست سیکیورٹی، معاشی اور سفارتی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ آور ہوکر اس کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران امریکہ کے لیے ترنوالہ ثابت نہیں ہو گا۔ امریکہ کیلئے ایران کو زیر کرنا آسان نہیں ہو گا، ایران کے ساتھ کوئی بھی بڑی پنگے بازی امریکا کو مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران پر حملے کے ساتھ ساتھ وہاں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس سے خطے میں ایک نہایت خطرناک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال جنم لے چکی ہے۔ تاہم ایران نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور بحری راستے اس کے جائز اہداف ہوں گے۔ مبصرین کے بقول ٹرمپ ایران کے خلاف وینزویلا جیسی جارحانہ کارروائی دہرانا چاہتے ہیں، تاہم ایران کے خلاف ایسا کرنا آسان نہیں ہو گا، ادھر ایرانی قیادت نے کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایران نے پہلے سے کہیں زیادہ دفاعی تیاری کر رکھی ہے۔ تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کی معاشی اور عسکری پوزیشن اسرائیل کے ساتھ حالیہ بارہ روزہ جنگ اور گزشتہ برس امریکی بمباری میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خاصی کمزور ہو چکی ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی فوجی کارروائی ایرانی عوام کو بیرونی مداخلت کے خلاف دوبارہ متحد کر سکتی ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ دنوں تہران اور دیگر شہروں میں حکومت کے حق میں ہونے والے بڑے اجتماعات سے ہو چکا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا۔ پاکستان میں درآمدی تیل اور گیس مزید مہنگی ہو جائیں گی جس کی وجہ سےپہلے سے موجود ملکہ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔”دفاعی ماہرین کے مطابق ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں غیر ملکی جنگجوؤں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگا، اور یہ عناصر پاکستان کی سرحدوں کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ "ایران میں پیدا ہونے والا کوئی بھی خلا طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، اور پاکستان کو داخلی سکیورٹی کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔”
پاکستان کو افغانستان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان پر عالمی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے میں حصہ نہ لینے یا مخالفت کرنے والے ممالک پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق، "پاکستان کو عالمی سیاست میں غیر ضروری طور پر امریکہ اور اسرائیل کے بلاک کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد پاکستان کو غیر متوقع فوجی اور سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان کی سرحدیں، خاص طور پر بلوچستان اور شمالی علاقہ جات، ممکنہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے بلکہ پاکستان پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کو اپنے اقتصادی، عسکری اور سفارتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ داخلی سکیورٹی، معاشی استحکام اور عالمی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہو گا تاکہ آسانی کے ساتھ اس عالمی چیلنج سے نبردآزاما ہو سکے،
