پاکستانی ریاست عمران خان کی یرغمال کیسے بن چکی ہے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان ہے اور اسی لیے آج ہماری ریاست اور سیاست دونوں عمران کی یرغمال بن چکی ہیں۔ نیازی کے مطابق عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی دراصل دونوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ عمران کی سیاسی ناتجربہ کاری سے فوج کو فائدہ پہنچا، جبکہ فوج کی غلط پالیسیوں سے عمران کی سیاست کو تقویت ملی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش تقریباً تمام بڑے مسائل کی جڑ سیاسی عدم استحکام ہے، جو اب ایک مستقل اور خطرناک بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت، معاشرتی بگاڑ اور انتظامی بحران سب اسی سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہیں۔ حفیظ نیازی نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک وینزویلا اور نائیجیریا بھی سیاسی عدم استحکام کے باعث افراتفری اور انارکی کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ دنیا کے معاشی طور پر مضبوط ممالک میں اگر کوئی ایک چیز مشترک ہے تو وہ سیاسی استحکام کا عنصر ہے۔

 

انہوں نے پاکستان کی ماضی کی معاشی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1960ء سے 1970ء تک پاکستان نے دنیا میں غیر معمولی معاشی ترقی کی۔ اس دور میں شرحِ نمو کئی برس 9 سے 11 فیصد تک رہی اور ملک میں ترقی اور خوشحالی کا جشن منایا جا رہا تھا، مگر پھر ایوبی آمریت کے نتیجے میں جو سیاسی عدم استحکام پید ہوا اس کے باعث جنرل ایوب خان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اس کے بعد حالات مذید بگڑتے چلے گئے اور بالآخر سانحہ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا۔

 

حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں طاقت کے مراکز اور نظام بار بار بدلے گئے، مگر ہر نظام ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد ناکام ہو گیا۔ 1951 کے راولپنڈی سازش کیس سے لے کر آج تک ہمارا ملک ایک ہی دائرے میں گھوم رہا ہے، جہاں نئے تجربات تو ہوتے ہیں مگر نتائج وہی پرانے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ موجودہ نظام کب تک چلے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی سمت کیا ہو گی اور کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ کر ملک میں سیاسی استحکام لا پائیں گے؟

 

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ 1953ء سے لے کر آج تک کوئی بھی وزیراعظم مکمل طور پر آزادانہ طور پر اقتدار میں نہیں آیا۔ محمد علی بوگرا، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان سمیت کئی وزرائے اعظم کو طاقت کے مراکز کی حمایت سے اقتدار ملا، مگر جب انہوں نے خود کو حقیقی وزیراعظم بننے کی کوشش کی تو انہیں بے توقیر کرتے ہوئے قطار سے بے دخل کر دیا گیا۔ نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئے، ان کے تعلقات فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کشیدہ رہے۔ انہیں بار بار کمزور کیا گیا، حتیٰ کہ بعض مواقع پر ان پر انتہائی سنگین الزامات بھی لگے۔ نیازی کے مطابق 2013ء میں بھی نواز شریف کے خلاف احتجاجی تحریکوں کے ذریعے ریاستی دباؤ بڑھایا گیا تاکہ ان کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

 

حفیظ نیازی نے واضح کیا کہ سول ملٹری تعلقات میں جو عدم اعتماد 1951ء میں پیدا ہوا، وہ آج بھی برقرار ہے۔ ہر بار وزرائے اعظم کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگر تمام ذمہ داری کسی ایک فوجی سربراہ پر ڈالنا بھی درست نہیں کیونکہ ریاستی فیصلے افراد کے نہیں بلکہ اداروں کے ہوتے ہیں۔ نیازی کے مطابق عمران خان کو اقتدار میں لانے اور پھر نکالنے کا فیصلہ بھی ادارہ جاتی سطح پر کیا گیا تھا، اور اس فیصلے کا تعلق کسی ایک شخصیت یا تقرری سے نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت اسٹیبلشمنٹ پر کوئی حقیقی دباؤ نہیں ڈال سکی، البتہ موجودہ سیاسی کشمکش نے ریاست کو شدید کمزور کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ سیاسی عدم استحکام کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

آن لائن فراڈیے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کو بھی لوٹنے لگے

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی دراصل دونوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ عمران خان کی سیاسی ناتجربہ کاری سے اسٹیبلشمنٹ کو فائدہ پہنچا، جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں سے عمران خان کی سیاست کو تقویت ملی۔ انکا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اس وقت جو بڑے اہداف ہیں ان میں پہلے نمبر پر عمران خان کی سیاست ختم کرنا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے چند مہینے پاکستان کی سیاست کے لیے نہایت فیصلہ کن ہوں گے اور انہی فیصلوں کے نتائج ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

Back to top button