قومی حکومت اور ونڈر بوائے کی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے؟

حکومتی اور عسکری حلقوں کی جانب سے جھوٹ کا پلندہ قرار دیے جانے کے باوجود اسلام آباد میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک قومی حکومت اور ایک ’ونڈر بوائے‘ کے روشن مستقبل کی افواہیں زوروں پر ہیں۔ سوشل میڈیا، ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی تجزیوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ قومی حکومت کی صورت میں جلد ہی ایک نیا سیاسی سیٹ اپ لایا جا سکتا ہے جس میں مرکزی کردار کسی غیر معمولی صلاحیت کے حامل ونڈر بوائے کو حاصل ہوگا۔ تاہم اس ’ونڈر بوائے‘ کی شناخت اب تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب حکومتی اور عسکری ذرائع ان تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں ٹیکنوکریٹ حکومت یا غیر منتخب قومی حکومت کا سیٹ اپ دیوانے کا خواب ہے جسکے پیچھے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ متحرک ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ان خبروں کا اصل مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے تا کہ موجودہ نظام چلانے والوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اس بحث کا آغاز معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے ایک تجزیے سے ہوا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں اب بھی چوہے بلی کا کھیل جاری ہے اور قومی حکومت کے قیام کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ انکے مطابق ممکنہ نئے سیاسی سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ تحریک انصاف کا ایک دھڑا بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ اس بندوبست میں ایک ’ونڈر بوائے‘ کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہو گا۔
اس تجزیے کے منظرعام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا واقعی پاکستان ایک بار پھر سیاستدانوں کے بجائے ٹیکنوکریٹس کے ذریعے چلانے کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ اس دوران مختلف نام بھی سامنے آنا شروع ہو گئے جنہیں ممکنہ ٹیکنوکریٹ وزیراعظم یا وزیر خزانہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں نظام حکومت اور ریاست چلانے کے لیے ٹیکنوکریٹس کو ترجیح دینے کی بات ہو رہی ہو۔ یاد رہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ اس طرح کے تجربات سے بھری پڑی ہے۔
بڑے ریاستی عہدوں تک پہنچنے والے اولین ٹیکنوکریٹس میں انگریز دور کے سول سرونٹ اور پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی شامل تھے، جنہیں 1951 میں وزیر خزانہ اور بعد ازاں 1955 میں وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ ان کے بعد سابق سفارتکار محمد علی بوگرہ، ورلڈ بینک کے سینئر افسر معین قریشی، سابق بینکار شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس ناصرالملک، انوار الحق کاکڑ اور غلام اسحاق خان جیسے افراد وزیراعظم اور صدر کے مناصب تک پہنچے۔ اسی طرح سرتاج عزیز، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شمشاد اختر، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور معید یوسف مختلف ادوار میں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔
سیاسی تجزیہ کار نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں پہلے ہی کئی اہم وزارتیں ٹیکنوکریٹس کے پاس ہیں۔ موجودہ وزیر خزانہ، وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ جیسے اہم عہدے ایسے افراد کے پاس ہیں جنہیں عملی سیاست کے بجائے انتظامی اور تکنیکی پس منظر کی بنیاد پر جانا جاتا ہے۔ اسکے باوجود سیاسی اور صحافتی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ مستقبل قریب میں اقتدار کی باگ ڈور یا کم از کم چند اہم ترین وفاقی وزارتیں ٹیکنوکریٹس کے حوالے کی جا سکتی ہیں، اس حوالے سے بعض معروف بیوروکریٹس اور معاشی ماہرین کے نام لیے جا رہے ہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کی اکثریت ان افواہوں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتی ہے۔ معروف تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق ٹیکنوکریٹ حکومت بارے قیاس آرائیوں کی عملی سیاست میں کوئی واضح گنجائش نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین وزارتیں ٹیکنوکریٹس کو دی جا سکتی ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تاہم وزیراعظم کے طور پر کسی ٹیکنوکریٹ کی تعیناتی فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ضیغم کے مطابق پاکستان میں کوئی ایسے غیر معمولی یا جادوئی ٹیکنوکریٹس موجود نہیں جو اقتدار میں آ کر نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیں۔ ان کے بقول ایک محدود طبقہ ہے جو مختلف عہدوں کے گرد گھومتا رہتا ہے اور حکمرانوں کو خوش کرنے والی باتیں کرتا ہے، مگر ایسے افراد کو اقتدار میں لا کر بھی کسی بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ تکنیکی مہارت کی کمی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی ڈھانچہ ہے۔
نہ تو کوئی ونڈر بوائے آ رہا ہے اور نہ یہ نظام کہیں جا رہا ہے؟
سینیئر صحافی طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی عملی طور پر ٹیکنوکریٹس ہی ریاستی امور چلا رہے ہیں کیونکہ خزانہ، خارجہ، دفاع اور داخلہ جیسے اہم شعبے انہی کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار ہوں، اورنگزیب ہوں، محسن نقوی ہوں یا خواجہ آصف، یہ سب بنیادی طور پر ٹیکنوکریٹس ہیں لہٰذا اس صورتحال میں ٹیکنوکریٹک نظام کے نفاذ کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح تجزیہ کار نادیہ نقی کا کہنا ہے کہ صرف افراد کو بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت نظام کی تبدیلی اور اشرافیہ کی اجارہ داری کے خاتمے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے کسی کو بھی معیشت کو حرکت میں لانے کے لیے اقتدار میں لایا جائے، جب تک طاقتور طبقوں کی گرفت ختم نہیں ہوتی، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
