سپریم کورٹ کا ایک جج عوام کو کتنے لاکھ روپے میں پڑتا ہے؟

سپریم کورٹ کے ججوں کو ملنے والے تنخواہوں اور مراعات بارے سوشل میڈیا پر وائرل تفصیلات شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں، سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ججز حضرات کو کون کون سی سہولیات ملتی ہیں اس کے باوجود پاکستان انصاف کی فراہمی میں نچلے نمبروں پر کیوں ہے؟ سوشل میڈیا پر ایک سوال تواتر سے پوچھا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج عوام کو ماہانہ کتنے لاکھ روپے میں پڑتا ہے اور اسے تنخواہ کے علاوہ کون کون سے مراعت اور سہولیات ملتی ہیں۔
سپریم کورٹ کے ججوں کو ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں سوشل میڈیا پر وائرل تفصیلات شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ صارفین کے مابین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث جاری ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے ججوں کو من پسند تنخواہ اور مراعات کی مد میں گھر، گاڑی اور نوکر چاکر سمیت متعدد سہولیات ملنے کے باوجود پاکستان انصاف کی فراہمی میں عالمی درجہ بندی میں نچلے نمبروں پر کیوں ہے؟ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج عوام کو ماہانہ کتنے روپے میں پڑتا ہے، اور تنخواہ کے علاوہ اسے کون کون سی مراعات ملتی ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق ججز کو ہاؤس رینٹ کی مد میں اس وقت ساڑھے تین لاکھ روپے جبکہ جوڈیشل الاؤنس کی مد میں دس لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کو حکومت کی جانب سے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ کیا کیا سہولیات اور مراعات ملتی ہیں؟ اور سپریم کورٹ کا ایک جج پاکستانی عوام کو ماہانہ کتنے لاکھ میں پڑتا ہے؟
مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ اس وقت تقریباً ساڑھے 12 لاکھ روپے ہے۔وزارت انصاف و قانون کے گذشتہ برس جولائی میں جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کے مطابق سپریم کورٹ کے باقی ججز کی ماہانہ تنخواہ تقریباً گیارہ لاکھ روپے بنتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کو تنخواہ کے علاوہ ملنے والی دیگر مراعات کے حوالے سے’سپریم کورٹ ججز لیو، پینشن اینڈ پریولیجز آرڈر 1997‘ کے مطابق Leave, Pension and Privileges Order, 1997 سپریم کورٹ کے ججز کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ سرکاری گھر بھی ملتا ہے۔ سرکاری گھر نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ کے جج کو کرائے کے گھر میں رہنے پر ماہانہ کرائے کی مد میں الاؤنس دیا جاتا ہے۔ گھر کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان ججز کے گھر میں استعمال ہونے والی بجلی، گیس اور پانی کا بل بھی حکومتی خزانے سے ادا کرتی ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج کو سرکاری گاڑی کے ساتھ ماہانہ 400 لیٹر پیٹرول بھی ملتا ہے۔سپریم کورٹ کے ججز کو انکم ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ججز کو روزمرہ کے اخراجات کے لیے الاؤنس جبکہ اس کے ساتھ جوڈیشل الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ریٹائرمنٹ پر سپریم کورٹ کے جج کو پینشن کے علاوہ یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ وہ سرکاری خرچ پر اپنی مرضی کا ایک ڈرائیور یا ملازم بھی رکھ سکتا ہے تاہم جج کی موت کے بعد ان کی بیوہ کو بھی یہ سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔
غیر ملکی قرضوں سے ہر پاکستانی تین لاکھ 33ہزار کا مقروض
دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حاصل مراعات سخت عوامی تنقید کی زد میں ہیں ناقدین کے مطابق مسئلہ صرف تنخواہوں یا مراعات کا نہیں بلکہ عدالتی نظام کی مجموعی کارکردگی، مقدمات کے غیر معمولی بیک لاگ، تاخیر سے فیصلوں اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی جیسے بنیادی مسائل کا ہے۔ ان کے مطابق جب تک اعلیٰ عدلیہ میں موجود ان خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، محض ججز کو حاصل اعلیٰ مراعات عوامی اعتماد بحال نہیں کر سکتیں۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر یہ بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ کیا عدلیہ کو دی جانے والی مراعات عوامی توقعات اور عدالتی کارکردگی سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ یہ سوالات اب محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی سطح پر احتساب اور شفافیت کے مطالبے کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
ناقدین کے بقول پاکستان میں یہ عجیب مذاق ہے۔ غریب کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، مڈل کلاس کی تنخواہیں نہیں بڑھتیں، ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، قابل نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں مگر تقریباً ہر سال ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں لاکھوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔تاہم اپنی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کسی جج میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ لاکھوں کے اضافے سے انکار کر دے۔‘سوشل میڈیا صارفین کے مطابق ججز کو ملنے والی تنخواہ، مراعات اور دیگر الاؤنسز کا حساب کتاب لگایا جائے تو اعلیٰ عدلیہ کا ایک جج عوام کو 25 لکاھ روپے کا پڑتا ہے تاہم حکومت کی ترجیحات اب بھی یہی ہے کہ غریب غربت کے ہاتھوں مر جائے ان کو فرق نہیں پڑتا لیکن امیر کو مزید نوازتے جاؤ، بھلے عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر ہی کیوں نہ دینا پڑے۔‘
