ایران کے لیے پاکستان کی ثالثی پر یوتھیا بریگیڈ کو تکلیف

پی ٹی آئی کی یوتھیا بریگیڈ نے ملکی مفادات کے حوالے سے عوامی سوچ کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور سیاسی اختلافات کو ملک دشمن بیانیے میں تبدیل کر دیا ہے۔ عمرانڈو ہر خبر کو عمران خان کے ساتھ اپنی اندھی وابستگی کے تناظر میں پرکھتے دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قومی مفاد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی مثبت خبر آئے یا کوئی بڑی کامیابی حاصل ہو، تو یہ لوگ خوش ہونے کے بجائے اس میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں، اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں یا متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر جب ملک کسی مشکل یا بحران کا شکار ہوتا ہے تو بھی ان کا ردعمل ہمدردی یا قومی یکجہتی کا نہیں بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ اس نقصان پر مطمئن ہوں یا اسے اپنے سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہوں۔ یہ طرزِ عمل محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ کھلی ذہنی پستی اور انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہی رویہ مختلف قومی اور بین الاقوامی معاملات میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آئیں یا عالمی سطح پر ملک کے کردار کو سراہا جائے، تو یہ عناصر اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کی نفی میں جُت جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کبھی ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہو تو بعض حلقوں کی جانب سے ڈیفالٹ جیسی خطرناک صورتحال کی خواہش بھی ظاہر کی جاتی ہے، جو کسی بھی محبِ وطن کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ اسی طرح قومی سلامتی کے معاملات میں بھی یہ ذہنیت تشویشناک حد تک سامنے آتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر پاکستان کو کسی بیرونی خطرے کا سامنا ہو، یا خطے میں کشیدگی بڑھے، تو ایسے موقع پر قومی یکجہتی کے بجائے اپنی ہی ریاستی پالیسیوں اور اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے والے بیانات بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جو محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خارجہ محاذ پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ اگر پاکستان کسی اہم سفارتی پیش رفت کا حصہ بنے، یا علاقائی و عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرے، تو اس پر بھی خوش ہونے کے بجائے بعض حلقے اس لیے ناخوش دکھائی دیتے ہیں کہ اس کا کریڈٹ موجودہ قیادت کو نہ مل جائے۔ یہ طرزِ فکر اس حد تک جا پہنچا ہے کہ قومی مفاد کو بھی سیاسی مخالفت کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رویہ صرف بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عملی سیاست اور عوامی نفسیات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلسل منفی پراپیگنڈے اور ہر مثبت پیش رفت کی تردید نے ایک ایسے بیانیے کو جنم دیا ہے جہاں سچ اور جھوٹ کی تمیز دھندلا چکی ہے، اسی وجہ سے عمرانڈوز کو ملک میں ہر وہ چیز قابلِ قبول ہے جو ان کے سیاسی مؤقف کو تقویت دے، چاہے وہ قومی مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
PTI کی احتجاجی تحریک، آغاز سے پہلے ہی انجام کو پہنچ گئی
ناقدین کے مطابق یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سیاسی اختلاف اس حد تک کیسے گر سکتا ہے کہ قومی مفاد، حب الوطنی اور اجتماعی شناخت سب کچھ قربان کر دیا جائے؟ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ یہ رویہ کسی صحت مند معاشرے کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسے فکری زوال کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ذاتی سیاسی وابستگیاں ملک سے بھی اوپر آ چکی ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف حقیقت سے کٹے ہوئے ہیں بلکہ دانستہ طور پر قومی بیانیے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں سیاسی اختلاف ایک فطری عمل ہوتا ہے، مگر جب یہ اختلاف نفرت، تعصب اور ریاستی مفادات سے انحراف میں بدل جائے تو یہ خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان اس وقت اسی چیلنج سے دوچار ہے، جہاں پی ٹی آئی کی یوتھیا بریگیڈ کا ایک مخصوص سیاسی بیانیہ قومی وحدت اور اجتماعی سوچ کو کمزور کر رہا ہے۔اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے قومی سلامتی، معیشت اور عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی معاملات کو ذاتی یا جماعتی عینک سے دیکھنے کے بجائے ایک وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں پرکھا جائے، بصورتِ دیگر یہ فکری انتشار مستقبل میں مزید بڑے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
