پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر حکومت کتنا عرصہ چل پائے گی؟

چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور کے آزاد کشمیر کے سولہویں اور موجودہ اسمبلی کے چوتھے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی ایک ایسے مرحلے پر حکومت سنبھالنے جا رہی ہے جب آنے والی قیادت کو بیک وقت کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ایسے میں آزاد کشمیر میں قلیل مدت کیلئے قائم ہونے والی نئی حکومت کیلئے کامیابی سے مدت پوری کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
مبصرین کے مطابق نئی حکومت پر سب سے بڑا دباؤ کشمیر ایکشن کمیٹی سے طے پانے والے معاہدوں پر بروقت اور موثر عملدرآمد کا ہوگا، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نون کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر فیصلہ سازی بھی اس کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر کی کابینہ کو 20 وزراء تک محدود رکھنا بھی نئے وزیراعظم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے چیلنجنگ حالات کے درمیان پیپلز پارٹی نے مختصر ترین مدت یعنی صرف 7سے 8ماہ کیلئے حکومت سنبھالنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں آئندہ سال جولائی میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ چونکہ انتخابات سے قبل نگران حکومت قائم کر دی جائے گی ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کے پاس انتظامی امور کے لیے صرف 7 سے 8 ماہ تک کا قلیل وقت ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے قلیل مدت کیلئے حکومت بنانے کے مشکل فیصلے بارے سوال کے جواب میں نامزد وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس فیصلے کے مثبت اور منفی دونوں اثرات ہیں۔‘ ’اگر پیپلز پارٹی قلیل مدت میں عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور یہ 2026 کے الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی لیکن اگر ہم معاملات کو ڈیل نہیں کرپاتے تو حکومت سنبھالنے کا فیصلہ ہمارے خلاف جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں کسی نہ کسی کو تو ذمہ داری لینی تھی کیونکہ لوگوں کا سیاسی جماعتوں سے اعتماد ختم ہو رہا تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے بعد رہنماؤں کا عوام سے سیاسی تعلق ختم ہو رہا تھا۔‘ اس لئے پیپلز پارٹی نے یہ مشکل اپنے سر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیصل راٹھور نے تسلیم کیا کہ ’کم وقت میں چیزوں کو مینیج کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن ہماری نیت اچھی ہے۔ حکومت نے کشمیر ایکشن کمیٹی سے جو معاہدہ کر رکھا ہے اس پر ہر صورت عمل کرینگے ‘آنے والے مہینوں میں تمام مشکل ٹارگٹ پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ’مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی ترمیم سے ہی حل ہوگا۔ تاہم انتخابات سے قبل کوئی ایسا راستہ نکالیں گے تاکہ مہاجرین کے ووٹ کا حق بھی سلب نہ ہو اور مظاہرین کے تحفظات بھی دور ہوں۔ کشمیر کے نامزد وزیر اعظم کا آنے والے مہینوں میں اپنی ترجیحات کے حوالے کہنا تھا کہ وہ ذمہ دارایاں سنبھالنے کے بعد ’الیکشن کمشنر کی تعیناتی، آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد، عوامی رابطوں کی بحالی، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی سمیت عوامی فلاح کے تمام منصوبوں پر جنگی اقدامات کرینگے۔
تاہم کچھ سیاسدانوں اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چند ماہ کی حکومت سازی صرف بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے جیسا ہے۔ مبصرین کے مطابق کشمیر کے موجودہ سیاسی نظام میں اقتدار ایک دن کا بھی ہو تو لوگ تیار ہوتے ہیں۔ گورننس ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔‘’مرکز سے حکمراں جماعت کے دباؤ کے پیشِ نظر وہ حکومت میں رہ کر حالات کو کسی نہ کسی طرح اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔ ‘ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں آئندہ انتخابات میں عوامی ردِ عمل کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ’بظاہر عوام میں سیاسی شعور بڑھ گیا ہے۔ اب بچے بھی صحت اور سہولیات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔’امکان ہے کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے آئندہ انتخابت میں بھی کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں ملے گی اور اسلام آباد کی طرح یہاں بھی مخلوط حکومت آئے گی۔ آزاد کشمیر میں اس وقت نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ تیسرا فریق اسٹیبلشمنٹ بھی غیر اعلانیہ طور پر موجود ہے۔ ان کی بات بھی سنی جائے گی۔ کیونکہ اسمبلی تو صرف ایک چہرہ ہے اصل صوابدید تو کسی اور کی ہے۔ ‘ مبصرین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کے تحت ’اگر یہ حکومت مہاجرین نشستیں ختم نہیں کرتی اور بات اگلی اسمبلی تک جاتی ہے تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اتنی قلیل مدت اور حتیٰ کہ آئندہ حکومت کے لیے بھی مہاجرین نشستیں ختم کرنے کا عمل مشکل ہوگا کیونکہ اس کے لیے آئین میں تبدیلی کا طویل عمل درکار ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی میں اس وقت کل 12 مہاجرینِ پاکستان نشستوں میں 8 صوبہ پنجاب میں ہیں، 2 کے پی کے میں اور دو سندھ میں ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا تعلق کشمیر کے ضلع پونچھ کے ایک جاگیر دار گھرانے سے ہے۔وہ کشمیر کے سابق وزیر اعظم ممتاز راٹھور کے بیٹے ہیں۔ ممتاز راٹھور سنہ 1990 میں کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے تاہم انھوں نے ایک سال سے بھی کم وقت میں اپنی حکومت تحلیل کر دی تھی۔وہ نوجوانی سے سیاست میں سرگرم رہے اور مسلم کانفرنس میں شامل ہو کر پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا تاہم بعد میں انھوں نے پیپلز پارٹی میں شولیت اختیار کی۔ ممتاز راٹھو کا شمار کشمیر کے مقبول ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار کم ہونے کے بجائے بڑھ کیسے گیا ؟
ان کے بیٹے فیصل ممتاز نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 2006 میں کیا اور پہلا انتخاب آزاد امید وار کی حیثیت سے لڑا۔ انھوں نے کچھ عرصہ مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تاہم 2011 میں وہ بھی پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے۔حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ان کا سیاسی کردار کھل کر سامنے آیا جب انھیں ریاستی حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان اور وفاقی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔فیصل ممتاز راٹھور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وزیراطلاعات اور پی ٹی آئی کے ساتھ مخلوط حکومت کے دور میں لوکل گورنمٹ کی وزراتیں بھی چلا چکے ہیں۔
