چین گرین سپر پاور کیسے بننے جا رہا ہے؟

تحریر: حسن نقوی
ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ماحولیاتی اہداف کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے پرائی جنگوں میں کود رہی یے تو دوسری طرف چین تیزی سے صاف توانائی کے میدان میں آگے بڑھتے ہوئے گرین سپر پاور بننے جا رہا ہے۔ اگرچہ چین دنیا میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک ہے، مگر اب وہ قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
اندرونی منگولیا کے ریگستانی علاقوں میں بڑے بڑے سولر پینل لگائے گئے ہیں جو سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ کبوچی صحرا کا ایک بڑا حصہ اب سولر منصوبوں میں بدل چکا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں زمین بنجر ہو رہی تھی اور صحرا پھیل رہا تھا، مگر اب سولر پینلز کی وجہ سے زمین کو کچھ فائدہ بھی پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پینل سایہ فراہم کرتے ہیں، تیز ہواؤں کو کم کرتے ہیں اور مٹی کو سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں۔
چین کے مختلف صوبوں جیسے گانسو اور سنکیانگ میں بھی بڑے پیمانے پر ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے لگائے گئے ہیں۔ ان منصوبوں سے کروڑوں گھروں کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔
سن 2020 میں چین کے صدر شی جن پنگ نے اقوام متحدہ میں اعلان کیا تھا کہ چین 2030 تک کاربن اخراج کی بلند ترین حد تک پہنچ کر 2060 تک کاربن نیوٹرل بننے کی کوشش کرے گا۔ حالیہ برسوں میں چین کے کاربن اخراج میں استحکام یا کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے، جو اس ہدف کی طرف پیش رفت ظاہر کرتی ہے۔
دوسری طرف امریکا میں ماحولیاتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر چین کو صاف توانائی کی قیادت کا موقع ملا ہے۔ چین نے سرکاری مدد، سستی قرضوں اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے ذریعے سولر پینلز اور متعلقہ سامان کی قیمتیں کم کر دی ہیں۔ اسی وجہ سے چین آج دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل تیار کرتا ہے، اور اس کی مصنوعات پاکستان سے لے کر کیریبین تک استعمال ہو رہی ہیں۔
تاہم اس تیز رفتار ترقی کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ بعض علاقوں میں کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی زرعی زمینیں کم ہو رہی ہیں یا انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا۔ کوئلے کی صنعت سے وابستہ لوگ بھی پریشان ہیں کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔
چین اب بھی بڑی حد تک کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔ 2024 میں اس کی تقریباً 58 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا ہوئی، جبکہ ہوا اور شمسی توانائی کا حصہ بڑھ کر تقریباً 18 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چین ایک ساتھ دو کام کر رہا ہے: ایک طرف صاف توانائی کو فروغ دے رہا ہے اور دوسری طرف پرانے توانائی کے ذرائع بھی استعمال کر رہا ہے۔
چین کی یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ 1980 کی دہائی میں جب اس نے عالمی تجارت کے لیے اپنے دروازے کھولے تو وہ ایک زرعی ملک سے صنعتی طاقت بن گیا۔ اسی صنعت نے کوئلے کے استعمال کو بڑھایا اور 2006 میں چین دنیا کا سب سے بڑا کاربن خارج کرنے والا ملک بن گیا۔ اب وہی ملک اربوں ڈالر خرچ کر کے برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور سولر پینلز کی صنعت میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
چین کی سبز توانائی کی یہ دوڑ دنیا کے توانائی نظام کو بدل رہی ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی میں چین اتنا آگے نکل چکا ہے کہ دوسرے ممالک کو اس کا مقابلہ کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
مگر اس سب کے باوجود ایک اہم سوال باقی ہے: کیا یہ سبز انقلاب مکمل طور پر ماحول اور مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، یا اس کی کچھ قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی؟ یہی سوال آنے والے وقت میں چین کی پالیسیوں اور دنیا کے توانائی مستقبل کا رخ متعین کرے
