ٹرمپ کا ایران میں کٹھ پتلی حکومت لانے کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

اگر تو امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کا مقصد وہاں رجیم چینج کرنا اور اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت لانا تھا تو ایران کی جانب سے ناقابل یقین مزاحمت کی وجہ سے وہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر یلغار کا اصل مقصد سمجھنے کے لیے تاریخی تناظر دیکھنا ضروری ہے۔ بلال غوری کے مطابق خطے میں امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی ہمیشہ سے ‘ہیڈ ٹرانسپلانٹ’، یعنی ناپسندیدہ حکمران کو ہٹا کر من پسند شخص کو برسراقتدار لانے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق میں 1958 کی فوجی بغاوت بھی اسی حکمت عملی کی ایک مثال تھی۔ اس بغاوت میں میجر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف نے بغیر کسی مزاحمت کے بغداد پر قبضہ کر لیا اور شاہی خاندان کے افراد سمیت متعدد اہم شخصیات کو قتل کر دیا۔

بلال غوری کے مطابق یہ فوجی انقلاب امریکی اور برطانوی حکمت عملی کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے، کیونکہ بغداد کی بغاوت کے بعد وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں خطے میں امریکی مفادات کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔ اس دوران امریکہ نے پاکستان کو ایک کلیدی فوجی اتحادی کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور افواج پاکستان کی تربیت اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے اس تاریخی واقعے کو موجودہ ایران کی صورتحال کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملے کی اصل وجہ نیوکلیئر پروگرام یا انسانی حقوق نہیں بلکہ ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قابض ہونا تھی۔ بلال غوری کے مطابق ایران نے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ کو جنیوا میں یورینیم کی ڈی گریڈیشن کی پیشکش کر دی تھی، مگر امریکہ نے فوری حملہ کر کے اپنی فوجی اور اقتصادی حکمت عملی کو نافذ کیا۔

بلال غوری کا کہنا ہے کہ ایران پر یلغار ایک ‘ہیڈ ٹرانسپلانٹ’ کے منصوبے کے تحت کی گئی، لیکن ایران میں رجیم چینج کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کے مطابق، وہ ایران میں من پسند حکومت قائم کر کے خطے میں اپنی اجارہ داری بڑھانا چاہتے تھے، مگر ایرانی سیاسی نظام اور عوامی مزاحمت نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ناقابل یقین مزاحمت کی گئی ہے جس پر اسرائیل اور امریکہ بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایران کی سٹرٹیجک پوزیشن اور اس کے وسائل نے اسے عالمی طاقتوں کے لیے ایک نازک اور پیچیدہ ہدف بنا دیا ہے۔ ایران کا خطہ، خاص طور پر خلیج فارس، دنیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز ہے اور اس پر امریکی و اسرائیلی قبضہ اقتصادی اور فوجی اثرات کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر یلغار نے خطے میں موجود دیگر عرب ملکوں کی سکیورٹی اور سیاسی حکمت عملی پر بھی اثر ڈالا ہے۔ عرب ممالک میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کی حفاظت کے لیے امریکہ نے متعدد فوجی اڈے قائم کیے، تاہم یہ واضح ہے کہ اصل مقصد ایران کے وسائل پر کنٹرول تھا نہ کہ عرب ملکوں کی حفاظت۔ غوری نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکمت عملی ہمیشہ سے خطے میں کسی بھی ملک میں منتخب یا موروثی حکومت کو ہٹانے اور اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت لانے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ عراق، پاکستان اور ایران کی مثالیں اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ خطے میں طاقت کا کھیل ہمیشہ وسائل کے گرد گھومتا رہا ہے۔

انہوں نے ایران کے موجودہ سیاسی نظام کو اب بھی مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی رہنما اور عوام نے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری قائم رکھی ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کی رجیم چینج کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ بلال غوری نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطے میں امریکہ اور اسرائیلی فوجی مداخلت کا اصل محرک اقتصادی مفادات، خاص طور پر تیل اور گیس کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا تھا لیکن ایرانی مزاحمت نے ان کے منصوبوں کو زمین بوس کر دیا ہے۔

Back to top button