پاکستان انڈیا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز کا کتنا نقصان ہو گا ؟

 

 

 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا اور پاکستان کا 15 فروری کا میچ نہ ہونے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو درپیش بھاری مالی نقصان کی باتیں تو ہر طرف ہو رہی ہیں لیکن اس کا اصل نقصان براڈکاسٹرز کو ہو گا جو کہ دنیا بھر میں ٹی وی اور فون سکرینز پر کرکٹ میچ دکھانے کا ٹھیکہ اٹھاتے ہیں اور اسکے عوض آئی سی سی کو ایڈوانس میں اربوں ڈالرز ادا کرتے ہیں۔

 

آئی سی سی کی جانب سے جاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے کئی میچز کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میچوں میں سے ایک رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں پاک بھارت میچ کی ویورشپ بہت زیادہ رہتی ہے لہذا اس کا کمرشل ایئرٹائم ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ کیا آئی سی سی کے لیے واقعی اتنے اہم ہیں جتنے پاکستانی تجزیہ کاروں کی جانب سے بتائے جا رہے ہیں؟

 

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے یعنی بی بی سی نے انڈیا اور پاکستان میں کرکٹ براڈ کاسٹرز اور ایڈورٹائزرز سے بات کر کے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ کرکٹ دکھا کر کمائی کرنے والے براڈکاسٹرز اور ایڈورٹائیزرز کو پاکستان اور انڈیا کے میچز کی اہمیت کا اندازہ مارچ 2007 میں تب ہوا جب ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈین کرکٹ ٹیم کو سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنے کے باعث گھر لوٹنا پڑا۔ انڈیا کا پہلے ہی راؤنڈ میں ورلڈ کپ سے نکل جانا نہ صرف انڈین فینز اور ایڈورٹائزرز کے لیے بلکہ خود آئی سی سی اور اس کے اُس وقت کے براڈ کاسٹر ’سونی‘ کے لیے بھی ایک بہت بڑا معاشی دھچکا تھا۔

 

یہ دھچکا اتنا شدید تھا کہ ’سونی‘ اس کے بعد آئی سی سی کے براڈکاسٹنگ رائٹس حاصل کرنے کی دوڑ سے ہی دستبردار ہو گیا تھا۔ انڈیا کے میچز کے لیے براڈکاسٹر ’سونی‘ نے انڈیا میں اشتہار کے لیے 10 سیکنڈ کا سلاٹ ’ڈیڑھ لاکھ انڈین روپے‘ جبکہ 16 اپریل کو ہونے والے ممکنہ پاکستان انڈیا میچ کے لیے صرف 10 سیکنڈ کا سلاٹ ساڑھے چار لاکھ انڈین روپے میں بیچ رکھا تھا۔

کولا برانڈ ’پیپسی‘ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے لیے 350 کروڑ کی ’بلیو بلین‘ نامی تشہیری مہم بنائی تھی، جو اسے مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے انڈیا کی شکست کے حوالے سے ایک نیا اشتہار بنانا پڑا۔

 

اُدھر پاکستانی ٹیم بھی آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز سے شکست کھا کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی تھی۔ تب کے پاکستانی ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ مسعود ہاشمی نے بتایا تھا کہ ’پاکستانی ایڈورٹائزرز کو تین ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔‘ یہ دنیائے کرکٹ میں ایک ایسا لمحہ تھا جب آئی سی سی ٹورنامنٹس کی مالی کامیابی میں انڈیا کی اہمیت کا صحیح معنوں میں ادراک ہوا تھا۔ پاکستان میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کے بعد سے آئی سی سی نے پاکستان اور انڈیا کو ایک ہی گروپ میں رکھنے کی ریت کا آغاز کیا تھا۔

 

