ایم کیو ایم کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی اصل کہانی

 

 

 

وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس میں پہلی بار کھل کر الطاف حسین کو پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل تو قرار دے دیا، تاہم وہ یہ بتانا بھول گئے کہ یہ محض سیاسی الزام نہیں بلکہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت جون 2020 میں اپنے تفصیلی فیصلے میں اس قتل کو الطاف حسین کے حکم کا نتیجہ قرار دے چکی ہے اور انہیں اس کیس میں اشتہاری ملزم قرار دیا جا چکا ہے۔

 

مصطفیٰ کمال کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا معاملہ چھیڑ دیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران فاروق متحدہ قومی موومنٹ کے بانی اراکین میں شمار ہوتے تھے اور جماعت کے اندر انہیں فکری اور نظریاتی ستون کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ طویل عرصے تک پارٹی کی تنظیمی اور نظریاتی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور پارٹی لٹریچر کا بڑا حصہ انہی کے قلم سے نکلا۔ تاہم 2009 میں الطاف حسین سے اختلاف کے بعد انہیں پارٹی سیکرٹری جنرل اور کنوینر کے عہدوں سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے لندن میں موجود مرکزی قیادت سے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے۔ عمران فاروق کے قتل کیس کی تفتیش اور عدالتی فیصلے میں یہ بات سامنے آئی کہ الطاف کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ عمران فاروق ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے ایم کیو ایم کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا گیا اور یہی سیاسی اختلاف بالآخر ان کے قتل کی وجہ بنا۔

 

الطاف حسین کی سالگرہ کے روز 16 ستمبر 2010 کی شام عمران فاروق لندن کے شمالی علاقے ایجوئر میں واقع پیدل اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے۔ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے باعث وہ اپنی حفاظت کے حوالے سے محتاط رہتے تھے اور میٹروپولیٹن پولیس کو بھی سکیورٹی خدشات سے آگاہ کر چکے تھے، تاہم اس شام وہ بغیر کسی سیکیورٹی کے اپنی ملازمت کی جگہ واقع ایک فارمیسی سے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ جیسے ہی وہ گرین کورٹ اپارٹمنٹ بلاک کے داخلی راستے میں داخل ہوئے تو ایک حملہ آور نے اچانک ان پر اینٹ سے حملہ کرتے ہوئے ان کے سر پر کاری وار کیے۔ اس کے بعد عمران فاروق پر خنجر کے پے در پے وار کیے گئے۔ طبی عملے نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ لندن کی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ تھا کہ کسی شخص کو سر پر اینٹیں مارنے کے بعد خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا جائے۔

 

عمران فاروق کے قتل کے فوراً بعد لندن میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے تحقیقات کا آغاز کیا اور جائے وقوعہ سے پانچ انچ لمبا خنجر اور ایک اینٹ برآمد کی گئی۔ ابتدائی طور پر شواہد محدود تھے، لیکن قریبی علاقوں میں نصب کیمرے موجود نہیں تھے اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے گواہوں کی تعداد بھی کم تھی، تاہم پولیس نے ہزاروں گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، چار ہزار سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی اور چار ہزار پانچ سو سے زیادہ شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں ایک اے ٹی ایم کیمرے سے حاصل ہونے والی فوٹیج نے تفتیش کا رخ بدل دیا جس کے ذریعے حملہ آوروں کی نقل و حرکت اور باہمی تعلق سامنے آیا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ محسن علی سید اور کاشف خان کامران 2010 میں برطانیہ آئے تھے اور شمالی لندن میں مقیم رہے۔ قتل کے چند ہی دن بعد دونوں لندن سے کولمبو سری لنکا روانہ ہوئے اور 19 ستمبر کو کراچی پہنچ گئے۔ یہ تفصیلات بعد میں پاکستانی اور برطانوی حکام کے لیے کلیدی شواہد بنیں۔

 

برطانوی سراغ رسانوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ دونوں ملزمان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا اور قتل کی وجہ الطاف حسین سے اختلاف کرنا تھا۔ 5 دسمبر 2015 کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ پاکستان میں درج کیا جس میں الطاف حسین، محمد انور، افتخار حسین، معظم علی، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور محسن علی سید کو نامزد کیا گیا۔ جون 2015 میں محسن علی اور خالد شمیم کو چمن سے جبکہ معظم علی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں اسلام آباد منتقل کر کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تفتیش کی گئی۔

 

8 جنوری 2016 کو محسن علی اور خالد شمیم نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اگلے ہی روز بیان دیا کہ عمران فاروق کو ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما محمد انور کی ہدایت پر قتل کیا گیا کیونکہ قیادت کو شبہ تھا کہ وہ الگ سیاسی گروپ بنانے جا رہے ہیں۔ کاشف کامران نے بھی اعتراف کیا کہ قتل کے بعد کوڈ ورڈ میں اطلاع دی گئی کہ ماموں کی صبح ہو گئی ہے، جس کا مطلب قتل کی تکمیل تھا۔ 2016 میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم نے پاکستان آ کر گرفتار ملزمان کے بیانات قلم بند کیے جبکہ اپریل 2016 میں خالد شمیم کا ویڈیو بیان منظر عام پر آیا جس میں اس نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو براہ راست اس قتل میں ملوث قرار دیا۔ بعد ازاں اس نے یہ بھی بتایا کہ 16 ستمبر الطاف حسین کی سالگرہ کے تناظر میں قتل کے لیے چنا گیا اور انہیں سالگرہ کا تحفہ پیش کیا گیا۔

دو عورتوں نے بنگلہ دیشی سیاست کو کیسے گدلا کیا؟

اس کے بعد کیس طویل عرصے تک التوا کا شکار رہا تاہم فروری 2019 میں پاکستان نے برطانیہ سے باہمی قانونی معاونت کی درخواست دی جس کے لیے پاکستانی قوانین میں عارضی ترمیم کی گئی تاکہ سزائے موت کا اطلاق نہ ہو سکے۔ برطانوی حکام نے اگست 2019 میں یہ درخواست قبول کی اور میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے اکٹھے کیے گئے شواہد پاکستانی استغاثہ کو فراہم کیے گئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج شاہ رخ ارجمند نے 18 جون 2020 کو 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے محسن علی سید، کاشف خان کامران اور خالد شمیم کو قتل، قتل کی سہولت کاری، سازش اور معاونت کے جرم میں سزا سنائی اور مقتول کے اہل خانہ کو فی کس دس، دس لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ عمران فاروق کا قتل الطاف حسین کے حکم پر کیا گیا، جس کی بنیاد پر الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے اور الطاف حسین کو اس مقدمے میں اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ لہذا یہ واضح ہے کہ عمران فاروق کے قتل میں الطاف پر محض الزام عائد نہیں کیا گیا بلکہ پاکستانی عدالت اسے اس قتل کا ذمہ دار اور اس سازش کا مرکزی کردار قرار دے چکی ہے، جو اب ایک ثابت شدہ عدالتی حقیقت ہے۔

Back to top button