غنوی بھٹو نے فاطمہ بھٹو کی شخصیت کو کس طرح تباہ کیا ؟

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں پہلی مرتبہ اپنی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو کے ساتھ اپنے تلخ تعلقات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ نے ان کی شخصیت پر کتنے گہرے منفی اثرات ڈالے۔
جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ کے مطابق فاطمہ بھٹو نے اپنی تلخ یاداشتوں پر مبنی نئی کتاب "دی آور آف دی وولف” The Hour of the Wolf میں نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنی پالتو پلی ’کوکو‘ کو بھی ایک علامت اور استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے وہ آمریت، ریاستی جبر، ذاتی تنہائی، تشدد اور استبداد کے نتیجے میں جنم لینے والے نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتی ہیں۔ کتاب کا عنوان یعنی ‘دی آور آف دی وولف’ سحر سے پہلے کی اس گھڑی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فاطمہ بھٹو نے اپنے والد میر مرتضیٰ بھٹو کی موت کے بعد اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی تنہائی، خوف اور داخلی کرب کو نہایت دیانت داری سے بیان کیا ہے۔ کتاب میں ایک طرف انہوں نے ایک نامعلوم شخص کے ساتھ گیارہ سالہ خفیہ تعلق، جھوٹے وعدوں، بے وفائی اور جذباتی استحصال کی تفصیل دی ہے، تو دوسری طرف اپنے سوتیلے بھائی ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور اپنی پالتو پلی ’کوکو‘ کے ساتھ جذباتی وابستگی کو نمایاں کیا ہے۔ ان کے مطابق فاطمہ بھٹو نے پہلی مرتبہ اپنی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو کے بارے میں کھل کر لکھا ہے اور انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کو اپنی ذہنی ساخت پر منفی طور پر اثر انداز ہونے والا ایک بنیادی عنصر قرار دیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق کتاب کے صفحہ 41 پر فاطمہ بھٹو ایک واقعہ بیان کرتی ہیں جہاں انہوں نے اپنی سوتیلی والدہ سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی جائیداد اور دولت کا حساب کتاب خود کیوں نہیں سنبھال سکتیں۔ اس سوال پر غنویٰ بھٹو کا ردِعمل نہایت سخت تھا، انہوں نے انکو گالی دی، زور سے ان کے کمرے کا دروازہ بند کیا اور گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔ فاطمہ بھٹو کے مطابق اس موقع پر غنویٰ نے انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے مرتضیٰ بھٹو کی موت کے بعد ان کی جان بچائی تھی لہذا ایسی عورت سے حساب کتاب مانگنا ناشکری ہے۔
فاطمہ بھٹو اعتراف کرتی ہیں کہ وہ تشدد، خوف اور قریبی لوگوں کو کھونے کے احساس کے باعث فوراً ذہنی طور پر ہار مان گئیں اور آئندہ حساب کتاب نہ دیکھنے کا وعدہ کر لیا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق فاطمہ بھٹو نے اپنی سوتیلی ماں غنوی اور بے نام عاشق کی شخصیات کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک سانس گھونٹنے والے رشتے سے نکل کر وہ ایک اور ظالمانہ تعلق میں پھنس گئیں۔ صفحہ 44 پر وہ لکھتی ہیں کہ بالغ ہونے کے باوجود انہیں محبت کی اصل پہچان نہیں تھی اور اس کی وجہ ان کی اپنی غلطیاں اور جذباتی ناپختگی تھی۔
اپنی کتاب میں فاطمہ بھٹو جانوروں کے ساتھ اپنے تعلق کو انسانی جذبات سے جوڑتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ان کا پالتو ہرن اس لیے مر گیا کیونکہ اسے کراچی چڑیا گھر دے دیا گیا تھا اور اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔ اسی طرح اپنے کتے ’لاما‘ کی موت کو بھی وہ نظرانداز کیے جانے کا نتیجہ قرار دیتی ہیں، جبکہ ’کوکو‘ ان کی تنہائی اور اندرونی کرب کی علامت بن جاتی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے کتاب میں اس بے نام مرد کی جانب سے خود پر ہونے والے تشدد کا ذکر بھی کیا ہے، جس نے نہ صرف ’کوکو‘ کو مار ڈالا بلکہ ایک موقع پر فاطمہ کی انگلی اس قدر مروڑی کہ اس کے پٹھے کے ریشے تک ٹوٹ گئے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق کتاب کے صفحہ 55 پر فاطمہ اس شخص کے ساتھ گزارے گئے لمحات بیان کرتی ہیں، جب وہ ان کو رات کے اندھیرے میں، بند آنکھوں سے چلنے، زمین کو محسوس کرنے اور خوف پر قابو پانے کی تربیت دیتا تھا۔ فاطمہ کے مطابق وہ سمجھتی تھیں کہ یہ شخص انہیں اپنے بغیر جینے اور محفوظ رہنے کی تربیت دے رہا ہے، جسے وہ تب خود پر ایک مہربانی سمجھ کر برداشت کرتی رہیں۔ یاد رہے کہ فاطمہ بھٹو کی ابتدائی زندگی دمشق میں گزری، جہاں انہوں نے ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی اور جانوروں، انسانوں اور کائنات کے باہمی تعلق کو اپنی زندگی سے جوڑا۔ وہ اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ گزارے گئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ وہ ریاستی جبر اور خوف کے سائے میں پلی بڑھیں اور اپنے تعلقات کو ہمیشہ خفیہ رکھا۔
سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں کہ فاطمہ بھٹو اپنی سابقہ کتاب ‘خون اور پسینہ’ میں بے نظیر بھٹو کو اپنے والد اور چچا کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا چکی ہیں، تاہم نئی کتاب میں بے نظیر بھٹو، اپنی اصل والدہ، بلاول، بختاور اور آصفہ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں فاطمہ بھٹو نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر گراہم سے ان کے دو بچے میر اور کیسپئن ہیں اور وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اب سوتیلی ماں کے خوف سے نکل چکی ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کر چکی ہیں کہ بعض اوقات ماں کی محبت میں بھی زہریلا پن شامل ہوتا ہے۔
عمران نے بسنت پر مریم نواز کے لیے کونسی پریشانی کھڑی کر دی؟
سہیل وڑائچ کے مطابق فاطمہ بھٹو نے اپنے بھائی ذوالفقار جونیئر کے سیاسی مستقبل پر کوئی بات نہیں کی، تاہم ان کے لیے محبت کا اظہار ضرور کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ بھی جانوروں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بمبی نامی ہرن کے گھر سے نکالے جانے پر ذوالفقار جونیئر کی خاموش تکلیف کا ذکر کیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے بقول فاطمہ بھٹو کی یہ کتاب محض ایک فرد کی محرومیوں کی داستان نہیں بلکہ جبر میں زندہ رہنے والے انسانوں اور معاشروں پر پڑنے والے گہرے نفسیاتی بوجھ کی عکاسی ہے۔ ان کے مطابق جب تک انصاف اور امن قائم نہیں ہوتا، فاطمہ بھٹو اور ان جیسے کردار ذہنی اذیت کی سولی پر لٹکے رہیں گے۔
