حکومت کی جانب سے PTI پر پابندی لگانے کا کتنا امکان ہے؟

 

 

 

 

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے عمران خان کو سیکیورٹی رسک قرار دینے کے بعد وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، حکومتی ذرائع کے مطابق اگر پی ٹی آئی نے امن و امان خراب کرنے کیلئے اپنی متشدد اور جارحانہ مہم جوئی جاری رکھی اور ملک دشمن بیانیے سے باز نہ آئی تو پی ٹی آئی کو ریاست دشمن قرار دے کر نہ صرف اسے بین کر دیا جائے گا بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تحلیل کر دیا جائے گا کیونکہ آئین پاکستان میں واضح درج ہے کہ ملکی سالمیت اور دفاع کے خلاف کام کرنے والی کسی پارٹی کو پاکستان میں سیاست کا حق حاصل نہیں۔

 

حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے آئین کے آرٹیکل 17 کا سہارا بھی لیا جاسکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اس وقت آئین کے اس آرٹیکل کی مکمل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 17 کی شق دو کہتی ہے ہر شہری کو، جو سرکاری ملازمت میں نہ ہو اسے پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سالمیت کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع کوئی بھی سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا حق حاصل ہے اسی قانون میں یہ بھجی درج ہے کہ جب وفاقی حکومت یہ اعلان کر دے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ یا سالمیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے تو وفاقی حکومت اس اعلان سے پندرہ دن کے اندر معاملہ عدالت عظمی کے حوالے کر دے گی، جس کا ایسی ریاست دشمن جماعت کے حوالے سے فیصلہ قطعی ہوگا ۔ یعنی اگر سپریم کورٹ بھی وفاقی حکومت کا یہ موقف تسلیم کر لیتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ملکی سالمیت اور حاکمیت اعلیٰ کے لیے نقصان دہ ہے تو اس کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جاسکے گی۔  قانونی ماہرین کے مطابق جب پی ٹی آئی بطور جماعت ریاست دشمن قرار دے دی جائے گی تو اس سے وابستہ اراکین بھی نااہل قرار پائیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی کا قومی سیاست سے صفایا ہو جائے گا۔

مبصرین کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف کی حالیہ پریس کانفرنس سے قطع نظر اگر پی ٹی آئی کے مجموعی عمل اور بیانیے کو دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عمران خان اور ان کے پیروکار جس سے شدت سے ملک دشمن مہم چلا رہی ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ عمران خان کو بطور وزیر اعظم آئینی طریقے سے ہٹائے جانے کے بعد سے پی ٹی آئی اور خاص طور پر خود بانی پی ٹی آئی نے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے جو زہر اگلا وہ بذات خود ان کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ ہے، جسے دنیا کی کوئی عدالت رد نہیں کر سکتی۔ریاست دشمن اقدامات میں سر فہرست سانحہ 9 مئی ہے، جب ملک بھر میں بیک وقت فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ شہداء کی یادگاروں کو تباہ کیا گیا۔ ملک کی 78 سالہ تاریخ میں کسی سیاسی پارٹی نے ایسا قدم نہیں اٹھایا۔اس کے بعد سانحہ چھبیس نومبر بھی برپا کیا گیا۔ بیرونی ممالک میں پاکستان اور اس کی قیادت کے خلاف دشمنوں سے بھی بدتر مہم شروع کی گئی جو تا حال جاری ہے۔ خاص کر امریکہ میں چند زرخرید اور بھارت نواز سینیٹرز اور ارکان کے ذریعے کانگریس میں پاکستان کے خلاف قراردادیں منظور کرائی گئیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں عسکری قیادت  کے خلاف مظاہروں میں تنخواہ دار بھارتیوں اور افغانیوں کو لایا گیا۔ تارکین وطن پاکستانیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ترسیلات زر بھیجنا بند کردیں۔ آئی ایم ایف کو دوبار خط لکھا گیا کہ وہ پاکستان کو قرضہ نہ دے تا کہ ملک دیوالیہ ہوجائے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کے بدترین دشمن بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ میں پی ٹی آئی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب نے بھارتی بیانیے کو پروان چڑھایا اور ملک دشمنی کی انتہا کر دی۔ حتی کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اس جنگ کو ڈرامہ “ تک کہہ ڈالاجبکہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور اعلیٰ عکسری عہدیداروں کے خلاف بھارتی گٹھ جوڑ سے غلیظ ترین کمپین کا سلسلہ تو اب تک جاری ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کا PTI کو پوری طرح سے ٹھوکنے کا فیصلہ

ناقدین کے مطابق بدترین دہشت گردی سے متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت جس طرح دہشت گردوں اور افغان طالبان رجیم کی ترجمان بنی ہوئی ہے، اس نے بھی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اتنے حساس صوبے کی باگ ڈور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے چند سر پھرے نا تجربہ کار نوجوانوں کے ہاتھ میں دینا بھی ایک طے شدہ سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت ہر وفاقی پالیسی کے خلاف عمل پیرا ہے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے سے لے کر افغانستان سے متعلق ریاستی پالیسی تک پی ٹی آئی حکومت ہر طرح سے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی مضاٖط بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کے بقول انھی عوامل کے پیش نظر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے پر حکومت غور کر رہی تھی تاہم میگا کرپشن کیس میں قید عمران خان اور ان کی بہنوں نے جب ملک دشمنی کی آگ مزید بھڑکانا شروع کر دی تو حکام نےپی ٹی آئی پر ہی مکمل پابندی لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری و سول قیادت پی ٹی آئی کے اس سارے ریاست مخالف عمل کو تحمل سے برداشت کررہی تھی تاہم اب ملکی قیادت کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حالانکہ اس حوالے سے پہلے ہی یہ سوچ پائی جارہی تھی کہ تحریک انصاف اور اس کے بانی کے ملک دشمن عمل کو اگر مسلسل درگزر کیا جاتا رہا تو ان کی چیرہ دستیاں بڑھتی جائیں اور یوں قومی سلامتی کمپرومائز ہو سکتی ہے۔ اس دوران عمران خان کی بہن نے جب بھارتی ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر علی الاعلان ملک دشمن بیانات اور اعلیٰ شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کی مہم شروع کی تو تب فیصلہ ہوا ”بس بہت ہو چکا۔ ذرائع کے مطابق ایسی صورت میں گورنر راج لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور پارٹی کے تمام منتخب ارکین نا اہل ہو جانے پر صوبائی حکومت خود بخو دگر جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پابندی سے بچنے کا راستہ اب پی ٹی آئی کی قیادت کے ہاتھ میں ہے، آیا وہ اپنے بانی کے ملک دشمن عمل اور بیانیہ کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے یا دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس سے فاصلہ اختیار کر لیتی ہے۔

Back to top button