ایران پر حملہ کرنے والا ٹرمپ فیس سیونگ پر کیسے مجبور ہوا؟

امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کی صورت میں ایران کے انرجی سسٹم کو تباہ کر دینے کی دھمکی موخر کر کے خود کو فیس سیونگ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی بات کر کے دراصل ایرانی مزاحمت کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی توانائی کا نظام تباہ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد میں پانچ دن کا ’وقفہ‘ تہران کے ساتھ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ کے بعد سامنے آیا، حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات چیت ہوئی ہی نہیں۔
عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے محتاط مگر سخت ردعمل نے امریکہ صدر کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے ابتدائی ردعمل میں واضح کیا کہ اگر اس کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیجی ممالک میں موجود نمکین پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس، توانائی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
بعد ازاں ایران نے اپنی بعض سخت دھمکیوں کو نرم کرتے ہوئے ایک حد تک اخلاقی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کی، خاص طور پر اس تناظر میں کہ شہری پانی کے نظام کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرم تصور ہو سکتا ہے۔ تاہم اس نے واضح کیا کہ اگر اس کی بجلی یا توانائی کے نظام پر حملہ ہوا تو وہ بھی اسی لیول کا جواب دے گا تاکہ خطے میں دفاعی توازن قائم رکھا جا سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے یہ ایک داخلی سیاسی مسئلہ بھی بن چکا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں امریکی عوام پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی دباؤ پہلے ہی موجود ہو۔ اس کشیدگی کی شدت میں اضافہ تب ہوا جب اسرائیل نے ایران کے توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں گیس کے بڑے ذخائر بھی شامل تھے۔ اس حرکت نے نہ صرف ایران کو ردعمل پر مجبور کیا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی غیر مستحکم کر دیا، یہاں تک کہ امریکہ کو خود اپنے اتحادی کو ایسے حملے روکنے کا مشورہ دینا پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال امریکی پالیسی میں واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کے نتائج سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی عسکری طاقت اپنی حدود سے ٹکرائی ہو۔ سال 2003 کے دوران عراق مخالف جنگ میں بھی یہ واضح ہو گیا تھا کہ فوجی برتری سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں دیتی۔ اس جنگ کے نتیجے میں خطے میں بدامنی پھیلی اور داعش جیسے شدت پسند گروہوں کو ابھرنے کا موقع ملا۔ اسی عرصے میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کیا اور ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت خود کو ایک مؤثر قوت کے طور پر منوایا۔ ایران کی حالیہ حکمتِ عملی بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں براہِ راست بڑی جنگ کے بجائے غیر متوازن اور مرحلہ وار ردعمل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس میں محدود مگر علامتی حملے، معاشی دباؤ اور سفارتی سطح پر بیانیہ مضبوط کرنا شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرزِ عمل نے امریکہ کو ایک ایسی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ مکمل جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتا، مگر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے بھی اس کی بطور سپر پاور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کے خلاف مسلسل سخت اقدامات کی دھمکیاں دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ غیر یقینی طرزِ عمل نہ صرف مخالفین کو حکمتِ عملی بنانے کا موقع دیتا ہے بلکہ اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب امریکی فوجی اڈے رکھنے والے خلیجی ممالک اس تنازع میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے بنانے کی اجازت اپنے دفاع کے لیے دی تھی لیکن الٹا انہی اڈوں کی وجہ سے ایران ان پر حملہ آور ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کا انحصار انہی توانائی اور پانی کے سسٹمز پر ہے جنہیں ایران نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسا کرنے کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حملوں کا سامنا کرنے والے تمام خلیجی ممالک ایران کے خلاف جنگ میں کھل کر کسی بڑے تصادم کی حمایت سے گریز کر رہے ہیں۔
ایران جنگ میں بطور ثالث پاکستان کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی اور نفسیاتی سطح پر بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شدید حملوں اور نقصانات کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے کے ٹوٹنے یا اس کے خلاف عوامی بغاوت کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس کے برعکس، ایرانی قوم متحد ہو چکی ہے اور ایران خود کو ایک مزاحمتی قوت ثابت کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ بحران اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محض عسکری طاقت کسی بھی سپر پاور کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ ایران نے اپنی مزاحمت، صبر اور حکمتِ عملی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک کمزور دکھائی دینے والا فریق بھی عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بات کو فیس سیونگ ایکٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ایک لحاظ سے ایران کی جیت کے مترادف ہے۔
