اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے سے عمران کیسے برباد ہوا؟

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر سوار ہو کر 2018 میں وزیر اعظم بننے والے عمران خان کے زوال کی بڑی وجہ اسی اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہو جانے کو قرار دیا جا رہا ہے جس کے بعد سے حکومتی اتحادی جماعتیں اور اراکین اسمبلی خزاں رسیدہ پتوں کی جھڑ چکے ہیں۔
تاہم خزاں کے اس عمل کا آغاز اکتوبر 2021 میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے پشاور تبادلے سے ہی شروع ہو گیا تھا جسے خان صاحب نے رکوانے کی کافی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے۔ نئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے آتے ہی ادارے کو غیر سیاسی اور نیوٹرل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تا کہ اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کی جا سکے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہوتے ہی اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں اب وہ گھر جا رہے ہیں۔
معروف لکھاری عمار مسعود اپنے تازہ سیاسی تجزے میں کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں سارا فرق نیوٹرل اور نان نیوٹرل کا ہے۔ سب کچھ وہی ہے جو پہلے تھا۔ لیکن اس ایک فرق سے ہمارے سیاسی نظام میں جو تبدیلی ہونے جا رہی ہے وہ بے پناہ ہے۔ اس کو مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ عمار کہتے ہیں کہ ماضی میں عمران خان نے 35 پنکچرز کا فساد کھڑا کیا اور پورے ملک کو اس بات کا یقین دلوایا گیا کہ یہ ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اب خان صاحب کو ایک خط میں لکھ کر دی گئی دھمکی اس دور کا سب سے بڑا مذاق بن چکی ہے۔
ماضی میں باوجود کوشش کے میڈیا عمران خان کی حکومت کی کجیوں اور خامیوں کو پوری طرح رپورٹ نہیں کرسکا۔ اب وہ جنہوں نے ہمیشہ تحریک انصاف کو معتبر دکھانے کے لیے سچ کی قربانی دی وہی لٹھ لے کر حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ماضی میں سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں باوجود اکثریت ہونے کے اپوزیشن کو منہ کی کھانا پڑی اور اب تحریک انصاف کی اکثریت دن دہاڑے اس مصنوعی جماعت کو چھوڑ گئی ہے۔ ماضی میں الیکشن کمیشن کے باہر اکبر ایس بابر فارن فنڈنگ کے فراڈ کی فائلیں لے کر دربدر ہوتے رہے اور اب الیکشن کمیشن سے کسی بھی لمحے اس کا فیصلہ تحریک انصاف کا مستقبل تاریک کرسکتا ہے۔
ماضی میں مہنگائی کی جانب عوام کی توجہ نہیں دلائی جاتی تھی لیکن آج سارا ملک مہنگائی پر احتجاج کرتا نظر آتا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ پہلے کسی بھی الیکشن سے پہلے خفیہ اراکین پارلیمینٹ کو فون کال آجاتی تھیں اور ایک گھنٹے میں نتائج بدل جاتے تھے لیکن اب اتحادیوں کی آنکھیں انتظار میں پتھر ہو گئیں مگر فون کال ہے کہ آہی نہیں رہی۔ پہلے مسلم لیگ قاف کے چوہدری پانچ سیٹوں کے باوجود سارے ملک کی سیاست کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے لیکن اب گجرات کے چوہدری عبرت کا نشان بننے جارہے ہیں اور ان کی تعداد پانچ سیٹوں سے بھی کم ہونے والی ہے۔ پہلے عمران خان وہ لیڈر تھا جو امریکہ سے آنکھ ملا کر بات کرسکتا تھا۔
ٹرمپ تک سے دیر تک بات کرسکتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ پہلے میڈیا پر نواز شریف کا نام لینے سے طوفان آجاتا تھا، آصف زرداری کو چور ڈاکو کہا جاتا تھا، مولانا فضل الرحمان کو بدترین ناموں سے پکارا جاتا تھا اب ان ہی کی پریس کانفرنس لائیو دکھائی جا رہی ہیں، تقاریر بغیر ’بیپ‘ کے نشر کی جارہی ہیں۔ ان کو گیم چینجر بتایا جارہا ہے۔ پہلے لوگوں کو جہازوں میں بٹھا بٹھا کر تحریک انصاف میں شامل کیا جا رہا تھا اور اس کو تاریخی کامیابی بتایا جا رہا تھا، اب لوگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح تحریک انصاف کی شاخ سے جھڑ رہے ہیں اور کوئی روکنے ولا نہیں ہے۔
ماضی میں شہباز شریف کے میثاقِ جمہوریت کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، خان صاحب کو کرپٹ لوگوں کے ساتھ کلام نہ کرنے کا پیغام دیا جا رہا تھا اب سب جماعتوں کو مل کر ملک کی معیشت کے لیے کام کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ ان ہی لوگوں کو جن کا مذاق اُڑتا تھا ان ہی کو معیشت کی بحالی کا ٹاسک دیا جارہا ہے۔ کل وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر صدر علوی کی جانب سے جاری ہونے والے ہر آرڈیننس کو من و عن تسلیم کیا جا رہا تھا۔ نہ کوئی اعتراض کرتا نہ کوئی احتجاج ہوتا۔ اب صدر پاکستان کے آرڈیننس پر بحث ہو رہی ہے۔
خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات، پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری
عمار مسعود کہتے ہیں کہ کل تک کسی کی جرأت نہیں تھی کہ عثمان بزدار کی شان میں کچھ کہے، اب عثمان بزادر کو کھڑے کھڑے نکال دیا گیا ہے۔ کل عمران خان بھائی لوگوں کی آنکھ کا تارا تھا۔ کرپشن کیخلاف جہاد کا استعارہ تھا، نئے پاکستان کا بانی تھا لیکن آج عمران خان کی کرپشن کے کئی کیسز سامنے آرہے ہیں اور وہ چلانے والے کی نظروں میں ہی گر چکا ہے۔
پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے بی آر ٹی تک کے فیصلوں کی تلوار عمران خان کے سر پر لٹک رہی ہے۔ سیاست دانوں کی جدوجہد اپنی جگہ، صحافیوں کی جرأت، وکلا اور سول سوسائٹی کی دلیری اپنی جگہ لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں اصل فرق کل کے جانبداروں نے آج غیر جانبدار ہو کر ڈالا ہے۔
How was Imran ruined by the neutrality of the establishment? | video
