پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار کم ہونے کے بجائے بڑھ کیسے گیا ؟

27ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد پاکستان میں طاقت کا توازن مکمل طور پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جھک گیا ہے۔ درحقیقت، آئین میں کی گئی ان ترامیم نے شخصی اقتدار کی راہ ہموار کر دی ہے۔ پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نئے اختیارات اور عمر بھر کے لیے گرفتاری اور مقدمات سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک جمہوری حکومت نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے تمام اختیارات فرد واحد کی گود میں ڈال دئیے ہیں جس کا خمیازہ آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام کو فرد واحد کی حکمرانی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔ تاہم ترمیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم سے جہاں مسلح افواج کے انتظامی ڈھانچے میں شفافیت آئے گی وہیں عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
مبصرین کے مطابق پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار طویل عرصے سے نمایاں رہا ہے، کبھی براہِ راست اقتدار پر قبضے کی صورت میں تو کبھی پس پردہ اثر و رسوخ کے ذریعے اکثریتی جمہوری حکومتیں بھی فوج ہی چلاتی رہی ہے۔ناقدین کے مطابق تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں کبھی سویلین خود مختاری نہیں بڑھی۔ کبھی ملک میں ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیا الحق جیسے فوجی حکمرانوں کی صورت میں عسکری غلبہ نظر آیا تو کبھی جنرل باجوہ کی طرح فوجی حکمران سویلین عسکری توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ’ہائبرڈ نظام‘ چلاتے دکھائی دئیے۔ تاہم مبصرین کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ملکی طاقت کا ترازو فوج کے حق میں جھک گیا ہے۔
ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مائیکل کوگل مین کے بقول 27ویں آئینی ترمیم اس بات کا تازہ ترین، بلکہ شاید سب سے مضبوط اشارہ ہے کہ پاکستان اب ہائبرڈ نظام نہیں بلکہ مابعد ہائبرڈ نظام کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔‘پاکستان میں ایسی صورتحال نظر آ رہی ہے جہاں سول اور فوج کے درمیان طاقت کا فرق اپنی حد سے بڑھ چکا ہے۔‘
ترمیم کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر اب بحریہ اور فضائیہ کی کمان کے بھی نگران ہوں گے۔ ان کا فیلڈ مارشل کا عہدہ اور وردی تاحیات رہیں گی اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انھیں ذمہ داریاں سونپی جائیں گی جو صدر وزیراعظم کے مشورے سے طے کریں گے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اب جنرل عاصم منیر کو زندگی بھر عوامی امور میں نمایاں کردار حاصل رہے گا۔ تاہم حکام کے مطابق آئینی ترمیم سے ملکی عسکری کمان کے ڈھانچے میں وضاحت آئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق آئینی ترامیم دفاع کے شعبے کو جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ مگر ناقدین کے نزدیک یہ فوج کو مزید اختیارات دینے کے مترادف ہیں۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی شریک چیئرپرسن اور صحافی منیزے جہانگیر کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ’فوج اور سویلین حکومت کے مابین طاقت کا توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فوج کو محدود کرنے کی ضرورت تھی ایک نام نہاد جمہورٰ حکومت نے طاقت کا پلڑا ایک بار پھر فوج کے حق میں جھکا دیا ہے۔‘
واضح رہے کہ 27ویں آئین ترمیم کا دوسرا پہلو عدالتوں اور عدلیہ سے متعلق ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی مقدمات کی سماعت کیلئے ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے۔ جس میں ججز کی تقرری وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے اور صدر آصف زرداری کی منظوری سے عمل میں لائی جا رہی ہے تاہم منیزے جہانگیر کے مطابق آئینی عدالت کا قیام منصفانہ ٹرائل کے حق کی نوعیت اور شکل ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا کیونکہ آئینی عدالت میں ججز کی تقرری میں انتظامیہ کا اثر بڑھ گیا ہے۔ جب ریاست یہ طے کرے کہ کس بنچ میں کون بیٹھے گا تو بطور ایک سائل کیا مجھے منصفانہ ٹرائل کی کیا کوئی امید رہے گی؟‘
جنرل عاصم منیر ملکی تاریخ کے طاقتور ترین فوجی سربراہ کیسے بنے؟
خیال رہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام سے قبل آئینی مقدمات کا فیصلہ سپریم کورٹ کرتی تھی۔ تاہم کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ آئینی کیسز کی وجہ سے فوجداری اور دیوانی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں معاملات کو الگ الگ کرنے سے عدالتی عمل میں بہتری آئے گی۔تاہم سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد اسے غیر سنجیدہ دلیل قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی اکثریت سپریم کورٹ میں نہیں ہے۔ اگر حکومت کو واقعی مقدمات جلد نمٹانے کی فکر ہوتی تو وہ لوئر کورٹس میں اصلاحات کا فیصلہ کرتی جہاں پر اس وقت لاکھوں کی تعداد میں کیسز زیر التوا ہیں۔
مبصرین کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد ججز کو ایک عدالت سے دوسرے عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق کسی جج کو اس کے صوبے سے اٹھا کر دوسری ہائی کورٹ میں بھیج دینا اسے مزید حکومتی لائن پر چلنے کے دباؤ میں لائے گا۔‘جس سے ملک میں طاقت کا توازن بالکل تباہ ہو جائے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے جمہوریت سے آمریت کی طرف سرکنے کا اشارہ دیتی ہے۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پچھلے سال کی 26ویں ترمیم پر استوار ہے جس کے ذریعے قانون سازوں کو چیف جسٹس آف پاکستان کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تھا جبکہ اب 28ویں ترمیم کی باتیں بھی گردش کرنے لگی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں طاقت کا توازن بری طرح سے اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جھک چکا ہے۔‘
