مقبولیت کے بیانیے کی غلامی نے عمران خان کو کیسے برباد کیا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ جسطرح ذوالفقار علی بھٹو کا کشمیر پر ایک ہزار سال تک جنگ کا بیانیہ دراصل ایک جذباتی نعرہ تھا، اسی طرح عمران خان کے تبدیلی اور انقلاب کے بیانیے کا بھی حقیقت پسندی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن بھٹو اور عمران میں یہ فرق ہے کہ عمران اپنے بیانیے کے غلام بن چکے ہیں اور مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگ اور تشدد سے انقلاب لانا چاہتے ہیں جو عملیت پسندی اور حقیقت پسندی کے اعتبار سے دور دور تک ممکن نظر نہیں آتا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ انسان بھی بڑا عجیب ہے، اپنے ہاتھوں سے خود ہی بت تراشتا ہے اور پھر اسی بت کو خدا بنا کر پوجنا شروع کر دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال بیانیےکا بھی ہے انسان خود ہی بیانیے کو تشکیل دیتا ہے اور پھر خود ہی، پہلے اپنے تشکیل کردہ بیانیےکے جال میں پھنستا اور اسی بیانیےکا غلام بن جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر قانون اور تعلیم عبدالحفیظ پیرزادہ نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں بیانیےکے تضاد کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زوال کی اصل وجہ ان کا بیانیہ ’’ہم بھارت سے ہزار سال تک جنگ کریں گے‘‘ تھا۔
حفیظ پیرزادہ کا خیال تھا کہ اس بیانیےکی وجہ سے پیپلز پارٹی 1970 کا الیکشن جیتی تھی۔ یہ بیانیہ دراصل حقیقت پسندانہ تو تھا نہیں محض ایک جذباتی نعرہ تھا۔ جب بھٹو وزیر اعظم بنے تو انہیں عملیت پسند اور حقیقت پسند بننا پڑا۔ ہزاروں پاکستانی بھارتی جیلوں میں تھے، سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل پاکستانی رقبہ بھارت کے تسلط میں تھا، ایسے میں بھٹو کو اپنے جذباتی بیانیے کے خلاف جا کر شملہ معاہدہ کرنا پڑا، جس سے پاکستانی قیدی بھی رہا ہو گئے اور پاکستان کا رقبہ بھی واگزار ہو گیا، لیکن اس معاہدے نے بھٹو کے قول و فعل میں تضاد کو واضح کر دیا اور بقول حفیظ پیرزادہ یہ وہ تضاد تھا جو بالآخر بھٹو کے زوال کا باعث بنا۔ یاد رہے کہ دائیں بازو اور مقتدر طاقتوں نے شملہ معاہدے پر بھٹو کو کبھی معاف نہ کیا حالانکہ اس کے نتیجے میں ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے والے ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں کو رہائی ملی تھی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کے حالات دیکھ لیں۔ پھر بیانیوں کی جنگ چل رہی ہے۔ فوجی قیادت امید اور خوشحالی کا بیانیہ بنانے کی کوشش میں ہے جبکہ عمران خان تبدیلی اور انقلاب کے دلکش اور دلفریب بیانیے کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ جس طرح بھٹو کا ہزار سال تک جنگ کا بیانیہ جذباتی تھا بالکل اسی طرح عمران خان کا انقلاب کا بیانیہ بھی جذباتی ہے۔ اس کا حقیقت پسندی اور عملیت پسندی سے کوئی تعلق نہیں، جذبات کے ہوائی گھوڑے پر سوار عمران خان کو مشکل مرحلے کا سامنا ہے، وہ انقلاب کے راستے پر چلتے ہیں تو ہر طرف کانٹے ہیں، ڈیل کرتے ہیں تو بھٹو جیسے تضاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بھٹو تو شملہ معاہدہ کر کے بھی 5 سال برسر اقتدار رہ گئے۔ عمران خان اور انکی جماعت کا خیال ہے کہ ڈیل سے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچے گا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ دراصل عمران خان اور انکے شدت پسند حامی اپنے انتہا پسندانہ بیانیے کے غلام بن چکے ہیں۔ بھٹو نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے بیانیے کو خود روندا وہ مقبولیت پسندی کا غلام نہیں بنا۔ عمران خان کو کسی اور نے نہیں ان کے اپنے ہی وضع کردہ بیانیے نے غلام بنا رکھا ہے، ان کے حامی یوٹیوبرز انہیں جیل سے نکلنے نہیں دیں گے کیونکہ وہ تو ہر صورت میں جنگ اور تشدد سے انقلاب لانا چاہتے ہیں جو عملیت پسندی اور حقیقت پسندی کے اعتبار سے دور دور تک ممکن نظر نہیں آتا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کا المیہ بھی اسکے ماضی کے بیانیےاور حال کے عمل میں واضح تضاد کا ہے، ووٹ کو عزت دو کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بنا کر جب آپ کوئی معقول وجہ بیان کئے بغیر اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حامی بن جاتے ہیں تو پھر ووٹرز اس تضاد بیانی کو ہضم نہیں کر پاتے۔ نون کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ایک طرف اسکی جانب سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوائی قلعہ تعمیر کیا گیا اور پھر خود ہی اس قلعے کو مسمار کرکے حکومت میں بیٹھ گئے۔ نون لیگی قیادت کی بڑی غلطی طویل خاموشی اپنانا اور فوج کے ساتھ کھڑے ہو جانے کی معقول وجہ بیان نہ کرنا ہے۔ بھٹو نے شملہ معاہدے کے باوجود اپنی مقبولیت قائم رکھنے کیلئے شملہ معاہدے میں بھارت سے جیتنے کا تاثر دیا، بار بار کہا جاتا رہا کہ بھٹو نے شملہ مذاکرات کے ذریعے 90 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے، ہزاروں ایکڑ اراضی واپس لے لی۔ چنانچہ بھارت کو جنگ کی بجائے مذاکرات کی میز پر شکست دینے کا بیانیہ تراشا گیا، جو چاہے افسانوی تھا مگر اس بیانیے کے سبب بھٹو کی عوامی مقبولیت برقرار رہی۔
سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ نواز شریف بھی اسی طرح کا معقول اور مقبول بیانیہ اپنا کر اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکتے تھے، وہ یہ بیانیہ بنا سکتے تھے کہ ’’وہ جس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے وہ بدل گئی ہے‘‘ مگر انہوں نے تو کبھی اس موضوع پر اظہار خیال ہی نہیں کیا اور نہ ہی یہ مناسب سمجھا کہ اپنے ووٹرز کے سامنے اپنے بدلتے بیانیےکی وضاحت کریں۔ دراصل تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیانیےکی غلامی کے نتائج بڑے عجیب وغریب نکلتے ہیں۔ ہٹلر کا، جرمن سپرمیسی اور ناقابل شکست ہونے کا بیانیہ اسے مقبولیت کے عروج پر لے گیا۔ آخری ریفرنڈم میں اسے جرمن قوم نے 99 فیصد ووٹ دیئے۔ ہٹلر نے یورپ کو فتح کرنا شروع کیا تو اس کا بیانیہ مزید پاپولر ہو گیا، دشمن ملک برطانیہ میں بھی ہٹلر کے حامی پیدا ہو گئے، مگر جب جرمن فوجوں کو پے درپے شکست ہونے لگی تو ہٹلر کا جنون ٹوٹ گیا اور وہ خود بھی اپنے بیانیےکی شکست فاش برداشت نہ کر سکا اور اپنے بنکر میں اپنی محبوبہ سمیت خودکشی کر لی۔
سہیل وڑائچ کے بقول پیپلز پارٹی کا کبھی سنٹرل پنجاب میں راج ہوتا تھا، اس کا 1977ء کے بعد کا بیانیہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو کی کرشمہ سازی پر مبنی تھا۔ پھر یہ تبدیل ہو کر اینٹی نواز شریف ہو گیا۔ پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے مراسم بڑھائے تو ووٹر نے یہ جھٹکا برداشت کر لیا۔ مگر جونہی نواز شریف اور بے نظیر نے میثاق جمہوریت کیا اینٹی نون لیگ ووٹر بیانیےکے تضاد کو برداشت نہ کر سکا اور اب سنٹرل پنجاب میں سوائے پرانے جیالوں کےعوامی ووٹ بینک غائب ہو چکا ہے۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ سب سے دلچسپ کہانی اے این پی کے بیانیےکی ہے۔ خدائی خدمت گار کے نام سے شروع ہونے والی اس تحریک نے بعد ازاں پختون قومیت کا بیانیہ اپنا لیا۔ اس بیانیےمیں دو نمایاں ایشوز کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنا تھا۔ خوشگوار حادثہ یہ ہوا کہ اے این پی کے یہ دونوں مطالبات منظور ہو گئے۔ صوبے کا نام تبدیل ہو گیا اور کالا باغ ڈیم کھٹائی میں پڑ گیا۔ بظاہر ان کامیابیوں سے اے این پی کو سیاسی اجارہ داری مل جانی چاہئے تھی مگر ہوا اس کے برعکس، یعنی نعرے اپنی دلکشی کھو بیٹھے، حالانکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں اے این پی کی قیادت نے دیں مگر پرانے بیانیےکی غلامی نے اسے آئسولیٹ کر دیا اور اب اس کا ووٹ بینک کم ہو چکا ہے۔
شیر افضل کو پارٹی سے نکالنے پر PTI تقسیم کا شکار ہو گئی
سہیل وڑائچ کے بقول، بیانیے جتنے تخیل پسند ہوں، جتنے جذباتی ہوں یا جتنے انتہا پسندانہ ہوں، ان کا انجام بھی اتنا ہی خوفناک ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کافی حقیقت پسند ہے مگر وہ بھی بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے، زور زبردستی اور تشدد سے ریاست کا تختہ کسی صورت نہیں الٹا جا سکتا۔ فوج کے پاس طاقت کے استعمال کا آئینی اور قانونی جواز موجود ہے جبکہ سیاسی کارکنوں کے پاس صرف اور صرف قربانیاں دینے کا حربہ موجود ہوتا ہے۔ گاندھی، حسرت موہانی یا نوابزادہ نصراللہ خان جیل میں بند خاموش مزاحمت سے حکومتوں کو شرمسار کر دیا کرتے تھے۔ تحریک انصاف کے پاس بھی یہ راستہ موجود ہے، تشدد سے مزید تشدد جنم لیتا ہے قربانیاں اور عدم تشدد، مخالفوں کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ راستے دونوں دستئاب ہیں مگر سیاست کیلئے سوائے پرامن مزاحمت کے دوسرا راستہ اپنانا خطرناک ہے۔
