ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کے اندازے غلط کیسے ثابت ہوئے؟

 

 

 

امریکہ اور برطانیہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دینے والی ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے تمام تر انداز غلط ثابت ہوئے ہیں اور وہ ایک بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے سوچا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ایک فوری کامیابی ثابت ہوگی اور اس سے ایرانی حکومت کمزور ہو کر گر جائے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

 

معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے تجزیے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے حکومتوں کو گرانا ممکن نہیں اور ایران کی اسرائیل اور امریکی اتحادی خلیجی ممالک کے خلاف شدید جوابی کارروائی نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کو جنم دے دیا ہے جس نے پورے خطے کو عدم استحکام اور افراتفری میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں نے تنازع کو مزید وسعت دی جبکہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو بھی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

 

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی یہ حکمت عملی ماضی میں امریکا کی ان مداخلتوں کی یاد دلاتی ہے جن کا مقصد خطے کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالنا تھا، جیسا کہ عراق جنگ 2003 اور لیبیا میں 2011 کی نیٹو مداخلت۔ ان کے مطابق ان مہمات کے نتائج تباہ کن نکلے اور امریکا نے افغانستان جنگ سمیت ماضی کی مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ڈاکٹر لودھی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران دوبارہ حملہ کر کے واشنگٹن نے ثابت کر دیا کہ وہ تہران کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ معاہدہ قریب ہے، جبکہ ایرانی قیادت کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے غیر معمولی رعایتیں بھی پیش کی گئی تھیں، جن میں یہ عزم شامل تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار مواد اپنے پاس نہیں رکھے گا۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ نے فوجی کارروائی کو ترجیح دی اور مذاکرات کو دراصل حملے کی تیاری مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

 

اس صورتحال سے عالمی سطح پر یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا ٹرمپ کے دور میں امریکا کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے ایران پر حملے کے لیے مختلف اور بعض اوقات متضاد جواز پیش کیے۔ کبھی اسے ایران سے ممکنہ خطرے کا جواب قرار دیا گیا جبکہ پینٹاگون کے حکام نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایسی کوئی واضح انٹیلی جنس موجود نہیں تھی جو یہ ثابت کرتی کہ ایران فوری طور پر امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔ اسی طرح اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ اس نے ایران کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے پیشگی کارروائی کی، بھی قابلِ اعتبار نہیں تھا۔

 

ملیحہ لودھی کے مطابق ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن کو یہ تاثر تھا کہ ایران اس وقت کمزور ہے کیونکہ اس کے علاقائی اتحادی کمزور پڑ چکے ہیں، اس لیے اسے نشانہ بنانے کا یہ موزوں وقت سمجھا گیا۔ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جسمانی طور پر ختم کر دینے کی حکمت عملی بھی اسی مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے اسے غیر قانونی، پیشگی منصوبہ بندی پر مبنی اور غیر آئینی جنگ قرار دیا جبکہ سینیٹر کرس وین نے اسے حکومت کی تبدیلی کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔

 

سابق خاتون سفیر کے مطابق کے مطابق ایران نے اپنی جوابی حکمت عملی کے تحت جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اور قطر کے مائع قدرتی گیس کے بڑے برآمدی پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں پیداوار عارضی طور پر متاثر ہوئی۔ ڈاکٹر لودھی کا کہنا ہے کہ ایران نے کم لاگت مگر مؤثر ڈرونز کے ذریعے خلیجی ممالک کے مہنگے میزائل دفاعی نظام کو چیلنج کیا ہے، جسے امریکی دفاعی حکام بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

ان حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ میں گیس کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

ٹرمپ اسرائیل کے ہاتھوں کس ویڈیو کی وجہ سے بلیک میل ہوئے؟

ڈاکٹر لودھی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے تہران میں رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جبکہ عراق میں موجود ایرانی کرد عسکریت پسندوں کو مسلح کر کے ایران کے اندر زمینی کارروائی شروع کرانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ اندرونی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی شرط اور یہ بیان کہ انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے کہ ایران پر کون حکومت کرے گا، اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال کا انجام غیر یقینی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ اس جنگ کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی دور رس ہوں گے۔

 

Back to top button