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا میچ کے کمرشل ایئر ٹائم کی کیا قیمت ہے؟ دراصل ہر مارکیٹ میں براڈکاسٹرز مختلف طریقوں سے کماتے ہیں جیسے انڈیا میں سبسکرپشن اور ایڈورٹائزنگ وہ دو طریقے ہیں جن کے ذریعے براڈکاسٹر پیسے بناتے ہیں۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی مارکیٹس میں سبسکرپشن کی اہمیت زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں ایڈورٹائزرز اور کمرشل ایئر ٹائم اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انڈسٹری کے ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا میں براڈکاسٹرز کے لیے 60 سے 65 فیصد رقم ایڈورٹائزرز سے آ رہی ہے لیکن سبسکرپشن کی رقم کا بھی 30 سے 35 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ایڈورٹائزرز سے ملنے والی رقم ہی سب کچھ ہوتی ہے اس لیے یہاں آپ کو میچ کے دوران اشتہاروں کو کسی نہ کسی طرح فٹ کرنے کی جدوجہد دکھائی دیتی ہے۔

 

بی بی سی نے پاکستان اور انڈیا میں ایڈورٹائرزنگ کے لیے دیے گئے سلاٹس کی قیمت جاننے کے لیے دونوں ممالک میں میڈیا بائنگ کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے۔ کسی بھی ون ڈے میچ میں کمرشل ایئر ٹائم 100 منٹ کے قریب ہوتا ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچ میں یہ دورانیہ 50 منٹ تک کا ہوتا ہے۔ انڈیا کے شہر بینگلورو کی ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزری کمپنی ’ڈی اینڈ پی ایڈوائزری برانڈز‘ کو کمرشل ایئر ٹائم کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنتوش این نے بتایا کہ حالانکہ گذشتہ ایک دہائی میں انڈیا اور پاکستان کے مابین میچ اکثر ون سائیڈڈ رہے ہیں اور بھارت کو برتری حاصل رہی ہے لیکن اس کے باوجود اُن کی انڈیا میں کمرشل ایئر ٹائم کے اعتبار سے لاگت دیگر تمام میچوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔

 

سنتوش کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ ظاہر ہے دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی پسِ منظر ہے۔ دونوں ہی ممالک کی آبادی اچھی خاصی ہے اور جو لوگ عموماً کرکٹ نہیں بھی دیکھتے وہ انڈیا پاکستان میچ ضرور دیکھتے ہیں۔ اس لیے دونوں اطراف برانڈز یہی چاہتے ہیں کہ اُن کا اشتہار زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، اس لیے انڈیا پاکستان میچ کے کمرشل ایئر ٹائم کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اُن کے مطابق ’نیویارک میں کھیلے گئے انڈیا پاکستان میچ میں 10 سیکنڈ سلاٹ کی قیمت 50 لاکھ تک چلی گئی تھی۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ایک 10 سیکنڈ کے سلاٹ کی قیمت 60 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔‘ یعنی ایک منٹ کا کمرشل ایئرٹائم لگ بھگ تین کروڑ 60 لاکھ کے قریب۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ براڈکاسٹرز کی جانب سے عموماً میچوں کے 80 فیصد کے قریب منٹس ٹورنامنٹس سے پہلے ہی فروخت کر دیے جاتے ہیں اور بعد میں 20 فیصد کی قیمت میچ کی اہمیت کے اعتبار سے بڑھائی یا کم کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام منٹ ایک ہی قیمت پر فروخت ہوں۔

کیا پاکستان سیمی فائنل میں بھی انڈیا سے نہیں کھیلے گا؟

بی بی سی نے جب پاکستان میں میڈیا بائنگ کمپنی مارش میلو ایڈورٹائزنگ سے رابطہ کیا تو یوسف رشید نے بتایا کہ پاکستان میں انڈیا پاکستان میچ کے لیے ایک منٹ کے سلاٹ کی قیمت حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے لیے 50 لاکھ تک تھی جبکہ 2019 کے ورلڈ کپ میچ میں یہ قیمت 60 لاکھ تک چلی گئی تھی۔ یہاں یہ بتانا بھی اہم ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈکپ 2023 میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میچوں کے ’جیم پیک‘ ویورشپ میں پاکستان انڈیا میچ پانچویں نمبر پر تھا جبکہ انڈیا آسٹریلیا فائنل، انڈیا جنوبی افریقہ میچ اور انڈیا نیوزی لینڈ کے گروپ میچ اور سیمی فائنل کی ویورشپ بہتر تھی۔

Back to top button