جناح اور بے نظیر کی بے وقت اموات سے پاکستان کا کتنا نقصان ہوا ؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے عموما یہی مانا جاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص یا شخصیت ناگزیر نہیں۔ لیکن میرے خیال میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بے وقت چلے جانے سے واقعی فرق پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر قائداعظم محمد علی جناح اور بینظیر بھٹو کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو پاکستان آج ایک مختلف اور بہتر ملک ہوتا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر محمد علی جناح قیام پاکستان کے بعد کچھ برس مزید زندہ رہ جاتے تو وہ بھی بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی طرح پاکستان کو ایک آزاد خیال، جمہوری اور کثیر مذہبی آئین دینے میں کامیاب ہو جاتے، جو اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے استحصال سے پاک ہوتا اور یوں پاکستان اج ایک تنگ نظر معاشرہ نہ ہوتا۔ اسی طرح، اگر بینظیر بھٹو مزید کچھ برس زندہ رہتیں،ل تو وہ ایک زیادہ محفوظ اور ہم آہنگ پاکستان کی تعمیر کرتیں، جو ان کے مجوزہ "مفاہمت” کے فلسفے پر مبنی ہوتا۔ یہ وہی نظریہ تھا جس کی وہ اپنی افسوسناک شہادت سے پہلے پر زور پرچار کر رہی تھیں۔

بینظیر بھٹو نے ایک سیاسی اور مذہبی طور پر منقسم ملک میں مفاہمت کے مشن کے ساتھ پاکستان واپسی کی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب "Reconciliation” میں دنیا بھر کی مثالیں دے کر ثابت کیا کہ لڑائی کو مکالمے کے ذریعے پرامن بقائے باہمی میں بدلا جا سکتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مکالمہ تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے، خاص طور پر مستحکم معاشروں میں۔ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان جیسے غیر مستحکم معاشروں میں تنازعات کے حل کے لیے قربانیوں اور سمجھوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ ان کی بینظیر بھٹو سے مفاہمت کے موضوع پر ایک طویل گفتگو ہوئی۔ وہ اسرائیلی سیاستدان اور سابق وزیر اعظم آئزک رابن سے بہت متاثر تھیں، جنہوں نے اوسلو معاہدے کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے لیے دو ریاستی حل پیش کیا۔ بینظیر بھٹو اور آئزک رابن کے درمیان خطے اور عالمی سیاست پر خیالات کا تبادلہ ہوا، جس نے بینظیر بھٹو کو مفاہمت کے راستے پر گامزن ہونے کی ترغیب دی۔

سہیل ورائچ بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایک اور ملاقات میں بینظیر بھٹو نے جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد کیساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاکہ دونوں متضاد نظریات کے درمیان مفاہمت کی راہ نکالی جا سکے۔ لیکن اس ملاقات سے پہلے ہی بی بی کی بے وقت شہادت کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔ لیکن میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر وہ کچھ عرصہ مزید زندہ رہتیں تو پاکستان آج زیادہ پرامن اور ہمہ جہت معاشرے پر مبنی ملک ہوتا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی جنرل مشرف کے ساتھ مفاہمت کے عمل کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن تب کے حالات میں انکا ڈائیلاگ کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران آمریت سے جمہوریت کی طرف جاری سفر مکمل کرنے کے لیے ایک بہترین حل تھا۔ تاہم، یہ معاہدہ  تب ناکام ہو گیا جب جنرل مشرف نے اچانک پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

تحریک انصاف نے سزاؤں کی معافی کو ڈھکوسلہ قرار دے دیا

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کو بدعنوانی کے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور تمام مقدمات سے بری ہو کر پاکستان واپس آئیں۔ لیکن ان کی شہادت کے بعد، پاکستان مفاہمت کے فلسفے سے دور ہوتا چلا گیا اور نفرت اور انتشار کی دلدل میں مزید دھنس گیا۔ ہم آج بھی بینظیر بھٹو کے فلسفہ مفاہمت سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہیں۔ اس فلسفے پر عمل صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق اپنی بیان کردہ پوزیشنز کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے اپنے وقت کے حقیقی ہیروز کے ساتھ بے رحمی کا برتاؤ کیا، چاہے وہ سچے انبیاء ہوں یا بصیرت والے سیاستدان ہی کیوں نہ ہوں۔ اسرائیل کے آئزک رابن کی طرح، بینظیر بھٹو کو بھی ان کے اپنے لوگوں نے شہید کر دیا، حالانکہ وہ امن اور ہم آہنگی کی داعی تھیں اور پاکستان کے لیے ایک بہتر مستقبل کے متلاشی تھیں۔

Back to top button