پاکستان میں دوبارہ امن مذاکرات ہونے کا کتنا امکان ہے ؟

 

 

 

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ اسلام آباد مذاکرات کے باوجود اگرچہ کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہو سکی، تاہم بین الاقوامی حلقوں میں یہ امید زندہ ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کے مابین پھر سے امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن پر امریکہ اور ایران دونوں بطور ثالث اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی سہولت کاری فراہم کی، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ پاکستان کی اس سفارتی کوشش نے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے امکانات کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اس سے خطے میں استحکام کے امکانات بھی پیدا ہوئے۔ تاہم مذاکرات کے بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے اختتام تک پہنچنے کے بعد یہ سوالات ابھر کر سامنے آئے ہیں کہ خطے میں قیام امن کے لیے اگلا قدم کیا ہوگا؟

 

امریکہ کی جانب سے ایران کو باضابطہ پیشکش کی جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جن میں مذاکرات کو آگے بڑھانے اور بات چیت کے دروازے کو کھلا رکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشکش اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ واشنگٹن نے مسائل کو طاقت کے بجائے پرامن طریقے سے حل کرنے کی اہمیت کو سمجھا ہے اور مکمل طور پر دروازے بند کرنے کی بجائے مذاکرات کی گنجائش رکھی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا امکان اب بھی موجود ہے۔

 

معروف سفارتکار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان کا کردار صرف ایک میزبان کے طور پر نہیں رہا بلکہ اس نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان نے فعال اور مؤثر انداز میں مذاکرات کی سہولت فراہم کی، جو نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اہم تھا بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ایک اہم موقع تھا۔ ان کے مطابق، اگر پاکستان نے اس وقفے کو مؤثر انداز میں استعمال کیا تو یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس سیز فائر کے دوران مزید سفارتی رابطے بحال کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں عارضی تعطل فطری ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی معمولی تنازع نہیں ہے، اس میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ شامل ہیں، یہ ایسے پیچیدہ تنازعات ہیں جن پر فوری طور پر اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم، ایران اور امریکہ مذاکرات میں تعطل کے باوجود دونوں اطراف کو ایکدوسرے کا مؤقف سمجھنے میں مدد ملی ہے، اور سفارتی عمل کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ حامد میر کے مطابق دونوں ممالک کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کی ضرورت ہے، مگر موجودہ حالات میں مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری اور باہمی تعاون میں ہی ممکن ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازعے میں پاکستان کا کردار ایک مؤثر اور متوازن حیثیت سے اُبھرا ہے، جس نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ان کے بقول، اسلام آباد دوبارہ اس سفارتی عمل کا مرکز بن سکتا ہے اور اس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ اس حوالے سے سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے تک نہیں پہنچے، تاہم یہ ایک اہم آغاز ہیں۔ ان کے مطابق، کوئی بھی بڑا اور پیچیدہ بین الاقوامی تنازع فوراً حل نہیں ہوتا، اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ایک اہم قدم تھا۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ اس طویل مذاکراتی نشست میں دونوں فریقین نے اپنے مؤقف کو تفصیل سے پیش کیا اور حساس معاملات پر کھل کر بات چیت کی۔ اس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مؤقف اور خدشات کا واضح ادراک ہوا، جو آئندہ پیشرفت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حامد میر امن مذاکرات کا مستقبل روشن کیوں دیکھتے ہیں ؟

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکراتی دور صفر سے شروع نہیں ہوگا بلکہ وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں حالیہ بات چیت ختم ہوئی تھی، اور اس بار مذاکرات زیادہ حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی، جس کی بدولت دونوں فریقین کو ایک پلیٹ فارم میسر آیا اور کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ جلیل عباس جیلانی کے مطابق ق یہ بعید نہیں کہ اسلام آباد آئندہ بھی سفارتی عمل کا مرکز بنے اور پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے۔

 

Back to top button