انسانی آزادیوں پر پابندیاں حکومت کو کتنی بھاری پڑیں گی؟

 

 

 

جیو ٹی وی سے وابستہ سینیئر اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آج سے 106 سال پہلے اگر غلام ہندوستان میں جمہوری آزادیوں کو محدود کرنے پر احتجاج ہوتا تھا تو آج کی آزاد اور باخبر دنیا میں حکومت کی جانب سے انسانی آزادیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بھی تباہ کن نتائج نکلیں گے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 116 سال سے اس خطے کے لوگ جمہوری خواب میں زندہ ہیں؛ وہ کبھی دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو کبھی طاقت کے دباؤ سے دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اب صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خواب ٹوٹنے کے قریب ہے۔ اقتدار میں موجود سیاسی قیادتیں خود جمہوریت سرنڈر کرتی جا رہی ہیں۔ آئین میں کی جانے والی حالیہ 26 ویں اور 27 ویں ترامیم 1973ء کے متفقہ آئین کی روح کے منافی ہیں، کیونکہ 1973ء کا آئین قومی، مذہبی، سیاسی اور غیر سیاسی آرا کے ایک تاریخی اتفاق کا نام ہے۔

 

سہیل وڑائچ پوچھتے ہیں کہ کیا 26 ویں یا 27 ویں ترامیم پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا گیا؟ کیا ایسا تو نہیں کہ 106 سال کی جدوجہد کے بعد ہم دوبارہ 1919ء کی طرف لوٹ رہے ہیں؟ کیا ایک نیا رولٹ ایکٹ آنے والا ہے؟ اور کیا ریاست ایک نیا دائرے کا سفر شروع کرنے جا رہی ہے؟

 

سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو معلوم نہیں ہو رہا کہ عدلیہ کی آزادی، پارلیمان کی خودمختاری اور سویلین حقوق بتدریج کمزور پڑ رہے ہیں؟ انکے مطابق عمران خان، آصف زرداری اور نواز شریف کا سیاسی کھیل کچھ بھی ہو، لیکن حقیقی طور پر تو ان دستوری و سیاسی تبدیلیوں کا نقصان سب سے پہلے عام آدمی کی آزادیوں کو پہنچ رہا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دور اقتدار سویلین آزادیوں کے لیے خطرناک ترین تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کا رگڑا نکالتے ہوئے اپنی جمہوری سپیس بھی محدود کر دی، مگر اس اختلاف کے باوجود یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی نے ملک سے جمہوریت کے 46 سال چھین لیے تھے۔ اب اگر عمران خان کو کچھ ہو جاتا ہے اور ایک نئی سیاسی ٹریجڈی وقوع پذیر ہو جاتی ہے تو یہ سیاہ بادل ہمارے سروں پر مستقل طور پر بھی جم سکتے ہیں۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق آج کی نازک سیاسی صورتِ حال کو سمجھنے کیلئے تاریخ میں جھانکنا ضروری ہے۔ 1909ء میں جب ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا تو پہلی بار منٹو مارلے اصلاحات کے ذریعے مقامی باشندوں کو یہ امید دلائی گئی کہ وہ ہمیشہ غلام نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل میں ان ہی کی نمائندہ حکومتیں وجود میں آئیں گی۔ ان اصلاحات کے آٹھ برس بعد 1917ء میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مانئیکو نے واضح سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ اب ہندوستان میں مقامی منتخب حکومتیں تشکیل دی جائیں گی، گویا آج سے 108 سال پہلے اس خطے کو جمہوری ذائقہ چکھا دیا گیا تھا۔

سہیل آفریدی نے عشق عمرانی میں KPKکا رگڑا کیسے نکالا؟

لیکن جب آزادی کی خواہش مضبوط ہوئی تو اسے کچلنے کے لیے 1919ء میں رولٹ ایکٹ نافذ کیا گیا، جسے سیاہ قانون کہا جاتا ہے۔ اس قانون کی بنیاد ہی شہری آزادیوں کی نفی پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسے کالا قانون قرار دے کر قانون ساز اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا، جبکہ مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ یعنی عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کر دیا۔ اسی پس منظر میں پنجاب میں شدید احتجاج بھڑک اٹھا۔ لاہور کے بریڈلا ہال سے ستیہ پال کی قیادت میں جلوس نکلا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اس تشدد سے ستیہ پال جاں بحق ہو گئے۔ ستیہ پال وہی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی والدہ گلاب دیوی کی یاد میں فیروز پور روڈ پر ٹی بی کا گلاب دیوی ہسپتال قائم کیا، جس کا سنگِ بنیاد مہاتما گاندھی نے رکھا اور اس کا یادگاری کتبہ آج بھی ہسپتال میں موجود ہے۔

 

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ ستیہ پال کے جاں بحق ہونے کے بعد امرتسر کانگریس کے رہنما سیف الدین کچلو نے احتجاج کی کال دی، اور اسی احتجاج کو روکنے کیلئے جلیانوالہ باغ کا تاریخی سانحہ پیش آیا، جہاں تین سو پچاس کے قریب نہتے شہریوں کو سرعام گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ لاہور اور امرتسر کے سانحات کے بعد جب پنجاب میں خوف اور غصے کی لہر دوڑنے لگی تو مزید دباؤ ڈالنے کیلئے گوجرانوالہ شہر پر ہوائی بمباری کی گئی۔ یہ وہ ماحول تھا جس نے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں آزادی کی آگ مزید بھڑکا دی اور انہوں نے لاہور، دہلی اور لندن تک مزاحمتی کارروائیاں کر کے تحریکِ آزادی کو تاریخ میں امر کر دیا۔

 

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کیا رولٹ ایکٹ کے تحت پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار دیا گیا، ملزم کو وکیل کا حق نہیں ملتا تھا، بغیر مقدمے کے دو سال تک قید رکھا جا سکتا تھا اور کھلے ٹرائل کے بجائے خفیہ عدالتی کارروائی کی اجازت تھی۔ غلامی کے باوجود ان پابندیوں نے پنجاب میں ایسا شدید ردّعمل پیدا کیا کہ برطانوی حکومت کو بتدریج لوگوں کو حقوق دینا پڑے۔ یہی وہ عوامی مزاحمت تھی جس کے نتیجے میں 1935ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ نافذ ہوا، اور پھر انہی کالے قوانین کے خلاف جدوجہد آگے بڑھتی ہوئی آخرکار 1947ء کی آزادی کے سورج تک جا پہنچی، جس نے ہندوستان اور پاکستان دونوں کو آزاد ریاستوں کی شکل دی۔

 

Back to top button