جھوٹ کا چورن بیچنے والی تحریک انصاف کیسے بے نقاب ہوئی؟

تحریک انصاف مستند جھوٹی ثابت ہو گئی، حکومتی ذمہ داران کے بعد جھوٹی خبروں کیخلاف برسر پیکار عالمی تحقیقاتی ادارے فیک نیوز واچ ڈاگ نے بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا انقلابیوں کو جھوٹا قرار دے دیا۔ جس کے بعدتحریک انصاف کے ویریفائیڈ اکاؤنٹس سے شئیر کردہ معلومات پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے ریاستی اداروں پر مختلف طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے تھے کہیں سیکیورٹی اہلکاروں پر مظاہریں پر گولیاں چلانے کے دعوے کئے جا رہے تھے کہیں غزہ کی تصاویر لگا کر ریاستی اداروں کیخلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا اور جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاج کے دوران 278 پی ٹی آئی کارکنان جان سے جا چکے ہیں تاہم اب عالمی تحقیقاتی ادارے کی سامنے آنے والی رپورٹ نے یوتھیوں کے تمام جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
فیک نیوز واچ ڈاگ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نیشنل اور سوشل میڈیا پر احتجاج کے حوالے سے چلنے والی من گھڑت خبروں نے تباہ کن کردار ادا کیا، بغیر تصدیق کیے معلومات کے پھیلاؤ سے پاکستان کا عالمی سطح پر چہرہ مسخ ہوا۔
فوج نے اگر فیض حمید کو معاف نہیں کیا تو عمران کیسے بچ پائے گا؟
رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ سے منسوب آزاد کشمیر کے شہریوں سے متعلق خود ساختہ لیکن خطرناک بیان زیر گردش رہا، بانی چیئرمین کے مبینہ ویڈیو پیغام سے متعلق بھی جعلی خبریں چلتی رہیں، علی امین اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے متعلق جعلی خبروں نے احتجاج کی شدت کو بڑھایا۔
رپورٹ کے مطابق پمز اور پولی کلینک اسپتال میں سینکڑوں لاشوں کی جعلی خبروں کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے، اسد قیصر کو پی ٹی آئی چئیرمین بنانے سے متعلق جعلی خبریں بھی بطور بریکنگ نیوز نشر اور شئیر ہوئیں، عمران خان کے صاحبزادے سلیمان عیسیٰ خان کے جعلی اکاؤنٹ سے بھی کارکنان کو اکسایا جاتا رہا۔
فیک نیوز واچ ڈاگ نے کہا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کی خبریں بھی بعد ازاں جعلی ثابت ہوئیں، احتجاج کے دوران آرمی اکیڈمیوں سے 600 جوانوں کے استعفے کی خبریں بھی بے بنیاد ثابت ہوئیں، اسد قیصر اور محمود خان اچکزئی پر فائرنگ کی بے بنیاد خبریں بھی چلائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے عمران خان کی صحت سے متعلق بیانات کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے، ڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث گل کی جانب سے دوران پریس کانفرنس پی ٹی آئی احتجاج کی پرانی تصویر چلائی گئی، دوران نماز کنٹینر سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت کی خبر بھی عالمی سطح پر زیر بحث رہی۔
فیک نیوز واچ ڈاگ کے مطابق کنٹینر سے گرنے والے کارکن کے منظر عام پر آنے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات سے موت کی خبریں بھی غلط ثابت ہوئیں، فیک نیوز کی وجہ سے نہ صرف سیکورٹی اداروں بلکہ پی ٹی آئی قیادت کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔رپورٹ کے مطابق فیک نیوز کے متاثرین میں حکومت، سیکورٹی ادارے اور سیاسی جماعتیں سب شامل ہیں، پاکستان میں فیک نیوز کے سدباب کے حوالے سے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر ہونے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب جرمن میڈیا نے بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا انقلابیوں کی جانب سے ڈٰ چوک کی فیک تصویر کی حقیقت بتا دی۔ جرمن میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے شئیر کردہ اکثر تصاویر جعلی نکلیں۔ زیادہ تر تصاویر اے آئی کی مدد سے تیار یا تبدیل کی گئیں اور کچھ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی پیش کیا گیا ہے،جرمن میڈیا رپورٹ کے مطابق جس تصویر میں جناح ایونیو کی شاہراہ کو خون میں لت پت دکھایا گیا ہے وہ دراصل جناح ایونیو ہے ہی نہیں۔ کیونکہ اصلی جناح ایونیو میں ایک چوڑی سڑک ہے جس میں ہر سمت میں دو لینیں موجود ہیں، اور درمیان میں چھوٹے پودے ہیں۔ جبکہ یوتھیوں کی جانب سے شئیر کردہ تصویر حقیقت ست کوسوں دور ہے۔
