چیف جسٹس بندیال تاریخ میں اپنا نام کیسے لکھوائیں گے؟

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبائی فنانس ایوارڈ، ججوں اور اعلی افسران میں سرکاری پلاٹس کی بند بانٹ، ملازمت پیشہ افراد کی نوکریوں کے تحفظ اور پینشن سے متعلقہ امور سے متعلق سابقہ مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد اور بعض کیسز کی دوبارہ سنوائی جیسے کڑے چیلنج درپیش ہیں اور بندیال قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے تاریخی فیصلے سنا کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا سکتے ہیں۔
سنیئر قانون دان بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ہر چیف جسٹس کے پاس ایشوز کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے کہ جو تاریخ میں ان کے کردار کا تعین بھی کرتی ہے۔ بطور سربراہ سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس بندیال کے دور کا آغاز دو یادگار فیصلوں سے ہوتا ہے۔ ایک وہ جو سابقہ چیف جسٹس نے ذمہ داریوں کے آخری دن اور دوسرا وہ جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بندیال عدالت کے اپنے پہلے باقاعدہ روز تحریر کیا۔ یہ عدالتی فیصلے انصاف کی مستحکم بنیاد اور اساس فراہم کرتے ہیں کہ جن کے ذریعے ریاست اور معاشرے کی گہرائی میں موجود رتبے اور طاقت کو چیلنچ کیا جا سکے۔
سلمان اکرم راجہ کے بقول چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس محسن اختر کیانی، نے ‘نعمان احمد بمقابلہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی’ کیس میں فیڈرل گورنمنٹ امپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کی جانب سے زمین کے مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر حصول کو غیر قانونی قرار دیا۔ یہ ہائوسنگ اتھارٹی وفاقی قانون کے تحت کام کرتی ہے اور اس کی جانب سے زمین کا حصول چنیدہ افراد کو پلاٹس فراہم کرنے کے لئے کیا جا رہا تھا۔ یہ چنیدہ افراد میرٹ سے قطع نظر بالعموم وفاقی ملازمین اور ان کے علاوہ کچھ ‘خاص’ افراد تھے۔
عدالت نے اس عمل کو ‘الیٹ کیپچر’ اور ‘پبلک ویلتھ’ کو غصب کرنے سے تعبیر کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ اسلام آباد کے کئی خاص سیکٹرز میں موجود 50 لاکھ یا اس کے قریب رقم کے عوض الاٹ کیے جانے والے پلاٹس اکثر ایک ارب روپے کی مارکیٹ ویلیو رکھتے ہیں اور فروخت کے لئے اعلانیہ بولی منعقد ہونے کی صورت میں ریاست کو ان پلاٹس کی اتنی ہی قیمت ادا کرنی ہوتی۔ لیکن اس کے برعکس الاٹیز کو موقع دیا گیا کہ وہ مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت کا فائدہ اٹھائیں۔
پیکا قانون کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا
دوسری جانب ریاست اور بڑی تعداد میں عوام اسلام آباد کے ہر سیکٹر میں الاٹمنٹ کی مد میں 300 ارب روپے تک کے نقصان کا شکار ہیں۔ یہ عوام کی محرومی اور پرائیویٹ طور پر حاصل کیے جانے والے فوائد کا وہ سلسلہ ہے جو قانون کی غلط تشریحات کے ذریعے برسوں سے اسی طرح چلا آ رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ‘پبلک انٹرسٹ’ کے تناظر میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی ایکٹ، 2020 اور لینڈ اکوزیشن ایکٹ، 1894 کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین کے جبری حصول اور دولت بنانے والے تمام افراد کو آڑے ہاتھوں لیا۔ نوازے جانے والوں میں سپریم کورٹ سمیت تمام سطحوں کے جج بھی شامل ہیں، لہٰذا فیصلے میں خود احتسابی اور مفادات سے بلند تر رویے کی گزارش بھی کی گئی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج وفاقی حکومت کے ملازمین نہیں لہٰذا ان کا ایک ‘خاص گروپ’ کے اراکین کے طور پر پلاٹس کی رعایتی قیمتوں سے مستفید ہونا بلا جواز اور خلافِ قانون ہے۔ ایسے پلاٹس کی فراہمی اعلٰی عدالتوں کے ججز کی ان مراعات میں شامل نہیں کہ جن کا اطلاق ان کی تعیناتی کی صورت میں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وفاقی حکومت کے ملازمین بھی اس بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کہ انہیں رہائشی پلاٹس مارکیٹ سے بہت کم قیمت ہر الاٹ کیے جائیں۔ اس طرح نوازے جانا ان کے ملازم ہونے کے فوائد کا حصہ نہیں۔
بقول سلمان اکرم راجہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ اس فیصلےکی منطق کی زد صرف سویلینز پر ہی نہیں پڑتی۔ دراصل اطہر من اللہ نے پاکستانی عوام کو ان کی زمین کا حق اور اس کی منصفانہ قیمتیں واپس دلانے کا اعادہ کیا۔ معاملہ جلد ہی سپریم کورٹ میں جائے گا، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اس بینچ کی تشکیل سے ہوگا کہ جس کے حوالے معزز چیف جسٹس بندیال یہ کیس کریں گے۔
سلمان راجہ ایک اور اہم قانونی مسئلے کی نشاندھی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی سربراہی میں یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنے والی صوبائی حکومتوں نے اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد سے اس صوبائی قانون سازی کو سپانسر کیا جس سے مقامی حکومتیں قائم ہو سکیں لیکن حقیقت میں وزرا اعلیٰ کی براہ راست گرفت میں موجود ترقیاتی اتھارٹیز کو مالی و انتظامی حوالوں سے مضبوط اور مقامی حکومتوں کو کسی بھی حقیقی طاقت سے محروم رکھا گیا۔ کراچی اور لاہور جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کی ترقیاتی اتھارٹیز اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت بلڈنگ کنٹرول، سیویج اور ویسٹ منیجمنٹ سمیت بہت سے شعبوں نے بالخصوص شہری مراکز میں منتخب مقامی حکومتوں کے کرنے کے لئے کچھ خاص باقی نہیں رہنے دیا۔
اسی حوالے سے سپریم کورٹ نے کئی کیسز کے فیصلوں میں میونسپل سے متعلق بنیادی امور، جیسا کہ ‘لینڈ یوز’ کی منصوبہ بندی، کو مقامی حکومتوں کو منتقل نہ کرنے اور ان کے فیصلوں کی تنسیخ کے اختیار کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ پر عمل درآمد کے ذریعے مقامی حکومتوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم کا بھی حکم دیا گیا۔ بقول راجہ بالخصوص ‘ایم کیو ایم بمقابلہ پاکستان’ کیس کا فیصلہ بنیادی جمہوری سطح پر ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
اور عین یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔ نوکری پیشہ افراد کے کیسز کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بندیال عدالت کے پاس موقع ہوگا کہ وہ ان دکھی ملازمین کے حقوق کے حوالے سے پھر سے کیس کی جانچ کرے۔ پنشن کے فوائد کا حصول بھی ایک علیحدہ جنگ کا متقاضی ہے۔ سپریم کورٹ کے کم از کم ایک فیصلے میں پنشنز کو اداروں سے متعلق مسئلہ قرار دیا گیا کہ جسے ایمپلائرز نے سلجھانا ہے۔
دیگر فیصلوں میں پنشنز کو ‘پروپرائٹی رائٹ’ سے تعبیر کیا گیا۔ طبقاتی اور دیگر ناہمواریوں نے قانون کے اس جز پر ایسے نقش چھوڑے ہیں کہ جن کا تعلق معاشرے کے چند کمزور ترین افراد کےحقوق سے ہے۔ اس کی قطع برید ضروری ہے۔ امید ہے کہ بندیال عدالت کی ‘فیوچر لیگیسی’ تکریم کے ساتھ یاد رکھی جائے گی۔
