پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروس سکیورٹی رسک کیسے بن گئی

 

 

 

 

ایک بٹن دبائیں اور گاڑی حاضر۔۔۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اب روایتی ٹیکسی سروس کی جگہ آن لائن ٹیکسی سروس کا استعمال تیزی سے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس سہولت کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروسز کو ریگولرائز کرنے کے لیے ابھی تک کوئی ایک ادارہ یا پالیسی مکمل طور پر فعال نہیں۔پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروسز نہ تو کسی مرکزی اتھارٹی کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی آج تک اس کے حوالے سے کوئی قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر مسافروں کی حفاظت اور ڈرائیورز کا ریکارڈ نہ ہونے سے متعلق مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ حقیقت میں آن لائن ٹیکسی سروس سیکورٹی رسک بن چکی ہیں۔

 

تاہم اب حکومت نے پہلی بار اس خلا کو پُر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینیٹ سے منظور ہونے والے موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل 2025 کے تحت نہ صرف آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں بلکہ حکومت نے قانون سازی کر کے ڈرائیورز اور گاڑیوں کو بھی باقاعدہ طور پر قانونی دائرے میں لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

 

بل کے مطابق کسی بھی آن لائن ٹیکسی سروس کو آپریشن شروع کرنے سے قبل متعلقہ رجسٹریشن اتھارٹی سے رجسٹریشن کروانا اور آپریشن سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا لازم ہوگا۔ اسی طرح آن لائن ڈرائیورز کے لیے اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن، درست ڈرائیونگ لائسنس اور خصوصی اجازت نامہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی آن لائن ٹیکسی سروس کا چلانا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔

 

سینیٹ سے منظور کردہ بل کے مطابق آن لائن ٹیکسی سروس کمپنیوں کیلئے گاڑیوں کی رجسٹریشن، سالانہ فٹنس سرٹیفیکیٹ اور ڈرائیورز کی مکمل تفصیلات رکھنا بھی لازم ہو گا۔ بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سروس پروائیڈر کمپنیاں ڈرائیورز اور گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ کریں گی اور مسافروں کے تحفظ اور شفاف نظام کے لیے متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرنے کی پابندی ہونگی۔

سینیٹ میں بل کے محرک پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی کے مطابق پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرنے والے مسافروں کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ رجسٹریشن اور ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے جرائم کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں تاہم اس ساری صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومتی اداروں کے پاس نہ ڈرائیورز کا ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی گاڑیوں کی تصدیق کا کوئی نظام قائم ہے۔ چونکہ آن لائن رائیڈ ہیلنگ ایپس پر بڑی تعداد میں خواتین مسافر انحصار کرتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قواعد و ضوابط ناگزیر تھے۔‘ ضروری تھا کہ نہ صرف گاڑیوں اور ڈرائیورز کی رجسٹریشن ہو بلکہ حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں تاکہ سفر کرنے والا اور گاڑی چلانے والا دونوں محفوظ رہیں۔‘

 

رجسٹریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ بل ابتدائی طور پر اسلام آباد میں نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، جو ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کام کرتی ہے، آن لائن کمپنیوں اور ان کی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی ذمہ دار ہوگی۔ اسی طرح گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفیکیٹس سے متعلق ادارے بھی اس عمل کی نگرانی کریں گے۔ ان کے مطابق بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے اور امید ہے کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد جلد اسے قانون کی شکل دے دی جائے گی۔

سونا ساڑھے پانچ لاکھ روپے فی تولہ تک جانے کا امکان

دوسری جانب سائبر اور انفارمیشن سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمان کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیکسی سروسز کی نگرانی کے لیے کسی بااختیار اتھارٹی کا ہونا ایک نہایت اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مسافروں کو اعتماد حاصل ہوگا اور حکومتی اداروں کے پاس بھی ضروری ریکارڈ دستیاب ہوگا۔تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بل میں ڈرائیورز کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق واضح حکمتِ عملی بیان نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز میں متعدد سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں اور ان کا ذاتی ڈیٹا آن لائن اپ لوڈ ہونے سے ممکنہ سکیورٹی خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ متعلقہ کمپنیوں اور حکومتی اتھارٹی کو ڈیٹا سکیورٹی کے لیے سخت اور واضح اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ یہ قانون عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کر سکے۔

 

Back to top button