نیا پاکستان بنانے کے چکر میں عمران نے پرانا پاکستان کیسے برباد کیا

معروف تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ جب پراجیکٹ عمران خان کے ٹھیکے داروں نے انہیں ایک نئے قائد کے طور پر متعارف کروایا تو موصوف نے ایک نیا پاکستان بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن ہوا کچھ یوں کہ عمران نے اپنے قائدانہ پاگل پن میں نیا پاکستان بنانے کے لیے پرانے پاکستان کو بھی تباہ و برباد کرنا شروع کر دیا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں بلال غوری کہتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران نے موجودہ ریاستی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو ملیامیٹ کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس سے خود ان کے عسکری سرپرست اور پیش کار بھی خوفزدہ ہو گئے۔ عمران خان کی یہی روش بالآخر ان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنی اور آج وہ کرپشن کے متعدد مقدمات میں سزا کاٹتے ہوئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ بلال غوری قیادت کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک ایک قائد کا خودسر، سرکش اور جنگجو ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور ان تینوں عناصر کا مجموعہ سادہ الفاظ میں ’دیوانگی‘ کہلاتا ہے۔ ان کے مطابق تاریخ میں انقلابی قائدین کی کمی نہیں، مگر یہی انقلابی مزاج اکثر ریاستوں کے لیے تباہ کن نتائج لے کر آیا۔
بلال غوری نے اس تناظر میں عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤزے تنگ کی مثال دی۔ انہوں نے لکھا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران ماؤ کا انقلابی جنون کارآمد تھا، مگر نوزائیدہ ریاست کی تعمیر و ترقی کے لیے جنون کے بجائے عقل، تدبر اور بہتر انتظامی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ غوری کے مطابق ماؤ کے دور میں کیے گئے بعض فیصلوں نے چین کو شدید غذائی بحران اور قحط میں مبتلا کر دیا، جس کے نتیجے میں کروڑوں جانیں ضائع ہوئیں اور طویل عرصے تک ترقی کا سفر رک گیا۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ ماؤزے تنگ کی گریٹ لیپ فارورڈ جیسی مہمات نے فطری توازن کو شدید نقصان پہنچایا، حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں کے خلاف مہمات کے نتیجے میں چین کو ٹڈی دل جیسے قدرتی عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ غوری کے مطابق یہ مثال واضح کرتی ہے کہ انقلابی قائد جب ریاست چلانے پر آتا ہے تو اسکے فیصلے تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جب ایک نیا ملک وجود میں آ رہا تھا تو قائداعظم محمد علی جناح جیسے قائد کی ضرورت تھی، مگر ریاست کے استحکام کے بعد قیادت کے بجائے مضبوط انتظامی نظام درکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو ایک طاقتور قائد کے طور پر ابھرے، تاہم ان کے دور میں بھی ملک کو شدید سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، اگرچہ بعد ازاں انہوں نے باقی ماندہ پاکستان کی نئی بنیادیں استوار کیں۔
عمران کو راولپنڈی سے کسی دور دراز جیل میں شفٹ کرنے کا امکان
بلال غوری کے مطابق 2010ء میں عمران خان کو ایک نئے قائد کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر عوام میں انقلابی تبدیلی کی امید پیدا کی۔ عمران خان میں غیر معمولی قائدانہ صلاحیت اور آتشِ جنون موجود ہے، مگر یہی جنون انہیں تعمیر کے بجائے تخریب کی راہ پر لے گیا۔ غوری کے مطابق عمران خان نے اقتدار میں رہتے ہوئے پرانے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کے درمیان تصادم بڑھا اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔
بلال غوری کے مطابق حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان پہلے سے زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں اور اب وہ اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باوجود پرانے نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا پاکستان کو شوریدہ سر اور انقلابی قائد کے بجائے ایک قابل، باصلاحیت اور مدبر منتظم کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول انقلابی اور ’’چڑی مار‘‘ قسم کے قائد نئے ملک بنانے یا آزادی دلانے میں تو کارآمد ہو سکتے ہیں، مگر کسی ریاست کو چلانے، اسے مستحکم کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایسے قائدین موزوں نہیں ہوتے۔
