ایرانی میزائل ٹیکنالوجی نے دشمن کے اندازے کیسے غلط ثابت کیے

جس طرح امریکی ساختہ سٹنگر میزائلوں کے استعمال نے روس کے خلاف افغان جنگ کا پانسہ پلٹنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا، اسی طرح سٹنگر میزائل کے ماڈلز پر تیار کردہ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی نے اسے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں غیر معمولی مزاحمت فراہم کی ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے روزنامہ جنگ میں اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 ستمبر 1986ء کی دوپہر، جلال آباد ایئر فیلڈ کے قریب ایک غیر معمولی جنگی منظر ترتیب پا رہا تھا۔ حزب اسلامی کے کمانڈر عبدالغفار اور ان کے ساتھی کئی گھنٹوں سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ تین مجاہدین کندھوں پر میزائل لانچر اٹھائے تیار کھڑے تھے جبکہ دیگر معاونین میزائل ٹیوبز سنبھالے فوری ری لوڈنگ کیلئے مستعد تھے۔ دوپہر تین بجے کے قریب سوویت فضائیہ کے مہلک گن شپ ہیلی کاپٹر نمودار ہوئے جو اپنی تباہ کن جنگی صلاحیت کے باعث مجاہدین کیلئے خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے، مگر اس روز منظر مختلف تھا۔ جیسے ہی ہیلی کاپٹر تقریباً 600 فٹ کی بلندی پر لینڈنگ کیلئے نیچے آئے، عبدالغفار نے فائر کا حکم دیا۔ سٹنگر میزائل ہدف پر لاک کئے جا چکے تھے۔ "اللہ اکبر” کے نعروں کے ساتھ ٹریگر دبایا گیا اور لمحوں میں دو ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے۔ فوراً مزید میزائل داغے گئے اور تیسرا ہیلی کاپٹر بھی زمین بوس ہوگیا۔
یہ واقعہ اس جنگ میں ایک نفسیاتی اور عسکری تبدیلی کا آغاز ثابت ہوا۔ یہ ہتھیار امریکی ساختہ Stinger میزائیل تھا جو اپنے ہدف کے انجن سے خارج ہونے والی حرارت کو شناخت کر کے اس کا تعاقب کرتا ہے اور اسے تباہ کر کے دم لیتا ہے۔ سٹنگر میزائل کی رینج تقریباً 8 کلومیٹر تک ہوتی ہے اور یہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کیلئے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں فائر کرنے کے بعد آپریٹر کو مزید رہنمائی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت افغان مجاہدین کو اس ہتھیار کی فراہمی ایک طویل بحث کے بعد ممکن ہوئی۔ ضیاء الحق کو خدشہ تھا کہ یہ ہتھیار غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں جا کر الٹا نقصان نہ پہنچائیں، جبکہ امریکہ کو ڈر تھا کہ اس کی حساس ٹیکنالوجی مخالف ممالک تک منتقل ہو سکتی ہے۔
بالآخر 1986ء میں یہ فیصلہ کیا گیا اور پاکستانی افسران کو امریکہ میں تربیت دی گئی، جس کے بعد اوجڑی کیمپ میں ایک خفیہ تربیتی مرکز قائم کیا گیا۔ یہاں سے افغان مجاہدین کو سٹنگر میزائل کے استعمال کی تربیت دی گئی۔ مختلف عسکری ریکارڈز کے مطابق ابتدائی طور پر درجنوں لانچر اور سینکڑوں میزائل افغانستان بھیجے گئے۔ بعد کے مہینوں میں ان میزائلوں کے ذریعے سوویت فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا اور ان کی فضائی برتری ختم ہونے لگی۔
پینٹاگون کی ریسرچ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سٹنگر میزائلوں نے افغان جنگ کا پانسہ پلٹنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ سی آئی اے کے فراہم کردہ سینکڑوں میزائل فائر کئے گئے جن سے بڑی تعداد میں سوویت طیارے مار گرائے گئے، یوں روسی افواج کا مورال بری طرح متاثر ہوا۔ بلال غوری کے مطابق اس پوری کہانی کا سب سے اہم اور دور رس اثر رکھنے والا پہلو وہ واقعہ ہے جس میں یونس خالص گروپ کے مجاہدین سٹنگر میزائل لے کر ایرانی سرحد کے قریب پہنچ گئے۔ وہاں اسلامی پاسداران انقلاب نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اگرچہ بعد میں مجاہدین کو رہا کر دیا گیا، مگر میزائل اور لانچر ایران کے پاس ہی رہ گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکیوں کے خدشات حقیقت بن گئے اور ان کی جدید عسکری ٹیکنالوجی حریف کے ہاتھ لگ گئی۔
اے آئی سے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا خفیہ سسٹم بے نقاب
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے ان سٹنگر میزائلوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا، ان کے سسٹم، گائیڈنس میکانزم، ٹیکنالوجی اور پورٹیبل ڈیزائن کو سمجھا اور پھر اسی بنیاد پر اپنے مقامی میزائل پروگرام کو فروغ دیا۔ وقت کے ساتھ ایران نے نہ صرف اس طرز کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کئے بلکہ اپنی دفاعی صنعت میں خود کفالت بھی حاصل کر لی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو امریکہ نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مخصوص جنگ جیتنے کیلئے متعارف کرایا تھا، وہی آج اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ایران کہ ڈیفنس ایکسپرٹس نے اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اپنے اتحادی گروہوں کو بھی فراہم کیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی فضائی برتری کو چیلنج درپیش ہے۔
