23 مارچ کو قومی اعزازات کی لوٹ سیل کیسے لگائی جاتی ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کا رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جب قومی ایوارڈز کا اعلان متنازع نہ ہوا ہو۔ اگرچہ یہ سلسلہ بہت پرانا ہے لیکن شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جس نے اپنی پسند اور ناپسند کے ایوارڈز نہ دیے ہوں۔ اب ایوارڈز کی اتنی کیٹیگریز بن چکی ہیں کہ اب کم ازکم سو لوگوں کے ناموں کا اعلان ہوتا ہے‘ جن میں سول ملٹری شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ ایک اور کیٹیگری بھی متعارف کرائی گئی‘ جو غیر ملکی شخصیات کی ہے۔ انہیں بھی ہر سال نشان پاکستان نامی ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ چلیں مان لیا کہ ہمیں سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے لیکن جب آپ درجنوں کے حساب سے ایوارڈز بانٹیں گے تو ان کی اہمیت بڑھنے کی بجائے کم ہو جائے گی۔

اپنی تازہ تحریر میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ کتنے لوگوں کو یاد رہتا ہے کہ پچھلے برس کن لوگوں کو ایوارڈ ملا تھا؟ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر کہیں پر مقابلہ ہو رہا ہو اور یہ سوال پوچھا جائے کہ کوئی پانچ نام بتائیں جنہیں پچھلے سال نیشنل ایوارڈز سے نوازا گیا تو شاید کوئی دو نام تک نہ بتا پائے گا۔ اکثر لوگوں کو خود دوسروں کو بتانا پڑتا ہے کہ انہیں ایوارڈ ملا ہے۔ یعنی اب یہ ایوارڈز اپنی اہمیت کھو چکے ہیں؟ شاید ہر بندہ اب ریاست سے ایوارڈ لینا چاہتا ہے۔ اس کیلئے کئی ماہ پہلے لابنگ شروع ہو جاتی ہے۔ سیاسی افراد سے لے کر بیورو کریٹس تک کی سفارش چلتی ہے۔ میں ذاتی طور پر کچھ لوگوں کی کوششوں کا گواہ ہوں جو وہ ان ایوارڈز کی لسٹ میں نام ڈلوانے کیلئے کوشش کرتے رہے۔ اب تو یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ حکومت لوگوں سے خود رابطہ کرتی ہو گی کہ ہم آپ کا نام ایوارڈز لسٹ میں ڈالنے لگے ہیں‘ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ عموماً حکومت کسی کا نام فائنل کرنے سے پہلے اس سے اس کی مرضی ضرور پوچھتی ہے کہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے تاکہ آخری لمحے پر وہ ایوارڈ لینے سے انکاری نہ ہو جائے۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اس برس بھی پچھلے سال کی طرح کئی صحافیوں کو بھی ایوارڈز دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے دو سکولز آف تھاٹ پائے جاتے ہیں، پہلا یہ کہ صحافی کبھی حکومت سے ایوارڈ نہیں لیتے کیونکہ اگر وہ سرکار سے ایوارڈ لیں گے تو پھر صحافت خاک کریں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے سرکاری ایوارڈ لے لیا تو آپ سرکاری صحافی گنے جائیں گے۔ لیکن دوسرا سکول آف تھاٹ کہتا ہے کہ حکمران جیب سے آپ کو ایوارڈ نہیں دے رہے ہوتے۔ یہ ایوارڈ ریاست دیتی ہے جو آپ کی بھی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر تھا تو میرے خلاف میرے اخبار کے مالک کو وزارتِ اطلاعات کی طرف سے شکایت کی گئی۔ مالک نے مجھے بلایا اور کہا: وہ آپ کو کھانے پر ملنا چاہتے ہیں‘ دعوت دیتے ہیں لیکن آپ ان سے نہیں ملتے‘ کیا وجہ ہے؟ میں نے بڑے فخر سے کہا: سر! وہ دراصل پہلے کھانے کھلاتے ہیں اور پھر بعد میں یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب ان کے کہنے پر میں حکومت مخالف خبریں فائل نہیں کروں گا۔ اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ ان سے کھانے نہ کھایا کروں تاکہ خبریں بغیر کسی رکاوٹ کے فائل کرتا رہوں۔ کچھ بھی ہو‘ میل ملاپ‘ کھانے پینے سے بندے کی آنکھ میں کچھ شرم آ جاتی ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق اخبار کے مالک نے جواب میں ایک ایسی بات کی جس نے میری سوچ کا زاویہ بدل دیا۔ کہنے لگے: آپ کہہ رہے ہیں کوئی آپ کو کھانا کھلا دے یا آپ سے مل لے تو پھر آپ خبرفائل نہیں کریں گے؟ آپ کو اگرکوئی بلاتا ہے تو اس وجہ سے کہ آپ صحافی ہیں۔ آپ نے سب سے ملنا ہے لیکن خبر فائل نہ کرنے کی ضمانت تو آپ نہیں دے رہے‘ نہ اس شرط پر آپ کو کوئی بلا رہا ہے۔ آپ حکومتی لوگوں سے بھی ملا کریں لیکن خبر وہ فائل کریں جو آپ کا خیال ہے کہ واقعی خبر ہے اور چھپنی چاہیے۔ اس ایک جملے نے میری سوچ بدل دی کہ صحافی خبروں پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔ اس لیے اگر صحافیوں کو ایوارڈز ملتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ خبر پر کمپرومائز کرے گا یا اپنے تبصروں میں اس لیے ہاتھ ہولا رکھے گا کہ اسے ایوارڈ ملا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر صحافت کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ ایوارڈ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ ہر صحافی خود کرتا ہے۔ دراصل جب حکومت ایسے لوگوں کو بھی ایوارڈ دے گی جو مستحق نہیں ہوں گے تو اچھے لوگوں کو ملنے والے ایوارڈز کی قدر بھی کم ہو جائے گی۔ ان ایوارڈز کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ ان کی بڑھتی یوئی تعداد ہے۔ جتنی تعداد زیادہ ہو گی اتنی ہی ان کی قدر کم ہو گی۔ اگر لوگوں کو آسکر ایوارڈز یافتہ اداکاروں کے نام برسوں یاد رہتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا کرائی ٹیریا بہت اعلیٰ اور شفاف ہے۔ اس طرح اگر نوبیل پیس پرائز کیٹیگریز دیکھیں تو وہ بھی بہت کم ہیں۔ جب ہر سال ادب پر ایک ادیب کو پرائز ملے گا تو بھلا اس کا نام آپ کو کیسے برسوں تک یاد نہیں رہے گا؟ اس طرح کیمسٹری‘ فزکس یا اکنامکس میں بھی انعام ایک ایک سائنسدان کو ملتا ہے اور پوری دنیا ایک لمحے میں اس نام سے آشنا ہو جاتی ہے اور کئی دہائیوں تک وہ نام جانا جاتا ہے۔

علیمہ کو سلائی مشین کیس سے بچانے والا کپتان کی آنکھ کا تارا کیسے بنا؟

ڈاکٹر عبدالسلام کی مثال ہی دیکھ لیں کہ ہمارے ایک پاکستانی کو فزکس میں نوبیل پرائز ملا اور ان کا نام آج تک بچہ بچہ جانتا ہے۔ دوسری طرف جن سائنسدانوں کو حکومتِ پاکستان نے ایوارڈز دیے ہیں‘ ان میں سے کتنے نام آپ کو یاد ہیں؟ مان لیا نوبیل پرائز اور پاکستانی ایوارڈ کی اہمیت میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس فرق کی ایک وجہ ان کی تعداد بھی ہے۔ ہمارے ہاں اتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ ایوارڈز دیے جاتے ہیں کہ نہ کسی کو وہ نام یاد رہتے ہیں اور نہ ہی ان کو اہمیت ملتی ہے۔

Back to top button