یکم رمضان کو کن بینک اکاؤنٹس سے کتنی زکوٰۃ کاٹی جاتی ہے؟

 

 

 

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ جہاں ملک بھر میں خوشیوں اور عبادات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، وہیں یکم رمضان المبارک کو بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کی خبروں نے لاکھوں کھاتہ داروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر کن بینک اکاؤنٹس سے کتنی زکوٰۃ کاٹی جائے گی؟ حکومت نے رواں برس سیونگ اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کے لیے کیا نصاب مقرر کیا ہے؟ کیا ہر بینک اکاؤنٹ سے خودکار طور پر زکوٰۃ کی کٹوتی ہوگی یا کچھ اکاؤنٹس اس سے مستثنیٰ بھی ہیں؟ کرنٹ اور پے رول اکاؤنٹس کی کیا حیثیت ہے؟ اور اگر کوئی شخص خود زکوٰۃ ادا کرنا چاہے تو سی زیڈ-50 فارم کیا ہے اور اسے بینک میں کب تک جمع کروانا ضروری ہوتا ہے؟

خیال رہے کہ وفاقی وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کا نصاب پانچ لاکھ تین ہزار پانچ سو انتیس روپے مقرر کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یکم رمضان کو ایسے تمام سیونگ اکاؤنٹس جن میں موجود رقم اس مقررہ نصاب سے زائد ہوگی، اُن سے ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ خودکار طور پر کاٹ لی جائے گی، جبکہ اگر کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم نصاب سے کم ہوگی تو اس پر کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

 

واضح رہے کہ بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم سے خود کار طریقے سے زکوٰۃ کی کٹوتی کا طریقہ کار بنیادی طور پر ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور اقتدار میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت طے کیا گیا تھا، زکوٰۃ اور عشر آرڈیننس 1980 کے مطابق، زکوٰۃ ہر طرح کے سیونگ بینک اکاؤنٹس سے کاٹی جاتی ہے۔ یہ قانون صرف بینکوں میں موجود کھاتوں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ اس کا اطلاق ڈاک خانوں، قومی بچت کے مراکز اور دیگر مالیاتی اداروں میں موجودمنافع بخش اکاؤنٹس پر بھی ہوتا ہے، چاہے وہ کسی نام سے بھی ہوں۔ حکام کے مطابق زکوٰۃ تمام سیونگ بینک اکاؤنٹس سے کاٹی جاتی ہے، ماسوائے ان اکاؤنٹس کے جن میں لوگ حلف نامہ جمع کروا کر بینک کو مطلع کر دیں کہ ہماری زکوٰۃ نہ کاٹی جائے۔

 

بینکنگ حکام کے مطابق تمام بینک اکاؤنٹس خودکار زکوٰۃ کی کٹوتی کے دائرے میں نہیں آتے۔ کرنٹ اکاؤنٹس، جنہیں عام طور پر پے رول اکاؤنٹس بھی کہا جاتا ہے، آرڈیننس میں واضح طور پر شامل نہیں، اس لیے عمومی طور پر ان سے زکوٰۃ نہیں کاٹی جاتی۔ اسی طرح فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد سیونگ اکاؤنٹ کھولتے وقت بینک میں بیانِ حلفی جمع کرواتے ہیں کہ ان کے اکاؤنٹ سے زکوٰۃ نہ کاٹی جائے کیونکہ وہ خود اپنے طور پر زکوٰۃ ادا کریں گے۔ ایسے بیانِ حلفی کے بعد متعلقہ اکاؤنٹ سے کٹوتی نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ دیگر افراد بھی اگر یہ چاہتے ہوں کہ حکومت ان کے اکاؤنٹ سے خودکار طور پر زکوٰۃ نہ کاٹے تو وہ سی زیڈ-50 (CZ-50) فارم بینک میں جمع کرا سکتے ہیں۔ اس فارم کے ذریعے کھاتہ دار تحریری طور پر اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ خود ادا کرے گا۔ تاہم قواعد کے مطابق یہ فارم یکم رمضان سے کم از کم تیس روز قبل جمع کروانا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر متعلقہ سال کے لیے کٹوتی روکنا ممکن نہیں رہتا۔

 

دوسری جانب علمائے کرام کے مطابق شرعی اعتبار سے زکوٰۃ ہر اُس مسلمان پر فرض ہے جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی جس کے پاس نقد رقم، سونا، چاندی، مالِ تجارت یا ان کے مساوی اثاثے نصاب سے زائد ہوں اور ان پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔ ہر صاحب نصاب پر ایسے مال کی مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ زکوٰۃ مستحق اور ضرورت مند افراد کو دی جا سکتی ہے، تاہم شوہر بیوی کو یا بیوی شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، نہ ہی والدین، دادا دادی، نانا نانی، اولاد یا پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو دی جا سکتی ہے، اور نہ ہی کوئی صاحبِ نصاب شخص زکوٰۃ وصول کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یکم رمضان کو زکوٰۃ کی کٹوتی ایک قانونی اور خودکار عمل ہے جو صرف اُن سیونگ اکاؤنٹس پر لاگو ہوتا ہے جن میں موجود رقم حکومتی مقرر کردہ نصاب سے زیادہ ہو۔ تاہم اکاؤنٹ کی نوعیت اور بروقت جمع کرائے گئے حلف نامے کی بنیاد پر اس سے استثنیٰ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، اس لیے کھاتہ داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رمضان سے قبل اپنے بینک اور اکاؤنٹ کی صورتحال سے مکمل آگاہی حاصل کر لیں تاکہ کسی غیر متوقع کٹوتی سے بچا جا سکے۔

Back to top button