پاکستانی اشرافیہ مہنگائی کے مارے عوام کو کیسے ریپ کر رہی ہے ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک اسپتال کے مردہ خانے میں ایک معصوم لیڈی ڈاکٹر سے ہونے والے گینگ ریپ کی  ویڈیو وائرل ہے۔ اس گینگ ریپ کے دوران آس پاس ساکن لاشیں پڑی ہوئی ہیں، سچ تو یہ ہے کہ یہ ویڈیو دیکھ کر پہلا خیال پاکستانی اشرافیہ کا آیا، جو کروڑوں زندہ لاشوں کے بیچم بیچ جنسی درندوں کی طرح رنگ رلیاں منا رہی ہے۔

اپنے تازہ تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستانی مردہ خانے میں اشرافیہ کے ہاتھوں مہنگائی اور غربت کے مارے عوام کا ریپ مسلسل جاری ہے۔ اتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گر گئے ہیں، اب اتنے مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گر گئے ہیں، ہمیں دہائیاں گزر گئیں یہ خبریں پڑھتے ہوئے، لیکن اس لکیر سے لوٹ کر کوئی نہیں آیا، دوسری طرف خبر آتی ہے کہ پاکستانی اشرافیہ نے دبئی میں مزید اربوں روپے کی جائدادیں خرید لیں، یہ ایک پیٹرن ہے، اشرافیہ کی رنگ رلیوں کی خبریں اور عوام کے گریہ کی خبریں، ’ٹرک‘ ججوں کی خبریں، فیض حمید جیسوں کے اربوں کے ڈاکوں کی خبریں، خان صاحب کے 190 ملین پائونڈ کی خبریں، باجوہ صاحب کے بیرون ملک اثاثوں کی خبریں، کسی سرکاری افسر کے گھر سے نکلنے والے اربوں روپے کیش کی خبریں، اور دوسری طرف بجلی کے بل نہ دے سکنے پر خود کشیوں کی خبریں، غربت کے مارے بے روزگار باپوں کی اپنے خاندان کو قتل کرنے کی خبریں، اور اپنی بچیوں سمیت نہر میں چھلانگ لگانے والی مائوں کی خبریں۔

اختر مینگل جیسے بلوچوں کا پارلیمانی سیاست سے یقین کیوں اٹھ گیا ؟

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ یہ غریب ملک، یہ مفلوک الحال ریاست، یہ قرضوں کے بوجھ تلے بلبلاتا ہوا پاکستان، اپنی اشرافیہ کو 17 ارب ڈالرز کی مراعات دیتا ہے، اور یہ سوشل میڈیا پر چھوڑی ہوئی کوئی ہوائی نہیں ہے، یہ یو این ڈی پی کے اعداد و شمار ہیں، اسے کہتے ہیں کروڑوں لوگوں کے وسائل پر مٹھی بھر طاقت ور افراد کا قبضہ۔ اس سے بڑا سکینڈل کیا ہو سکتا ہے، اس بدعنوانی کی نشان دہی مسلسل ہوتی رہتی ہے، لیکن کوئی جواب ہی نہیں آتا، آئی ایم ایف بھی طاقت وروں کی ان مراعات پر ناک بھوں چڑھاتا رہتا ہے، کوئی جواب ہی نہیں آتا، شیر سنگھ ایسے عالمِ نشاط میں ہے کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں ہے۔اشرافیہ ٹیکس ہی نہیں دیتی، اور اگر ایک ہاتھ سے ٹیکس دے تو دوسرے سے سب سڈی لے لیتی ہے، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس تعلیم کیلئے پیسے نہیں ہیں، صحت کیلئے فنڈز نہیں ہیں، ایک افسر ریٹائر ہو تو سوا لاکھ کا ہو جاتا ہے، ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے لگ جاتے ہیں، دوسری طرف ’پولے‘ سے منہ سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارا ڈھائی کروڑ بچہ اسکول نہیں جاتا، یعنی ہمارا مستقبل بھی غاروں میں بسر ہو گا، آبادی کی اکثریت سرکاری اسکولوں میں جاتی ہے جہاں واقعی دشمن کے بچوں کو پڑھانا چاہیے، یہ عوام کے بچے ہیں جنہیں مستقبل کی دوڑ سے ہی باہر کر دیا گیا ہے، یعنی اگلے پچاس سال کا بھی بندوبست کر لیا گیا ہے، محکوم محکوم رہیں گے اور حاکم حاکم، اشرافیہ کے بچے یا باہر پڑھتے ہیں یا ان کیلئے ملک میں کچھ خصوصی ادارے بنائے گئے ہیں، جہاں لاکھوں روپے فیسیں رکھ کر عوام کے بچوں کو دور رکھنے کا معقول بندوبست کیا گیا ہے۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے پچھلے ہفتے حکومتی خرچے کم کرنے کی تجاویز مرتب کرنے والی کمیٹیوں سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ ہم کچھ تجویز کر رہے ہیں، حکومت کچھ اور ہی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے 30 ارب روپے خرچہ کم کرنے کیلئے مشورہ دیا کہ 17 سے 22 گریڈ کی کچھ نوکریاں ختم کی جائیں، جب کہ حکومت نے 16 گریڈ سے نیچے کی نوکریاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، یعنی اشرافیہ نے اپنے لوگ پھر بچا لیے۔ ڈھٹائی اور کسے کہتے ہیں۔

آج کل سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی بات ہو رہی ہے، کوئی یہ بات نہیں کر رہا کہ عوام کے اور کتنے پیسے اس گناہِ بے لذت پر اڑا دیے جائیں گے، اطلاعاً عرض ہے کہ یہ دنیا کی اکلوتی سپریم کورٹ ہے جس کے جج اپنی تن خواہ اور مراعات خود مقرر کرتے ہیں، اور اپنی پنشن بھی خود مقرر کرتے ہیں، اور یہ وہ انوکھے جج ہیں جن کی تن خواہ اور پنشن ایک جتنی ہے۔ اب تو بس ایک کسر باقی ہے کہ پاکستان کے یہ طاقتور لوگ کسی ہسپتال کے مردہ خانے میں چھپ کر کسی معصوم کا ریپ کرنے کی بجائے سرعام ایسا کرنا شروع کر دیں۔

Back to top button