حکومت نے جنرل ڈائر بن کر بجلی صارفین پر سیدھا فائر کیسے کھولا ؟

 

 

 

 

بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یرغمالی صارفین نے حکومت کی منشا سے فرار ہونے کی جو کوشش کی تھی، حکومت نے اسے سولر پالیسی تبدیل کرتے ہوئے خود ہی ناکام بنا دیا ہے اور عوام کو دوبارہ اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے سولر پینل لوگوں نے خفیہ طور پر نہیں لگائے تھے، بلکہ حکومت کے اصرار پر اسکے ساتھ ایک معاہدے کے تحت لگائے تھے۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصول کی بات یہ ہے کہ حکومت نے عوام کے ساتھ لین دین کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ لیکن حکومت نے ایک بے اصول کاروباری شخص کا کردار ادا کرتے ہوئے اس معاہدے کو یک طرفہ ہی توڑنے کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ اسے اپنے پارٹنر کا سستی بجلی سے فائدہ اٹھانا ہضم نہیں ہوا۔ انکے مطابق فیصلہ سازوں میں سے شاید کبھی کسی نے قسطوں پر سولر سسٹم نہیں لگایا ہو گا، مگر فیصلہ سازوں میں وہ لوگ یقیناً شامل ہیں جن کے اپنے بجلی گھر ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ پاکستان میں فیصلہ سازوں اور عوام کے مفادات باہم متصادم ہو چکے ہیں۔

 

حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی جنرل ڈائر کی طرح عوام پر سیدھا فائر کھولنے کے مترادف ہے، ایک فقرے میں پالیسی سن لیں۔ جن شہریوں نے سولر پینل لگائے ہوئے ہیں اور نیٹ میٹرنگ کے نظام میں شامل ہیں انہیں اب بجلی کا پورا بِل آئے گا، جو یونٹ صارف حکومت کو پیدا کر کے بیچے گا وہ ’بعد میں بل کی مد میں ایڈجسٹ کر لیے جائینگے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، اب حکومت صارف کو یونٹ کے بدلے یونٹ نہیں دے گی بلکہ بجلی کا ایک یونٹ 10 روپے میں خریدے گی، اور پھر صارف کو وہی یونٹ لگ بھگ 50 روپے میں بیچے گی۔ سادہ لفظوں میں حکومت اور عوام کے درمیان جو معاہدہ حکومت کی منشا پر ہوا تھا تاکہ سستی بجلی پیدا کی جا سکے، اب حکومت اس سے مکر گئی ہے۔ جو جو شرائط عوام کے حق میں تھیں انہیں نئی پالیسی میں نکال دیا گیا ہے۔ عوام نے کروڑوں روپے خرچ کر زندہ رہنے کی جو کوشش کی تھی حکومت نے بہ یک جنبشِ قلم وہ مذموم کوشش ناکام بنا دی ہے۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ریاست اور شہری کا تعلق باہمی مفاد پر مبنی ہوتا ہے، شہریوں کی خوش حالی ریاست کی کام یابی قرار پاتی ہے، اور ریاست کی مستحکم معیشت شہریوں کی پُرسہولت اور باوقار زندگی کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ تعلق بگڑ چکا ہے۔ حکومتیں سمجھتی ہیں کہ جس جس چیز میں عوام کا فائدہ ہے اُس کا حکومت کو براہِ راست نقصان ہوتا ہے، اسے زیرو سم گیم کہا جاتا ہے، یعنی ایک فریق کے فائدے کا نتیجہ دوسرے فریق کا نقصان ہے۔ مثلاً، عوام کیلئے دو سب سے بڑے مسئلے پٹرول اور بجلی کی قیمتیں ہیں، ان دونوں چیزوں کی قیمتیں حکومت مقرر کرتی ہے، ان پر ٹیکس حکومت کی آمدن کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ حکومت کسی صورت اپنے گاہک آزاد نہیں کرنا چاہتی۔ اسی اصول کی روشنی میں ان شعبوں کی پالیسیاں بنتی ہیں جو عوام کے مفادات سے براہِ راست متصادم ہیں۔ حکومت الیکٹرک بسیں چلا کر داد تو سمیٹنا چاہتی ہے، لیکن پچھلے پانچ سال سے الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ابہام پیدا کرتی رہی ہے۔ آج بھی سرکار کی پالیسی کے تحت بینک الیکٹرک گاڑیوں کیلئے تیس لاکھ روپے سے زیادہ قرض کی سہولت نہیں دیتے۔

