سہیل آفریدی کا استقبال سندھ حکومت کے گلے کیسے پڑ گیا؟

 

 

 

سندھ حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کراچی میں خوش آمدید کہنا، جناح ایئر پورٹ پر اجرک اور ٹوپی پہنانا اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا تب اپنے ہی گلے پڑ گیا جب آفریدی نے الٹا پیپلز پارٹی کا ہی رگڑا نکالنا شروع کر دیا۔ اس صورت حال کے بعد سندھ حکومت کو اپنی اسی فراخ دلی کو فوری طور پر واپس لینا پڑا۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے سرکاری دورے کے شیڈول میں تو مزار قائد سے متصل جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دینے کے علاوہ آخری دن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے سی ایم ہاؤس میں ملاقات بھی شامل تھی۔ لیکن جب وزیراعلی خیبر پختون خواہ نے پیپلز پارٹی کے خلاف بدزبانی شروع کی تو یہ سارا شیڈول لپیٹ دیا گیا۔ وسعت اللہ خان کے مطابق اس دورے کے آغاز پر تبصرہ نگاروں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بعض حلقوں نے شدتِ جذبات میں لاہور میں آفریدی کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک اور سندھ کی روایتی مہمان نوازی کا موازنہ شروع کر دیا۔

 

یہ بیانیہ بھی سامنے آیا کہ تحریک انصاف کی اصل لڑائی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی میزبانی کے ذریعے پیپلز پارٹی نے ایک تیر سے کئی سیاسی شکار کیے ہیں۔ تبصروں میں کہا گیا کہ اس رویے سے مستقبل میں پنجاب میں ن لیگ کے مقابلے پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اجرک کے اس خیرسگالی اقدام سے پیپلز پارٹی نے کراچی کے پشتون اور پنجابی اکثریتی علاقوں کے نوجوان ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی نے اس مثبت طرزِ عمل کے ذریعے فوجی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مزید صوبے بنانے یا این ایف سی ایوارڈ میں رد و بدل سے پہلے دس بار سوچ لیا جائے۔

 

تاہم وسعت اللہ خان کے مطابق اصل اور اہم سوال یہ ہے کہ پھر ایسا کیا ہوا کہ محض 24 گھنٹوں کے اندر لاہور اور کراچی آدابِ میزبانی کے معاملے میں ایک ہی صفحے پر آ گئے۔ وہ  یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا حکومتِ سندھ نے پنجاب سے مختلف رویہ اختیار کرنے کی پیشگی اجازت لی تھی یا خود ہی فراخ دلی کا فیصلہ کر لیا تھا، اور پھر کسی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے وہ فیصلہ فوراً واپس لے لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ رویے میں اچانک پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیچھے دونوں جماعتوں کے اندر موجود وہ بازو سرگرم ہو گئے ہوں جو پہلے ہی بے چین تھے۔ اس کے باوجود اتنا ضرور ہوا کہ سندھ کے وزیرِ بلدیات ناصر شاہ نے سرکاری، سیاسی اور اسٹریٹیجک مجبوریوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے دورے کے تیسرے دن مہمان سے بدمزگی پر معذرت کر لی۔

 

وسعت اللہ خان سوال کرتے ہیں کہ کیا شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی جیسے تجربہ کار وزرا یا فوری ردِعمل دینے والے تبصرہ نگاروں کو پہلے سے یہ نہیں سمجھایا گیا تھا کہ ’ہارڈ سٹیٹ‘ میں ’ہارڈ مال‘ ہی چلتا ہے۔ وسعت اللہ موجودہ ملکی حالات کی مثالیں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب لاہور کی والڈ سٹی اتھارٹی کے ایک سرکاری فنکشن میں کسی غریب قوال اور اس کے ہمنوا موسیقاروں کو ’جیل اڈیالہ قیدی آٹھ سو چار ہووے‘ کی فرمائش گانے پر نقصِ امن، اشتعال انگیزی اور اداروں کی بدنامی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میزبان اتھارٹی کے تین اہلکار غفلت پر معطل ہو جائیں، تو سیاسی ماحول کی نوعیت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں راہوالی کینٹ کے قریب شادی کی تقریب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر اٹھا کر نعرے لگانے والے سات افراد کو امنِ عامہ کے قانون کے تحت 15 دن کے لیے حراست میں لیا جانا بھی اسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسی فضا میں وسعت اللہ سوال اٹھاتے ہیں کہ سندھ حکومت کو آخر فراخ دلی کا کبوتر اڑا کر فوراً نیچے اتارنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔

