عمران کی احتجاجی سیاست نےPTIکوکیسے تباہ کیاہے؟

اپنی جارحانہ اور غیر سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف مکافات عمل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کی عمرانی پالیسیوں کی وجہ سے اسے عوامی حمایت میسر ہے، نہ ہی ریاستی اداروں کا اعتماد، کوئی بھی ملک نہ ان پر اعتبار کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی عالمی سیاست میں انھیں اس وقت کوئی پشت پناہی حاصل ہے۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے عام انتخابات میں کلین سویت کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی آئی کا اب اسمبلیوں سے صفایا شروع ہو چکا ہے۔

مبصرین کے مطابق جب سیاسی جماعتیں حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے خوش فہمیوں کا شکار ہو جائیں، زمینی حقائق کو مسترد کرکے افواہوں، افسانوں اور خود ساختہ عظمتوں پر یقین کرنے لگیں، تو وہ صرف شکست نہیں کھاتیں بلکہ اپنی ساکھ، طاقت اور مستقبل تینوں کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیتی ہیں۔ پی ٹی آئی بھی آج بحیثیت جماعت اسی عبرتناک انجام سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ اپنی غیر سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے خود کو انقلاب کا پیش خیمہ، عوامی نجات دہندہ اور ریاستی اداروں کی آنکھوں کا تارا سمجھنے والی جماعت آج ایوانوں سے بے دخل، عدالتوں سے مایوس، سڑکوں سے غائب اور بیرونی دنیا سے کٹی ہوئی نظر آتی ہے۔

ناقدین کے مطابق اپریل 2022ء سے لے کر آج تک، پی ٹی آئی کی قیادت نے صرف سیاسی بلنڈر ہی نہیں کیے، بلکہ انہوں نے مسلسل ایسی غلط فہمیوں کو پروان چڑھایا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ایسا بیانیہ بنایا گیا جیسے کوئی عالمی سازش بس پلٹنے والی ہے، کوئی نیا عمرانی معاہدہ طے ہونے ہی والا ہے، اور جیسے کوئی خفیہ ہاتھ اب بھی کپتان کی واپسی کی راہیں ہموار کر رہا ہے۔مگر حقیقت میں نہ انقلاب آیا، نہ کارکن نکلے، نہ ٹرمپ نے کال کی، نہ عدلیہ نے ریلیف دیا، نہ اداروں نے دروازے کھولے—الٹا ایک ایک در بند ہوتا چلا گیا۔ عمرانی پالیسیوں کی وجہ سے اب جو کچھ باقی بچا ہے وہ ایک منتشر تنظیم، مایوس کارکن، الجھی قیادت، اور بیانیے کا وہ ملبہ ہے جو کسی صورت پی ٹی آئی کی بقاء کا ضامن بنتا دکھائی نہیں دیتا۔

اپریل 2022ء کے بعد سے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اسے ایک کے بعد ایک مشکل کا شکار کرتی رہی وہیں پی ٹی آئی کے حامیوں یا نرم گوشہ رکھنے والوں کے تخمینے اور اندازے بھی غلط نکلے۔پاکستان تحریک انصاف نے ایک تو بلنڈرز پر بلنڈرز کئے دوسری جانب اس کے حمایتیوں نے ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی کہ نجانے کون سا انقلاب دستک دے رہا ہے، کئی مرتبہ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مقتدرہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات کرنا چاہتی ہے مگر بانی پی ٹی آئی نہیں مان رہے، کچھ حلقوں نے یہ منظر کشی بھی کی کہ بیک ڈور معاملات طے پا چکے ہیں، بس خان صاحب بنی گالہ شفٹ ہوں گے اور موجودہ حکومت کی سختی آنے والی ہے۔ پھر کہا گیا کہ امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یعنی 2025ء کے آغاز ہی سے پاکستان کے سیاسی معاملات بھی تبدیل ہونے شروع ہو جائیں گے، تمام امیدیں صدر ٹرمپ سے وابستہ کر لی گئیں۔

ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ خود حکومت میں بیٹھی کچھ شخصیات یہ سمجھنے لگیں کہ واقعی صدر ٹرمپ کے آنے سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا دباؤ آسکتا ہے، مگر سب کچھ الٹ ہو گیا۔اس مرتبہ بھی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی مقتدرہ کے ساتھ بہترین تعلقات استوار رکھنے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ کئی شعبوں میں شراکت داری کی بھی خواہاں نظر آئی، پاکستان تحریک انصاف نے جن تین عوامل کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کیں ان میں صدر ٹرمپ، پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں اور عوام کا سڑکوں پر نکلنا تھا، مگر ان تینوں کے محرکات تبدیل ہو کر رہ گئے۔

ملک کی اعلیٰ عدالتیں جو افتخار محمد چودھری کے دور سے جوڈیشل ایکٹوازم کے باعث کسی بھی حکومت کیلئے مشکلات کھڑی کرتی رہیں اور حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف کو کچھ بنچز سے جس طرح ریلیف مل رہا تھا، 26 ویں آئینی ترمیم نے یہ سب کچھ ختم کر کے رکھ دیا، اس طرح عدالتی محاذ سے حکومت کیلئے تمام چیلنجز تقریباً ختم ہوگئے اور پاکستان تحریک انصاف کی ایک بڑی امید بھی ختم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب مقتدرہ نے پہلے روز سے بڑا واضح مؤقف سامنے رکھا تھا کہ 9 مئی کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، پاکستان تحریک انصاف سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوگی، اگر بات چیت کرنی ہے تو پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ بیٹھے اور ایسا کرنے پر بھی 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنا ہوگی، پی ٹی آئی حالات کو معمول پر لانے کے تمام مواقع گنواتی رہی اور حکومت کے ساتھ بیٹھنے کی آفرز کو ٹھکراتی رہی۔

9 مئی کے واقعات کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا، معافی مانگنا تو دور کی بات الٹا اداروں پر الزام لگا دیا، جیل سے بانی پی ٹی آئی کے ایکس ہینڈل اور سوشل میڈیا کیلئے ہدایات جاری ہوتی رہیں اور اداروں کے خلاف مواد پوسٹ ہوتا رہا، تحریک انصاف کا اندازہ تھا کہ مقتدرہ کو دباؤ میں لا کر انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی مل جائے گی مگر اس کا اثر الٹا ہوا، نہ تو ٹرمپ مدد کو آئے نہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر نکل سکے، معیشت چلتی دکھائی دینے لگی، ملک ڈیفالٹ کے بحران سے باہر نکل آیا۔

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے اب نہ تو بیرون ملک سے کسی دباؤ کی امید باقی ہے جبکہ ایوانوں سے بھی پی ٹی آئی کی بڑی آوازیں خاموش ہو رہی ہیں، سڑکوں پر نکلنے کے امتحان میں بھی پاکستان تحریک انصاف پانچ اگست کو مکمل نا کام رہی، آئینی بنچ بننے کے بعد پی ٹی آئی اب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کی جانب بھی نہیں دیکھ سکتی، دوسری جانب پی ٹی آئی نے مقتدرہ کو بار بار چڑا کر دوریاں اتنی بڑھا لی ہیں کہ مستقبل قریب میں کسی قسم کی انگیجمنٹ کی توقع بھی نظر نہیں آرہی، تحریک انصاف کے اپنے کلچر نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ پارٹی کے اندر نہ تو کوئی رہنما الزامات سے محفوظ ہے نہ ہی کوئی سوشل میڈیا سپورٹر، اس صورتحال میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مشکلات کسی طور کم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔

Back to top button