سیاسی فیصلوں کی وجہ سے عالمی کرکٹ کیسے تباہ ہو رہی ہے؟

یوں تو کرکٹ کا کھیل جنوبی ایشیا میں اربوں لوگوں کی دل کی دھڑکن بن چکا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں کرکٹ کا شور کم اور سیاسی آوازیں زیادہ سنائی دینے لگی ہیں۔ وہ کھیل جو کبھی سرحدوں سے بالاتر ہو کر لوگوں کو جوڑتا تھا، آج خود سرحدی تنازعات، سفارتی کشیدگی اور طاقت کے کھیل کی زد میں آ چکا ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ چند ہی دنوں میں شروع ہونے والا ہے، لیکن اس بات پر گفتگو کم اور اس سوال پر بحث زیادہ ہو رہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری تناؤ ورلڈ کپ 2026 اور عالمی سطح پر کرکٹ کے کھیل کو کس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس نے انڈیا کے خلاف 15 فروری کو ہونے والے گروپ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اس معاملے کا باہمی حل تلاش کرے گا۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے کے طویل المدتی اثرات پر غور کرے گا، کیونکہ اس کا اثر عالمی کرکٹ کے اُس نظام پر بھی پڑے گا جسکا پاکستان خود ایک حصہ ہے۔

لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ کرکٹ سیاست سے متاثر ہوئی ہو۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کا عکس ہمیشہ میدان میں دکھائی دیا ہے۔ تعلقات بہتر ہوں تو دونوں ملکوں کے سربراہان ایک ہی سٹیڈیم میں بیٹھے نظر آتے ہیں اور جب کشیدگی حد سے بڑھ جائے تو کھلاڑیوں کے ہاتھ نہ ملانے جیسے غیر معمولی مناظر سامنے آتے ہیں۔ آئی سی سی ایونٹس میں تنازعات کوئی نئی بات نہیں، اور اکثر پاکستان اور انڈیا ہی خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار کہانی کا مرکز بنگلہ دیش بنا۔ بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے انڈیا جانے سے انکار کیا، جس کے بعد آئی سی سی نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔

کرکٹ مبصرین کے مطابق بنگلہ دیشی کھلاڑی خود ورلڈ کپ سے باہر نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک ٹی 20 ورلڈ کپ دنیا کے سامنے خود کو منوانے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہوتا ہے، جہاں اچھی کارکردگی کرکٹرز کے لیے عالمی لیگز کے دروازے کھول دیتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاست نے جنوبی ایشیا کی کرکٹ میں اتنی مرکزی جگہ بنا لی ہے کہ اب کھلاڑیوں کی آواز ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑی کھل کر رائے دینے سے گھبراتے ہیں اور جب بورڈز کی جانب سے واضح ہدایات آ جائیں تو وہ عوامی طور پر ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہیں، چاہے نجی طور پر وہ ان سے متفق نہ ہوں۔

گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے بعد ستمبر میں ہونے والے ایشیا کپ میں میدان پر سیاست پوری طرح نمایاں رہی۔ ہاتھ نہ ملانے، ٹرافی تقریب پر تنازع اور بعض کھلاڑیوں کے اشارے ایسے محسوس ہوئے جیسے کھیل نہیں بلکہ کسی جنگی فتح کا جشن منایا جا رہا ہو۔ یہ اثرات صرف پاکستان اور انڈیا تک محدود نہیں رہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی اس وقت کرکٹ میں جھلکی، جب افغانستان نے نومبر میں پاکستان آ کر سہ فریقی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا۔ ادھر 2024 میں شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ قبل انڈین کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو ٹیم سے نکال دیا، جس کی کوئی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی۔ بعد ازاں یہی واقعہ ورلڈ کپ تنازعے کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے جذبات سے جڑی ہوئی ایک سماجی حقیقت ہے۔ جہاں جذبات، شناخت اور قومی فخر جڑے ہوں، وہاں سیاست کا داخل ہونا شاید ناگزیر ہو، مگر سوال یہ ہے کہ اب حالات کیوں اتنے مختلف ہو چکے ہیں؟ کرکٹ مبصرین کے مطابق سیاست ہمیشہ سے کرکٹ گورننس کا حصہ رہی ہے، لیکن اب فرق یہ ہے کہ حکومتوں کی براہ راست مداخلت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومتیں کرکٹ کو پالیسی پیغامات اور سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ اس وقت آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ ہیں، جو انڈین وزیر داخلہ امِت شاہ کے بیٹے ہیں، جبکہ پاکستان میں وزیر داخلہ محسن نقوی ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ چنانچہ سیاسی طاقت اور کرکٹ انتظامیہ کے اس امتزاج نے یہ حد مٹا دی ہے کہ حکومتی ایجنڈا کہاں ختم ہوتا ہے اور کھیل کی ضرورت کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

کرکٹ ورلڈ کپ: 42 پاکستانی نژاد کھلاڑی انڈیا کے گلے پڑ گئے

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کہانی کا دوسرا بڑا اور شاید زیادہ طاقتور پہلو پیسہ ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف سیاست نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عالمی کرکٹ میں مالی طاقت کس کے پاس مرکوز ہے۔ مبصرین آئی سی سی کے ریونیو ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انڈیا عالمی کرکٹ کی آمدن کا تقریباً 80 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ باقی تمام کرکٹ بورڈز مل کر بھی صرف پانچویں حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی مالی عدم توازن کی وجہ سے، ان کے مطابق، دیگر ممالک کے پاس عملی طور پر بہت کم آپشنز رہ جاتے ہیں اور انڈیا کے پاس دباؤ ڈالنے کے کئی طریقے موجود ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ایشیا کی مشترکہ ٹیمیں وجود رکھتی تھیں اور سچن ٹندولکر اور وسیم اکرم ایک ہی جرسی میں ایک ہی ٹیم کے لیے کھیلتے نظر آتے تھے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو یہ سب کسی اور دنیا کی کہانی لگتا ہے۔ وہ خطہ جو کبھی ایک یونٹ کی طرح چلتا تھا، اب واضح طور پر بکھر چکا ہے۔ کچھ ٹیموں کو باہر کرنے اور مقابلوں کو سیاسی رنگ دینے کی ضد نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نہ صرف بنگلہ دیش اور افغانستان بلکہ کئی اور ابھرتی ہوئی ٹیمیں بھی اس سیاست سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں شفاف فیصلوں کے بجائے مبہم ہدایات اور غیر اعلانیہ سیاسی اشارے سامنے آ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مضبوط اور آزاد قیادت درکار ہے، جو اس وقت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن بہتری کی امید اس لیے باقی ہے کہ کرکٹ لوگوں کے لیے اب بھی بہت اہم ہے اور اسے آسانی سے چھوڑا نہیں جا سکتا۔

Back to top button