 

انکے مطابق بجلی کا کیس اس سے بھی بگڑا ہوا ہے۔ چند سال پہلے جب بجلی کا بل ہوش ربا ہو گیا اور آبادی کے ایک بڑے حصےکیلئے وبالِ جان بن گیا تو حکومت نے عوامی غیظ و غضب سے بچنے کیلئے سولر پینلز لگانے کی حوصلہ افزائی شروع کی۔ عوام نے، بالخصوص متوسط طبقے نے، بجلی بلوں کے عفریت سے بچنے کیلئے اپنے سولر سسٹم لگانے شروع کیے، ہمارے جیسوں نے کوئی چیز بیچ کر یا ماہانہ قسطوں پر ان سولر پینلز کا انتظام کیا، کیوں کہ اس کے سوا زندہ رہنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا، اُس وقت دو ہی راستے تھے، سولر پینلز یا ہجرت۔ لیکن اب حکومت کو یک دم یاد آیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کیساتھ معاہدوں میں ایک شق کپیسٹی چارجز کی بھی ہے، یعنی بجلی گھر کی کل پیداواری صلاحیت کے 60 فی صد کی رقم تو ہر حال میں ادا کرنی ہی ہے، چاہے بجلی لو یا نہ لو۔ اور دوسری طرف سولر سسٹم اتنے لگ گئے ہیں کہ حکومت کی بجلی کی بکری بہت کم ہو گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کو ادائی نہیں کر پا رہی۔

 

چونکہ حکومت طاقتور بجلی گھر مالکان کے ساتھ کیے گئے 10 سے 20 برس کے مقدس معاہدے توڑ نہیں سکتی اس لیے اس نے یہ موزوں سمجھا کہ عوام سے کیا گیا ناپاک سولر معاہدہ توڑ دے۔ حکومت کو خوف یہ ہے کہ اگر اس نے بجلی گھروں سے معاہدہ توڑا تو وہ اسے عالمی عدالتوں میں لے جائینگے، لیکن اگر عوام سے معاہدہ توڑا تو ان کی یہاں کون سنے گا، عوام بڑی حد جھولیاں اٹھا کر حکومت کو بد دعا دے لیں گے، تو دیتے رہیں۔ حماد کے مطابق حکومتی فیصلہ سازوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے نئی سولر پالیسی عوام کے مفاد کے لیے اور سفید پوشوں کی فلاح کیلئے بنائی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ پیسے والے لوگ تو نیٹ میٹرنگ نظام پر مکمل انحصار ہی نہیں کرتے، وہ تو بیٹریاں لگا کر قریباً خود کفیل ہو چکے ہیں، اس پالیسی کا اصل شکار تو سفید پوش طبقات ہوں گے، جو مہنگے داموں پر لیتھیم بیٹریاں نہیں خرید سکتے۔ اب سفید پوش کیا کریں؟ کیا وہ اپنی کوئی اور چیز بیچیں اور بیٹریاں خریدیں؟ وجہ یہ ہے کہ نئی پالیسی کے بعد عوام بجلی کے قاتلانہ بل ادا ہی نہیں کر سکتے۔

حکومت نے سولر استعمال نہ کرنے والوں کو بھی بڑا جھٹکا لگا دیا

عوام اب سرکار سے ہٹ کر اپنا بجلی کا نظام بنانے کی کوشش کریں گے۔ عوام پہلے ہی سرکار سے تعلق رکھنے میں ہچکچاتے ہیں، جہاں جہاں سرکار سے تعلق ناگزیر ہے، لوگ پِس رہے ہیں، پٹوار خانے سے پولیس سٹیشن تک یہی عالم ہے، سرکاری سکولوں سے سرکاری ہسپتالوں تک یہی حالت ہے۔ بجلی کے بلوں کے یرغمالیوں نے فرار کی ایک کوشش کی تھی، انہیں پھر شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہے۔ اور سولر پینل لوگوں نے خفیہ طور پر نہیں لگائے تھے، حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت لگائے تھے۔ یہ عوام اور حکومت میں لین دین کا ایک معاہدہ تھا۔ آپ ایسے کاروباری کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں جو اپنے پارٹنر کا فائدہ ہوتا دیکھ کر یک طرفہ طور پر معاہدہ ہی توڑ دے؟ کیا آپ ایسے بے اصول کاروباری کے ساتھ آئندہ کاروبار کرنا چاہیں گے؟

 

Back to top button