گمشدہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی FIR کانیاسسٹم کیاہے؟

تھانوں کے چکر پے چکر لگا کر اپنے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر اہم دستاویزات کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانی کی خواری ختم ہو گئی، پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں اپنے قیمتی دستاویزات کی گمشدگی کی آن لائن ایف آئی آر درج کروانے کی جدید سہولت متعارف کروا دی۔ اب پنجاب کا کوئی بھی شہری پنجاب پولیس پاکستان ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنے قیمتی کاغذات کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کے اس اقدام سے جہاں تھانوں پر بوجھ کم ہوگا وہیں وقت، محنت اور اخراجات تینوں کی بچت بھی ممکن ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرکاری خدمات کو آن لائن منتقل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر پنجاب حکومت نے شہریوں کو تھانوں کے چکروں اور خواری سے بچانے کیلئے پنجاب پولیس پاکستان ایپ تیار کر لی ہے، جس کے بعد اب اب شہری نہ صرف موبائل فون کے ذریعے ضروری دستاویزات کی گمشدگی کی رپورٹ اپنے گھر سے ہی درج کرا سکیں گے۔ بلکہ اس کے بعد ان کی درج کروائی گئی یہ ایف آئی آر انھیں گھر بیٹھے ہی موصول بھی ہو جائے گی۔ یوں شہریوں کو تھانے یا خدمت مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

حکام کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے شہری پہلے پنجاب پولیس پاکستان ایپ کو پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل نمبر اور پاس ورڈ کے ذریعے لاگ اِن کر سکتے ہیں۔ لاگ اِن کے بعد ایپ میں موجود ’رپورٹ‘ کے آپشن کو منتخب کر کے گم شدہ دستاویزات کی مکمل تفصیلات درج کی جاتی ہیں، جس کے بعد رپورٹ آسانی سے جمع کروائی جا سکتی ہے۔ رپورٹ جمع ہونے کے بعد اس کی کاپی شہری کو گھر بیٹھے موصول ہو جاتی ہے جبکہ تمام ریکارڈ بھی آن لائن محفوظ رہتا ہے۔ اس طرح ایپ کے ذریعے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شہریوں کو نہ تو تھانے کے چکر لگانے کی ضرورت رہتی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری دفتر جانے کی، جس سے وقت، پیسہ اور محنت تینوں کی نمایاں بچت ممکن ہو گئی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر اہم دستاویزات کی گمشدگی کی رپورٹ گھر بیٹھے درج کرانے کے لیے موبائل ایپ کا اجرا ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ای-گورننس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اسی لئے شہریوں کو تھانوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگانے سے بچانا، وقت اور وسائل کی بچت کرنا، اور شفافیت کو فروغ دینا اس ایپ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ اب کوئی بھی شہری محض اپنے موبائل فون کے ذریعے گمشدہ دستاویزات کی رپورٹ درج کرا سکتا ہے اور اس کی کاپی گھر بیٹھے وصول بھی کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام عوامی سہولت کے حوالے سے ایک “گیم چینجر” ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی ایپس نہ صرف گورننس کو مؤثر بناتی ہیں بلکہ کرپشن کے امکانات کو بھی کم کرتی ہیں کیونکہ براہِ راست انسانی رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے نئے دور کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا مستقبل تاریک کیوں ہونے لگا؟

دوسری جانب سماجی و قانونی مبصرین اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کچھ تحفظات بھی ظاہر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ تک محدود رسائی، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی اور سائبر سیکیورٹی جیسے مسائل اس نظام کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ایپ کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی چلائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔دوسری جانب سائبر سیکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ حساس نوعیت کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط سائبر سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ شہریوں کی ذاتی معلومات کا تحفظ سب سے اہم پہلو ہے۔ اگر اس پر مناسب توجہ نہ دی گئی تو یہ سہولت خود ایک خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

Back to top button