انکے مطابق اس کے باوجود کچھ حاسد عناصر یہ کہنے سے باز نہیں آ رہے کہ جب واشنگٹن سے بیجنگ اور ریاض سے انقرہ تک پاکستان کی سفارتی کامیابیاں نمایاں ہیں، مرکز اور تین صوبوں میں ہائبرڈ نظام مضبوط ہے، عدلیہ کا قبلہ درست ہو چکا ہے اور تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، تو پھر کسی ایک نعرے، ایک گیت، ایک تصویر، ایک جلسے یا جلوس سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کے بقول جنگل میں بیسیوں آوازیں ہر وقت گونجتی رہتی ہیں اور شیر کے کان ہر آواز پر تھوڑا سا ضرور ہلتے ہیں۔

 

لیکن انکے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ نظام ان تمام حاسدوں کو اچھی طرح پہچانتا ہے اور اسے بخوبی معلوم ہے کہ ’گل اینج ہی اگے ودھدی اے‘۔ ان کے مطابق نظام اس قدر چوکس ہے کہ حزبِ اختلاف کی ریلیوں سے ہٹ کر گزشتہ برس نیپال میں ہونے والے ہنگاموں کی فوٹیجز نشر کرنے کے بارے میں بھی ٹی وی چینلز کو غیر معمولی احتیاط کی ہدایت دی گئی تاکہ دیسی جنریشن زی کے ذہن کسی ’وائرس‘ سے متاثر نہ ہوں۔

 

وسعت اللہ خان کے مطابق اگر کہنے کے لیے کچھ نہ بھی ہو تو سننے کے لیے اب بھی بہت کچھ موجود ہے۔ نصیبو لال کو جب چاہے سنا جا سکتا ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ سیاسی نغموں کے شوقین راحت فتح علی خان کا ’اس دیس کی خوشحالی کے لیے ہمیں تیری بہت ضرورت ہے نواز شریف نواز شریف‘ بھی سن سکتے ہیں، اور ان کے طنز کے مطابق آج کل میاں نواز شریف خود بھی یہی گیت بار بار سن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں جہاں میڈیا عمران خان کا نام لینے کی بجائے انہیں ’بانی پی ٹی آئی‘ یا ’قاسم کے ابا‘ کہہ کر کام چلا رہا ہے، سندھ حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ 9 مئی کے بعد عمران سے متعلق مواد اور بنیان المرصوص آپریشن کے بعد انڈین فلمی گانے نشر کرنا، تعلیمی اداروں اور شادی کی تقریبات میں بجانا اور تھیٹر میں ان پر رقص کرنا پولیس کی مداخلت کے دائرے میں آ چکا ہے۔ اب اس قابلِ دست اندازی لسٹ میں، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بقول، چند فرسٹریٹڈ جماعتوں اور فارغ رہنماؤں پر مشتمل تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان بھی شامل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس اتحاد کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، معاشی بہتری اور بھارت کے خلاف سفارتی کامیابیاں نظر نہیں آتیں اور وہ صرف آئین کی بحالی، بنیادی حقوق اور عدلیہ کے تحفظ کے روایتی نعروں کے ذریعے زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تحریک انصاف کو PPP کی دی گئی عزت راس کیوں نہ آئی؟

وسعت اللہ خان کے بقول ایسے مناظر دیکھ کر ہر محبِ وطن پاکستانی کو حوصلہ ملتا ہے کہ ہارڈ سٹیٹ مسلح دہشت گردوں اور سیاسی چیلنج کرنے والوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسے ماحول میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو سہیل آفریدی کا سرکاری استقبال کرنے اور اسے پروٹوکول دینے کی سوجھی کیسے تھی؟

Back to top button