فیض حمید کا جن بوتل میں بند کرنا مشکل ٹاسک کیوں ہو گا ؟

پاکستانی سیاست میں جنرل فیض حمید کا کردار اس قدر دلچسپ ہے کہ نیٹ فلیکس کے کئی سیکوئیل تخلیق کئے جا سکتے ہیں۔ فوجی قیادت کی جانب سے 14 سال قید کی سزا دے کر فیض کا جن بوتل میں واپس بھیجنے کی کوشش تو کی جا رہی ہے مگر ان کے وجود سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے کئی ’فیض یاب‘ عدلیہ، مقننہ، فوج اور میڈیا میں موجود ہیں۔ کئی ایک بیوروکریٹ، صحافی، سوشل میڈیا انفلوئنسرز ان کی وراثت کے وارث ہیں جو نہ جانے کب تک اپنا فیض پھیلاتے رہیں گے۔ لہٰذا موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے فیض کے جن کو بوتل میں بند کرنا ایک مشکل ٹاسک ہوگا۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے بی بی سی کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک پاکستان کے طاقتور ترین شخص سمجھے جانے والے جنرل فیض حمید کو یہ دن بھی دیکھنا تھے۔ ان کے بقول جن کے منہ میں زبان نہ تھی وہ بھی اب ان کے خلاف زبان درازی پر اتر آئے ہیں، وہ احسان مند جن کا سر انکے سامنے جھکا رہتا تھا وہ بھی جنرل فیض کے خلاف بول پڑے ہیں، اور جن بتوں کو فیض نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا انہوں نے بھی پتھر اٹھا لیے ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق جنرل فیض حمید کو 14 برس قید با مشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کے مخالفین کی زبانیں آگ اُگل رہی ہیں۔ الزام، دشنام اور بہتان کا سلسلہ جاری ہے اور جتنے منہ اتنی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ بکری چوری، بھینس چوری حتیٰ کہ گلی محلے کے آوارہ لڑکوں کی کارستانیاں، گٹر کے ڈھکن، سائیکل کے ٹائر اور نلکے کی ہتھی چرانے تک کے الزامات جنرل فیض حمید پر لگائے جا چکے ہیں۔ تاہم عاصمہ شیرازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس عمران خان کے لیے جنرل فیض حمید نے سب کچھ قربان کر دیا، آج وہ اور ان کی جماعت فیض سے اظہارِ لاتعلقی کر چکے ہیں۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اگر یہ مکافاتِ عمل نہیں تو اور کیا ہے کہ سیاہ و سفید کے مالک سمجھے جانے والے طاقتور ترین جرنیل آج کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل فیض ایک زمانے میں جنرل باجوہ کے ’عامل‘ اور عمران خان کے ’موکل‘ سمجھے جاتے تھے۔ وہ ایسے ہرکارے تھے جو ججوں سے لے کر سیاست دانوں تک، بیوروکریٹس سے لے کر معمولی صحافیوں تک براہ راست رابطہ رکھتے تھے۔ چھوٹے سے چھوٹے کام سے لے کر بڑی سے بڑی اسائنمنٹ تک وہ اپنی ذات میں مکمل ادارہ، ہر دم تیار ون مین آرمی اور ڈی جی سی سے لے کر ڈی جی آئی ایس آئی تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے بلاشرکت غیرے مالک و مختار بن چکے تھے۔
عاصمہ شیرازی کے بقول بعض سیاست دان جنرل فیض کو ایک شاطر جبکہ کچھ انہیں ’جابر جرنیل‘ کے نام سے جانتے ہیں، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جو ٹاسک انہیں دیا گیا، انہوں نے وہ سیدھی ٹیڑھی انگلیوں سے پورا کیا۔ بطور ڈی جی سی نون لیگی حکومت کے خلاف فیض آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا شروع کرانے کا الزام بھی ان سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ تاریخ میں پہلی بار بطور آئی ایس آئی افسر تحریک لبیک کے ساتھ باقاعدہ معاہدے پر دستخط کرنے کا سہرا بھی علی الاعلان انہی کے سر پر سجا۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر آر ٹی ایس بٹھانے اور عمران خان کو وزیراعظم بنوانے تک جنرل فیض نے تمام ٹاسک کامیابی سے انجام دیے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے باعث قانون سازی میں مشکلات ہوں یا عمران خان کے لیے اعتماد کے ووٹ کا حصول، سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں صادق سنجرانی کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کے پندرہ اراکین کو غائب کرانا ہو یا جنرل باجوہ کی توسیع جیسے اہم قانون کو مینیج کرنا ہو، صحافیوں کے انٹرویوز رکوانے ہوں یا ٹی وی چینلز کی پوزیشن تبدیل کرانی ہو، عاصمہ شیرازی کے مطابق جنرل فیض ایک ہی وقت میں کارِ حکومت بھی چلاتے رہے اور طالبان کے کابل میں ’سب اچھا ہے‘ کا راگ بھی الاپتے رہے۔
عاصمہ شیرازی نے اپنے تجزیے میں جنرل فیض کو ریاست کے لیے ایک چھلاوا یا جن قرار دیا دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ادھر ان کے آقا چراغ رگڑتے اور ادھر جنرل فیض حاضر ہو جاتے۔ ان کے مطابق جنرل فیض کا کردار اس قدر دلچسپ ہے کہ اس پر نیٹ فلیکس کے کئی سیکوئیلز تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ بلاشبہ 2015 سے 2023 تک ترتیب دیے جانے والے ’پراجیکٹ عمران خان‘ کے روحِ رواں اور سب سے اہم کردار بظاہر جنرل فیض ہی تھے، اس فلم کے ہدایت کار جنرل باجوہ اور مرکزی کردار عمران خان تھے۔ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اگر جنرل فیض حمید کا مقدمہ براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جاتا تو عالمی ریٹنگز کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جاتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیاست میں مداخلت سے انکاری رہے، یہاں تک کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ان کے سامنے رکھے گئے۔ اسکے نتیجے میں انکی جانب سے اٹھائی جانے والی قسمیں، وعدے اور پیشکشیں سب ڈرامے کی آخری قسط کا حصہ تھے جو شاید کبھی منظر عام پر نہ آ سکیں۔
عاصمہ شیرازی کے بقول طالبان سے مذاکرات، جنگجو عسکریت پسندوں کی واپسی اور ان کی آبادکاری جیسے جرائم جنرل فیض نے اکیلے نہیں کیے بلکہ جنرل باجوہ، عمران خان اور ان کے دو قریبی بیوروکریٹس بھی اس میں برابر کے شریک تھے۔ ان کے مطابق ان تمام اقدامات کے پس منظر میں موجود مقاصد کو دسمبر 2021 میں آصف علی زرداری نے بھانپ لیا تھا، جس کے بعد نواز شریف کو اعتماد میں لیا گیا اور یوں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی بنیاد رکھی گئی۔
جنرل باجوہ نے اپنی توسیع کے چکر میں فیض حمید کو کیسے مروایا؟
خاتون اینکر پرسن کہتی ہیں کہ عسکریت پسندوں کی پاکستان واپسی اور چند خطرناک طالبان رہنماؤں کو معافی دینا ایسا جرم ہے جس کی سزا کا احاطہ ممکن نہیں۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق جنرل فیض کا احتساب ایک باب تو ضرور ہے لیکن پوری کتاب نہیں۔ ان کے بقول اس کہانی کے اہم کردار جنرل باجوہ سے تحقیقات کے بغیر یہ داستان ادھوری رہے گی۔ اگر سیاست سے فوج کے کردار کو واقعی ختم کرنا ہے تو کم از کم پچھتر برس نہیں بلکہ صرف گزشتہ ایک دہائی کی ہی غیر جانبدار تحقیقات کر لی جائیں تو مستقبل کے لیے راستہ نکل سکتا ہے۔
