دولاکھ سے زائد کیش جمع کروانے پر کتنا ٹیکس عائد کیا گیا ہے؟

بینک میں دو لاکھ سے زائد کیش جمع کروانے پر نئے ٹیکس کے نفاذ کے دعوے جھوٹے نکلے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ 2025-26 اور اس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 میں کی گئی ترامیم کے مطابق بجٹ میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کی گئی جس کے تحت عام شہریوں کے بینک میں رقم جمع کروانے پر کوئی نیا ٹیکس لاگو کیا گیا ہو۔ اس لئے سوشل میڈیا پر 2لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کروانے پر 40فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی نیا بجٹ آتا ہے تو مالیاتی اصلاحات سے زیادہ "خوف کی خبریں” عوام پر ٹیکس کی طرح مسلط کر دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں حالیہ دنوں یہ خبر بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ وفاقی حکومت نے بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر 20 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ بعض ذرائع نے تو یہ شرح 40 فیصد تک بتائی، جبکہ کئی ٹی وی چینلز نے باقاعدہ عوام کو "خبردار” کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ اب بینک میں رقم جمع کروانا بھی نقصان دہ ہو چکا ہے۔ نتیجتاً ملک بھر میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی اور کئی شہریوں نے اپنی رقوم بینکوں سے نکالنے یا نقد رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس بھی سامنے آئیں جن میں بعض کمپنیوں نے اپنے صارفین کو خبردار کیا کہ اگر وہ کیش میں ادائیگی کریں گے تو ان پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اس لئے انہیں کیش کی بجائے ڈیجیٹل ادائیگی کرنی چاہیے۔

تاہم اب سامنے آنے والے حقائق کے مطابق یہ تمام افواہیں دراصل وفاقی بجٹ 2025-26 میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 کی کچھ شقوں میں کی گئی مخصوص ترامیم کی غلط تشریح پر مبنی ہیں، جن کا عام شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں کیش جمع کروانے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان ترامیم کا تعلق صرف کاروباری اداروں، کمپنیوں یا ان افراد سے ہے جو سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں اور جن کی مالی سرگرمیاں کاروباری نوعیت کی ہوتی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں متعارف کروائی گئی ان ترامیم کا مقصد عام شہریوں پر ٹیکس لگانا نہیں بلکہ ان کاروباری افراد کو کیش ٹرانزیکشن سے روکنا ہے جو اب بھی نان فائلرز کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں یا بڑی بڑی ادائیگیاں نقد کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کوئی کاروباری فرد یا کمپنی کسی نان فائلر شخص کو رقم ادا کرتا ہے، تو اس ادائیگی کا 10 فیصد حصہ ان کے سالانہ اخراجات میں شمار نہیں کیا جائے گا، اور اسے منافع تصور کرتے ہوئے اس پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اگر کسی سپلائر کو دو لاکھ روپے یا اس سے زائد کی رقم کیش میں دی جائے گی تو اس رقم کا صرف 50 فیصد اخراجات میں شمار ہوگا، باقی منافع میں شامل ہوگا۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ تمام ضوابط ان کمپنیوں اور کاروباری افراد پر لاگو ہوتے ہیں جو انکم ٹیکس آرڈیننس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ماہرین کے بقول بجٹ میں متعارف کردہ نئی ترامیم کا بینک میں کسی عام فرد کی رقم جمع کروانے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی حکومت نے عام بینک ڈیپازٹس پر کوئی نیا ٹیکس عائد کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض چینلز کی جانب سے جو خبریں پھیلائی گئیں وہ غلط فہمی یا غلط بیانی پر مبنی ہیں۔

اصل میں حکومت ان ترامیم کے ذریعے کیش پر انحصار کم کر کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے، تاکہ معیشت کو ڈاکیومنٹ کیا جا سکے اور ٹیکس نیٹ میں وہ افراد بھی آئیں جو اب تک اس نظام سے باہر ہیں۔تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے ہر اقدام کو عوامی ردعمل سے پہلے ہی خوف کی چادر میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ میڈیا میں تحقیق کی بجائے افواہوں کو فوقیت دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف عوام کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے بلکہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ موجودہ معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ حکومت نے جہاں کاروباری لین دین کو ضابطے میں لانے کی کوشش کی، وہیں میڈیا نے اسے یوں پیش کیا جیسے بینک میں رقم جمع کروانا بھی جرم بن چکا ہو۔

وزیرستان میں ڈرون حملے: عوام سیکیورٹی فورسز کے خلاف سڑکوں پر

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی عام شہری، اگر وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں دو لاکھ یا اس سے زیادہ رقم جمع کرواتا ہے، تو اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ یہ ترمیم صرف کاروباری اخراجات، منافع اور انکم ٹیکس گوشواروں سے متعلق ہے۔ اگر کاروباری شخص ڈیجیٹل یا بینکنگ چینل سے ادائیگی کرتا ہے اور نان فائلر سے خریداری نہیں کرتا، تو تمام اخراجات ٹیکس ریٹرن میں تسلیم کیے جاتے ہیں اور اضافی ٹیکس کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔

Back to top button