چینی چیٹ ایپلیکیشن پاکستان کی وجہ سے سستی کیسے تیار ہو گئی

ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کو شکست دینے والی چینی چیٹ ایپلیکیشن "ڈیپ سیک” Deep Seek کے بارے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کی تیاری میں پاکستان سے خام مال کی صورت میں منگوائی گئی سیلیکا سینڈ Silica Sand استعمال ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے چینی چیٹ ایپلیکیشن کی قیمت امریکی چیٹ ایپلیکیشن کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
یاد ریے کہ دنیا اس وقت چینی کمپنی کی جانب سے تیار کی جانے والے چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کی کم لاگت میں تیاری کی داستان پر ورطۂ حیرت میں ہے۔ یہ حیرت اس وجہ سے بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والی مائیکرو چِپ صرف امریکہ کی ایک کمپنی اے ایم ڈی تیار کر رہی تھی۔ تاہم ایک چینی کاروباری شخصیت لیانگ فینگ نے کم لاگت سے پرانی سستی چپس استعمال کر کے چیٹ جی پی ٹی کے متبادل لینگوئج ماڈل کھڑا دیا۔ واضح رہے کہ امریکہ نے چین کو مصنوعی ذہانت میں استعمال ہونے والی سیمی کنڈکٹر مائیکرو چپس کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سینکڑوں اقسام کی سیمی کنڈکٹر مائیکرو چِپس بن چکی ہیں جو ہر طرح کے الیکٹرونکس میں استعمال ہو رہی ہیں۔ تاہم ان کی سب سے طاقت ور قسم سپر کمپیوٹرز میں استعمال ہو رہی ہے جس سے مصنوعی ذہانت کی تخلیق عمل میں آئی۔چین کی ڈیپ سیک ٹیکنالوجی کے منظرِعام پر آنے کے بعد یہ بات زیرِبحث ہے کہ آخر چینی کمپنی نے اتنی سستی مائیکرو چپس تیار کیسے کیں۔ اس بارے میں انٹرنیٹ پر کئی متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سیمی کنڈکٹر چِپ میں استعمال ہونے والی سیلیکا سینڈ خام مال کی صورت میں پاکستان سے درآمد کی گئی جو چین کو انتہائی کم قیمت پر بیچی گئی۔
امریکہ اور چین دونوں میں سیمی کنڈکٹر چپ بنانے کے لیے سیلیکا سینڈ نامی ایک مرکب استعمال ہوتا ہے جو نایاب قدرتی معدنیات میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل قائم ہونے والی سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں سیلیکا سینڈ کے ذخائر چاروں صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں میانوالی جبکہ خیبر پختوخوا میں لکی مروت اسی طرح سندھ میں دادو اور بلوچستان میں کوئٹہ، ژوب اور لورالائی میں اس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ پنجاب کی وزارت معدنیات کے مطابق صرف میانوالی کے نزدیک ڈیڑھ ہزار ایکڑ پر سیلیکا سینڈ موجود ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2023 اور 2024 میں پاکستان نے سب سے زیادہ سیلیکا سینڈ چین کو برآمد کی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں تین کروڑ کلو سیلیکا صرف چین کو برآمد کی گئی۔ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات جبکہ تیسرے نمبر پر کوریا برآمدگان ممالک میں شامل ہیں۔
سیلیکا سینڈ سیمی کنڈکٹر چپ کے علاوہ شیشہ بنانے سمیت کئی اور طرح کی مصنوعات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ترجمان محکمہ معدنیات کا کہنا ہے کہ سیلیکا سینڈ کا سب سے بڑا خریدار چین ہے۔ لہازا چین مائیکروچپ بنانے کے لیے پاکستانی خام مال استعمال کر رہا ہے۔
سیمی کنڈکٹر چپ کے ماہر ڈاکٹر نوید شیروانی کہتے ہیں کہ سیلیکا سینڈ ایک خام مال ہے، پاکستان اس کو ریفائن کرنے کے بعد اسکے ویفلز بنا کر بیچتا ہے جسے کئی ملک خریدتے ہیں۔ لیکن چین اسے سب سے زیادہ خریدتا ہے کیونکہ چین میں انڈسٹری بہت زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت دنیا جس جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے وہ فائیو جی اور مصنوعی ذہانت کے نظام کو سب سے اپنے ملک میں نافذ کرنے کی جنگ ہے۔ جس ملک نے بھی یہ مقام حاصل کر لیا، اگلی سپر پاور وہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ایجادات نے امریکہ میں ہلچل مچا دی یے۔
